خان خود کو لاڈلا اور قانون سے بالاتر کیوں سمجھتا ہے؟

توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے باوجود گرفتاری پیش نہ کر کے عمران خان نے ثابت کر دیا کہ وہ نہ تو کوئی لیڈر ہیں اور نہ ہی قانون کی عملداری پر کسی قسم کا یقین رکھتے ہیں۔عمران خان زمان پارک میں اسلام آباد پولیس کی آمد پر اپنے عمرانڈو رہنماؤں کے ذریعے بہانے بازی سے گرفتاری سے تو بچ گئے تاہم انھوں اپنے بھگوڑے ہونے پر مہر تصدیق ثبت کروا دی کیونکہ سیاسی رہنما نہ تو گرفتاریوں سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی پابند سلاسل ہونے کے خوف سے جھوٹ اور بہانوں کا سہارا لیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق توشہ خانہ کیس میں عمران خان نے یوتھیوں کے ذریعے گرفتاری میں رکاوٹ ڈال کر یہ ثابت کر دیا کہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ قانون سب کے لئے ہے لیکن ان کے لئے نہیں ہے حالانکہ عمران خان کو اچھی مثال قائم کرنی چاہئے تھی ، تاریخ میں ایسی مثال نہیں ہوگی کہ ایک لیڈر جیل بھرو تحریک کا اعلان کرے خود ضمانتیں کرا رہا ہو اور اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کروا رہا ہو۔ سینئر اینکرپرسن و تجزیہ کار ،منیب فاروق نے کہا کہ جب عدالت نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں اور عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ آپ انہیں گرفتار کریں۔جب پولیس ان کی گرفتاری کے لئے آئی تو عمران خان کو اچھی مثال قائم کرنی چاہئے تھی ۔پولیس آگئی عمران خان سابق وزیراعظم ہیں انہیں چاہئے تھا کہ وہ خود قانون کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے گرفتاری دے دیتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو جب گرفتار کیا گیا تھا تو کیا انہو ں نے مزاحمت کی تھی۔آصف علی زرداری کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کیا توکیا انہوں نے مزاحمت کی تھی ڈنڈے اٹھا لئے تھے۔
مریم نواز، میاں نواز شریف اور دیگر سیاسی قائدین، جن کو گرفتار کیا گیا کیا انہو ں نے ڈنڈے اٹھا لئے اور مزاحمت کی تھی۔جب ریاست نے فیصلہ کیا ان کو گرفتاری کرنے کا توانہوں نے گرفتاری دے دی۔ تاہم عمران خان یہاں سارا دن فرماتے ہیں کہ قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہئے لیکن خود قانون اور عدالتی احکامات کو ماننے کو تیار نہیں۔عمران خان ہر قسم کی قانونی کارروائی سے خود کو بالاتر سمجھتے ہیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کو نہ ریاست کا کوئی ادارہ گرفتار کرسکتا ہے نہ انہیں کوئی عدالت طلب کرسکتی ہے اس لئے کہ وہ بہت مقبول لیڈر ہیں۔یہ فسطائیت کی ایک بدترین مثال ہے جو عمران خان آج قائم کررہے ہیں۔
منیب فاروق نے مزید کہا کہ عمران خان بتا رہے ہیں کہ قانون سب کے لئے ہے لیکن ان کے لئے نہیں ہے وہ اس کے اوپر عمل درآمد کیلئے تیار نہیں ۔پاکستان میں ریاستی اداروں اور پولیس کو تماشہ بنا دیا گیا ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ فرما رہے ہیں کہ اگر عمران خان گرفتار کرنا ہوتا تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ رانا صاحب عمران خان کو اگر گرفتار کرنا ہے تو کرلیجئے اگر نہیں کرنا تو پھر پولیس والوں کو خوار یا ذلیل ہونے کے لئے مت بھیجئے۔
سینئر اینکرپرسن و تجزیہ کار ،شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ عمران خان کے اوپر اس حکومت میں بہت سارے مقدمات بنائے گئے ہیں اورعمران خان درست کہتے ہیں ان کے خلاف بہت سارے فضول کیسز بھی بنائے گئے ہیں۔شاہزیب خانزاد کے مطابق پی ٹی آئی کی حکمت عملی یہ ہے کہ حکومت نےجتنے بھی فضول مقدمات بنائے گئے ہیں اس میں تو عمران خان عدالت میں پیش ہوجاتے ہیں ۔توشہ خانہ کا کیس، جس میں عمران خان کو پتہ ہے کہ ان کے خلاف فرد جرم عائد ہونی ہے وہ اس میں پیش نہیں ہوتے ہیں۔اسی لئے عدالت نے ان کے اس کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان عدالت میں پیش نہیں ہوئے عدالت کی طرف سے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کئے گئے ہیں جس کی پاسداری ریاست کو کرانی ہے اور پولیس کا اس طرح مذاق بنایا جارہا ہے۔ عمران خان واضح کررہے ہیں کہ وہ گرفتار نہیں ہونا چاہتے چاہے اس کی قیمت ان کے اپنے کارکنوں اور پارٹی رہنماؤں کو ہی ادا کرنی پڑے۔۔
شاہزیب خانزادہ مزید کہتے ہیں کہ آج تک تاریخ میں ایسی مثال نہیں ہوگی کہ ایک لیڈر جیل بھرو تحریک کا اعلان کر ے خود ضمانتیں کرا رہا ہو اور اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کروا رہا ہو۔عمران خان کی اس وقت یہ حکمت عملی ہے کہ انہوں نے اس وقت بہت جارح ہوکر اسٹیلشمنٹ کو بیک فٹ پر ڈالا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کا رول آف لاء یہی ہے کہ آپ میرے ساتھ ہیں تو آپ رول آف لاء کے ساتھ ہیں اگر میرے خلاف ہیں تو پھر رول آف لاء کے خلاف ہیں۔خیال رہے کہ 5 مارچ کے روز پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کیلئے لاہور میں دن بھر ہلچل مچی رہی ‘پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکنوں سے پولیس کی مڈبھیڑ‘ گرفتاری سے بچنے کیلئے عمران خان نے پولیس کو ’’ماموں ‘‘ بنادیا‘۔
اسلام آبادولیس کے مطابق ایس پی کمرے میں گئے مگر وہاں پی ٹی آئی چیئرمین موجودنہیں تھے ‘ خالی کمرہ دکھا کر شبلی فراز نے نوٹس پر لکھ دیا کہ عمران خان دستیاب نہیں ‘عمران خان کچھ دیر بعد زمان پارک سے ہی برآمد ہوئے ‘ کارکنوں سے خطاب بھی کیا‘ پولیس لاہور سے خالی ہاتھ روانہ ہوگئی ‘صرف نوٹس کی تعميل کرائی جاسکی‘ اسلام آباد پولیس نے غلط بیانی پر شبلی فرازکے خلاف کارروائی کا اعلان کردیا ہے۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کا کوئی معاملہ نہیں ہے‘ عمران خان عدالت میں پیش ہونے اور سزا سے بچنے کے لیے بہانے کر رہے ہیں‘ عمران خان کی گرفتاری مشکل کام نہیں ہے‘ گرفتار کرنا ہوتا تو برگر رکاوٹ نہیں بن سکتے تھے‘ جس دن حکومت نے فیصلہ کیا۔ انہیں گرفتار کر لیا جائے
