عمران کی جانب سے دوبارہ سازش کا منصوبہ بے نقاب

سابق وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی کی اعلی قیادت کی بجائے ڈائریکٹ کارکنوں سے ملکر شرپسندی کی نئی پلاننگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اسی پیشرفت کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں نے ضمانتوں پر رہا ہونے والے 9 مئی کو اہم ریاستی املاک پر حملوں اور جلائو گھیرائو میں ملوث 27 شرپسندوں کو دوبارہ حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ ضمانتوں پر رہا ہونے والے یہ کارکنان اتوار کے روز زمان پارک پہنچے تھے۔ واپسی پر انہیں دوبارہ گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ لاہور پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ، یہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان ہیں۔ جو رہائی کے بعد عمران خان سے اگلا لائحہ عمل جاننے کیلیے زمان پارک پہنچے تھے۔

ذرائع کے مطابق، ابتدائی تفتیش میں پتا چلا ہے کہ عمران خان نے جلد ہی اپنی گرفتاری کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہدایات دیں کہ اس صورت میں 9 مئی کی طرح کا ردِ عمل دینا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ان کارکنان کو قلعہ گجر سنگھ تھانے کی پولیس نے مختلف ناکوں سے گرفتار کیا ہے۔ زمان پارک کے اردگرد پولیس نے سیکورٹی خاصی بڑھائی ہوئی ہے۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سمیت دیگر اداروں نے بھی زمان پارک اور اس کے اردگرد نظر رکھی ہوئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین تحریک انصاف سے ان کارکنان کی ملاقات ہوئی اور اس ملاقات کے بعد ان کی گرفتاری خاص شواہد کی بنیاد پرکی گئی ہے۔ کیونکہ ان کارکنان کی گرفتاری کے بعد چیئرمین تحریک انصاف نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ، اگرمجھے دوبارہ گرفتارکیا گیا تو پھر نومئی جیسے واقعات ہوں گے۔ یعنی انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھمکی دی ہے کہ انہیں تنہا نہ سمجھا جائے۔ کارکنان اب بھی ان کی ایک کال پر ملک میں دوبارہ انتشار پھیلا سکتے ہیں۔ یہ ویڈیو پیغام ان کارکنان کے زمان پارک سے باہر آ کرگرفتارہونے پر جاری کیا گیاہے۔

اس حوالے سے زمان پارک کے علاقے میں جیو فینسگ مسلسل کی جارہی ہے اور علاقے بھر میں سیل فون کی کالوں کا ریکارڈ رکھا جارہا ہے۔ ان کارکنان نے باہر نکل کر مختلف لوگوں سے ٹیلی فون پر بات بھی کی تھی، جس بنیاد پر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ بعض ٹیلی فون کالز خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کی گئی تھیں، جس وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کان کھڑے ہوگئے۔

مبصرین کے مطابق یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب عمران خان اپنے خاص لوگوں کے بجائے ایسے عام کارکنان کو استعمال کر رہا ہے جن کا عمران خان پر اندھا اعتماد ہے۔ یہ لوگ عمران خان کے لیے ہر سطح پر جانے کو تیارہیں۔ کیونکہ تحریک انصاف میں کپتان کے قریبی ساتھی یا تو پارٹی چھوڑ چکے ہیں یا پھر وہ مفرور ہیں۔ اور ان تک پیغام پہنچانا ناممکن نہیں تو مشکل امر ضرور ہے۔ اس لیے اب کارکنان کو ذریعہ بنا کر لوگوں تک پیغام پہنچایا جا رہا ہے۔درجنوں کارکنان میں سے ستائیس کا زمان پارک آکر عمران خان سے ملاقات کرنا، اس بات کو بھی تقویت دیتا ہے کہ یہ کارکنان اب عمران خان کے لیے بہت خاص ہیں۔ ان کارکنان سے مزید تفتیش جاری ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ ان سے کارآمد معلومات ملیںگی۔ جبکہ خیبر پختون میں جن لوگوں کو ان کارکنان نے فون کیا، ان کے بارے بھی صوبائی حکومت کو بتا دیا گیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ وہاں سے بھی گرفتاریاں جلد ہونگی۔ یہ شرپسند عناصر ہیں جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ پیسے لے کر کسی بھی قسم کی کارروائیوں کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔

مبصرین کےمطابق اسی شرپسندانہ حکمت عملی کی وجہ سے ہی عمران خان نے پچھلے کچھ دنوں سے جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ کبھی وہ ریاستی اداروں کو اپنے اکیلے نہ ہونے کی دھمکی دیتے ہیں کبھی دوبارہ گرفتاری پر 9 مئی جیسے واقعات سے ڈراتے ہیں۔ کبھی سقوط ڈھاکہ کی مثالیں دیتے ہیں اور کبھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کا واحد نقطہ نظر یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کسی صورت دوبارہ انھیں گود لے لے اور کندھوں پر بٹھا کر ایوان اقتدار میں پہنچا دے حالانکہ مستقبل قریب میں اس کی

پارٹی عہدہ چھوڑنے والے اسد عمر کی PTIسے چھٹی؟

امید نظر نہیں آتی۔

Back to top button