عمران خان نے مقبولیت کے لئے کون سے ممنوعہ سٹیرائیڈز استعمال کئے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار سید حماد غزنوی نے کہا ھے کہ عمران خان کے حامیوں کا خیال ہے کہ کپتان کا سب سے بڑا جرم ان کی مقبولیت ہے، باقی سب افسانے ہیں۔ عمران خان کی مقبولیت دو ستونوں پر کھڑی ہے، پہلا ان کی حکومت جانے کے بعد مہنگائی میں اضافہ اور دوسرا ان کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ. یہ جو مقبولیت کی دوڑ میں عمران خان آگے آگے نظر آ رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سیاسی سٹیرائیڈز (Steroids) استعمال کئے ہوئے ہیں جو کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے اصول کی نفی ہے۔ اصولاً ان کا ’مقبولیت میڈل‘ واپس لیا جانا چاہئے ۔ اپنے ایک کالم میں حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کی اصطلاح کھیلوں کی دنیا سے لی گئی ہے، یعنی دو حریفوں کو مقابلے کے لیے ایک سے حالات و ضوابط اور جیت کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ایک میچ میں ایک کرکٹ ٹیم ایک پِچ پر بیٹنگ کرے، اور دوسری ٹیم دوسری پِچ پر، ایک ٹیم شیشے جیسی ہموار اور سیدھی وکٹ پر بیٹنگ کرے اور دوسری کرکٹ ٹیم اکھاڑے جیسی اونچی نیچی پِچ پر باری لے۔ بہت مرتبہ سُنا گیا ھے کہ اولمپکس میں کسی اتھلیٹ نے میڈل جیتا اور بعد ازاں اُس سے یہ میڈل واپس لے لیا گیا، پچھلے پچپن سال میں اولمپکس کمیٹی لگ بھگ 154 میڈل واپس لے چکی ہے، میڈل واپس لینے کی بنیادی وجہ ایک ہی ہوتی ہے، جیتنے والے اتھلیٹ پر الزام ہوتا ہے کہ اس نے لیول پلیئنگ فیلڈ کے اصول کی نفی کی ہے، سٹیرائیڈز یا کوئی اور ممنوعہ مواداستعمال کیا ہے جس سے اس کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے دوسری طرف اگر فطرت پر نظر ڈالیں تو ایک عالی شان نا انصافی کے منظر سے واسطہ پڑتا ہے، زندگی اور تاریخ اپنی ماہیت میں لیول پلیئنگ فیڈ کی ضد ہیں۔ بہرحال، انسانوں نے لیول پلیئنگ فیلڈ کو ایک مثال کے طور پر قبول کیا ہے، اور اسے مہذب معاشرے کی منزل قرار دیا ہے۔ کتاب ’ قومیں ناکام کیوں ھوتی ہیں ‘ کے مصنفین کے مطابق اجارہ داریوں کا ٹوٹنا اورلیول پلئینگ فیلڈ کا فراہم کیا جانا، یعنی قانون کی حکم رانی، مہذب و ترقی یافتہ معاشرے کی طرف سب سے بڑی جست قرار دی جا سکتی ہے۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں یہ لیول پلیئنگ فیلڈ کی اصطلاح آج کل کثرت سے استعمال کی جا رہی ہے۔اس کا سیدھا سادہ سا مطلب ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، انہیں اور ان کی پارٹی کو اگلے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کی مکمل آزادی دی جائے، یعنی لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی جائے۔اس کے جواب میں ہمارے مسلم لیگی دوست کہتے ہیں کہ اگر 2018ء اور2024 ءکے انتخابات کو ایک دوسرے کے پہلو میں رکھ کر دیکھا جائے تو یہ آپ کو پاکستان کی انتخابی تاریخ کا سب سے بڑا لیول پلیئنگ فیلڈ نظر آئے گا، مگر ہم یہ دلیل نہیں مانتے، 2018ءکا الیکشن تو غالباً پاکستان کی تاریخ کا بدترین الیکشن تھا، ایک غلط روایت کو کیسے سند مان لیں۔ اور یہ جو لیول پلیئنگ فیلڈ ہے یہ کسی دستاویز کا نام نہیں ہے، آپ اسے آئین کی کچھ شقوں کی تشریح کہہ سکتے ہیں، آپ اسے قانون کی حکم رانی کی تفسیر کہہ سکتے ہیں، یعنی قانون سب کے لیے برابر ہے، اور جب معاشرے کا کوئی فرد آئین و قانون توڑتا ہے یا فاترالعقل قرار پاتا ہے تو عین اُسی لمحے ریاست اُس شخص سے لیول پلیئنگ فیلڈ کا حق چھین لیتی ہے۔ یہی آئین کا حکم ہے، یہی قانون کا منشا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان کا لیول پلیئنگ فیلڈ کا حق چھن چکا ہے؟ یقین جانیے اگر آئین توڑنے کی پاداش میں ان سے یہ حق چھینا جاتا تو ہم انتہائی مطمئن و مسرور ہوتے کیوں کہ بہرحال اپنی حکومت کے جانے سے پہلے عمران خان نے آخری ہفتے میں کم از کم تین مرتبہ ببانگِ دُہل آئین توڑا تھا۔مگر افسوس کہ وہ اس جُرمِ کبیرہ کی وجہ سے جیل میں نہیں ہیں۔خبر یہ ہے کہ عمران خان نو مئی والے دن عساکر کے اندر ایک منظم سازش اور ناکام بغاوت کاحصہ تھے،اس جرم کے باعث اگر ان سے لیول پلیئنگ فیلڈ کا حق چھین لیا جاتا تو قابلِ فہم تھا، مگر وہ اس مقدمے کے تحت بھی جیل میں نہیں ہیں۔
حماد غزنوی کے مطابق ویسے تو سائفر، القادر ٹرسٹ، فارن فنڈنگ، سارے ہی انتہائی سنجیدہ نوعیت کے کیس ہیں، لیکن کیوں کہ ماضی میں اس ملک میں مقبول راہ نمائوں کے خلاف اتنے اوٹ پٹانگ کیس بنائے گئے ہیں کہ اب سنجیدہ کیسز کو بھی اسٹیبلشمنٹ کی کارستانی سمجھا جاتا ہے۔ بہرحال عمران خان مقبول تو ہیں، اس میں تو کوئی شبہ نہیں، اور اس بارے بھی تجزیہ کاروں میں اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ ان کی مقبولیت دو ستونوں پر کھڑی ہے، ان کی حکومت جانے کے بعد مہنگائی میں اضافہ اور ان کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ۔اگر اگلے انتخاب میں واقعی کوئی صحیح معنیٰ میں لیول پلیئنگ فیلڈ کا اہتمام کرنا چاہتا تھا تو اس کی دو شرائط تھیں، پہلی تو یہ کہ پی ڈی ایم حکومت کو جانے سے پہلے یہ اجازت دی جاتی کہ وہ تمام بین الاقوامی معاہدوں کو بالائے طاق رکھ کر پٹرول اور بجلی کی قیمتیں زمیں بوس کر دے، جیسے عمران خان نے کی تھیں، اور دوسری شرط اس سے بھی کڑی تھی، یعنی سیاسی راہ نمائوں کو یہ اجازت مرحمت فرمائی جائے کہ وہ ایک سال بے تکان طاقت وروں کی شان میں ’قصیدے‘ پڑھیں، انہیں ’میر جعفر اور میر صادق کے القابات سے نوازیں، کبھی پیار سے انہیں جانور کہیں، کبھی غدار ۔ اور عوام طاقت وروں کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے والے ان بہادروں کے سر پر مقبولیت کا تاج پہنا دیں۔ تو یہ جو مقبولیت کی دوڑ میں عمران خان آگے آگے نظر آ رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سیاسی سٹیرائیڈز استعمال کئے ہوئے ہیں جو کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے اصول کی نفی ہے۔ اصولاً ان کا ’مقبولیت میڈل‘ واپس لیا جانا چاہیے۔ آپ چاہیں تو
اداکار سید جبران نے شوبز کیرئیر کا آغاز کیسے کیا؟
اولمپکس والوں سے تصدیق کر سکتے ہیں۔
