عمران انتشار اور فساد کے راستے پر کیوں گامزن ہیں؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کی کوشش کے دوران زمان پارک میں تصادم کا معاملہ پاکستان میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ گو کہ عدالت نے عمران خان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے لیکن اس میں حکومت کی خواہش بھی شامل ہے۔سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں پہلے سے ہی سیاسی عدم استحکام ہے اور ایسے میں زمان پارک میں ہونے والے تصادم سے بے یقینی مزید بڑھ رہی ہے۔

سینیئر صحافی مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں جو کچھ لاہور میں ہوا وہ اس سے پہلے پاکستان اور ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں نہیں دیکھا گیا۔‘انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ہاں کی تاریخ اور روایت رہی ہے کہ سیاسی لیڈر خود گرفتاری دیتے ہیں یا گرفتاری سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ عدالتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسی ایک بھی مثال نہیں جس میں کسی سیاسی رہنما نے ایک عدالتی حکم کے مقابلے میں اپنے کارکنوں کا سہارا لیا ہو۔

مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ہمیشہ احتجاج کے دوران ڈنڈے کھائے اور تحریک کے دوران گرفتار ہوئے ہیں۔ کبھی ریاست پر حملہ آور نہیں ہوئے۔ تاہم تحریک انصاف کے کارکنوں نے پولیس اور رینجرز پر حملہ کر کے شدت پسندی کا ثبوت دیا ہے۔

سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کے دو پہلو ہیں، ایک یہ کہ سیاسی رہنما کی گرفتاری سے اس کی مقبولیت کا گراف اُوپر جاتا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اُن کی گرفتاری عوامی حلقوں کے لیے بھی پیغام ہو گی کہ اب عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ نہیں رہے۔سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ عمران خان پہلے ہی پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں، ایسے میں اُن کی گرفتاری سے اُن کے لیے ہمدردی مزید بڑھے گی۔اُن کے بقول عمران خان کی گرفتاری پی ٹی آئی کے ووٹرز کے لیے بھی پیغام ہے کہ اب عمران خان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات کم ہیں۔سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں نااہل کروایا جائے گا۔

تجزیہ نگار زاہد حسین کہتے ہیں کہ عمران خان کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصادم بڑھتا چلا جارہا ہے اور اس صورتِ حال میں حکومت کو فوج کی حمایت بھی حاصل ہو گی۔اُن کے بقول حکومت اور تحریکِ انصاف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے حکمتِ عملی بنا رہے ہیں۔ لیکن اس سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔ زاہد حسین کا کہنا تھا کہ اگرچہ فوج واضح کر چکی ہے کہ وہ سیاست سے دُور ہے۔ لیکن پاکستان کے معروضی حالات میں ایسا ممکن نہیں ہے۔اُن کے بقول حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کی کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں ہے بلکہ دونوں جانب سے حالات کے مطابق معاملات کو دیکھا جا رہا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت سے علیحدگی کے بعد سے احتجاج کی سیاست کر رہی ہے لیکن عمران خان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ احتجاجی سیاست کو طول دینے سے انہیں نقصان ہوگا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے بظاہر انتخابی مہم شروع کر دی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ عمران خان کی گرفتاری سے ان کی انتخابی مہم متاثر ہو گی۔اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ محاذ آرائی کے بجائے الیکشن میں جائے کیوں کہ پرامن انتقالِ اقتدار بھی اسی صورت میں ہو گا جب محاذ آرائی کم ہو گی۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ریاستی قوانین کے سامنے مزاحمت سیاسی رہنماؤں کا شیوہ نہیں ہے۔ لہذٰا عمران خان کو چاہیے کہ وہ قانون کی پیروی کرتے ہوئے گرفتاری دے دیں۔

زاہد حسین کہتے ہیں کہ سیاسی انتشار اب تشدد میں تبدیل ہو چکا ہے جس سے سیاسی نظام کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ عمران خان کی گرفتاری عدالتی حکم پر کی جارہی ہے لیکن اس کے لیے پولیس کی جانب سے تشدد کا استعمال بتاتا ہے کہ اس میں حکومت کی خواہش بھی شامل ہے۔وہ کہتے ہیں کہ عمران خان شروع سے ہی مزاحمت کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں اور اب جو تشدد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔زاہد حسین نے کہا کہ ایسے میں جب دو صوبوں میں انتخابات کی تاریخ دی جاچکی ہے تشدد کی یہ صورتِ حال انتخابات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

عمران خان کی ناجائز بیٹی اور فحش گفتگو

Back to top button