فیض حمید نے عمران کے 60 سے زائد جلسے سپانسر کیے

انکشاف ہوا ہے کہ فیض حمید کے دور اقتدار میں پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقدہ پی ٹی آئی کی 60 سے زائد ریلیوں کو آئی ایس آئی ٹیکنیکل ونگ نے سپانسر کیا۔ سینئرصحافی عمران شفقت نے اپنے ایک حالیہ بلاگ میں دعوی کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نےگزشتہ سال 26 مئی سے پاکستان بھر میں جلسوں کا آغاز کیا اور اس سلسلے میں تقریباً 60 سے 70 جلسے کیے گئے جن کو آئی ایس آئی کےٹیکنیکل ونگ نے اس رقم کے ذریعےاسپانسر کیا جو رقم انہوں نے امیر تاجروں کو بلیک میل کرکے حاصل کی تھی۔
عمران شفقت نے مزید کہا کہ اگر خفیہ ایجنسی کا غلط استعمال کیا جائے تو آئی ایس آئی کا ٹیکنیکل ونگ سب سے خوفناک ونگ ہے کیونکہ اس ونگ کے بنیادی مقاصد میں جیوفینسنگ، آئی ٹی ٹیکنالوجی، کال ریکارڈنگ اور نگرانی شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض نے اس ونگ میں ریٹائرڈ فوجی افسران کو تعینات کیا۔انہوں نے کہا کہ ادارے کے اندر لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے جو سیٹ اپ بنایا تھا اسے توڑا جا رہا ہے۔ اس سے قبل کرنل اور میجر رینک کے 30-32 افسران کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔ اب ٹیکنیکل ونگ کے افسران کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔عمران شفقت کا مزید دعوی ہے کہ حال ہی میں بہاولپور میں دو اعلیٰ افسران کو گرفتار کیا گیا ہے، اور کئی کو نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض نے اپنے من پسند افسران کو تعینات کر کے آئی ایس آئی کے اندر اپنا ایک ادارہ قائم کر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فیض نے جونیئر افسران سے براہ راست رابطہ کرکے انہیں پی ٹی آئی کے حق میں کام سونپنے کی حکمت عملی اپنائی جبکہ ماضی میں ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ طریقہ کار تھا جس کے ذریعے عمران خان کو حمایت اور مدد فراہم کی جا رہی تھی۔
عمران شفقت کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے مختلف سینئر رہنما جن میں شاہ محمود قریشی، علی زیدی، پرویز خٹک، فواد چوہدری اور پرویز الٰہی شامل ہیں جو اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں اور وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما قاسم سوری اور یاسمین راشد لاہور کے جلسے سے جلد روانہ ہوگئے۔ یاسمین راشد مایوس ہو چکی ہیں کیونکہ عمران خان نے ان کی کال لیک ہونے کے بعد ان کا سخت مذاق اڑایا تھا، جس میں وہ صدر علوی سے کہہ رہی تھیں کہ کسی بھی بڑے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے وہ عمران خان کو گرفتاری دینے پر آمادہ کریں۔
یاد رہے کہ جنرل فیض حمید کو پراجیکٹ عمران کا سرغنہ قرار دیتے ہوئے مریم نواز ان کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کر رہی ہیں اور وہ مختلف موقع پر اس بات کا برملا اظہار کرتی نظر آتی ہیں کہ تحریک انصاف اب بھی جنرل فیض نیٹ ورک کی وجہ سے فیضیاب ہو رہی ہے۔ خیال رہے کہ جنرل فیض حمید کا خاندان پہلے ہی باقاعدہ تحریک انصاف کا حصہ ہے۔ جنرل فیض حمید کے قریبی حلقے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ خود سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن وہ اسے صرف ممبر پارلیمان بننے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ وہ اپنا سیاسی کریئر اس سے زیادہ اور اس سے آگے دیکھ رہے ہیں۔ فیض حمید کا خیال ہے کہ وہ تحریک انصاف اور اس کے سوشل میڈیا فالورز میں کافی مقبول ہیں۔
اس لئے پی ٹی آئی میں ان کی گنجائش موجود ہے۔ ویسے بھی عمران خان کی جماعت کو 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے اقتدار تک پہنچانے میں فیض حمید کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس لئے ان کے قریبی ذرائع کے مطابق عمران کی ممکنہ نااہلی کے بعد فیض حمید خود کو تحریک انصاف کی متبادل قیادت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے ایک بھر پور سیاسی اننگز کھیل سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ فیض ابھی ساٹھ برس کے بھی نہیں ہوئے اس لئے ایک بھر پور سیاسی اننگز کھیلنے کے لئے ان کے پاس کافی وقت موجود ہے۔ تاہم فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد آئین کے مطابق فیض حمید پر دو سال کے لئے عملی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی ہے لیکن وہ ان دو برسوں میں اپنے نئے کیرئیر کے لیے نیٹ پریکٹس کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی رائے میں 2023 کے الیکشن کے بعد ان کے لئے تحریک انصاف میں بطور متبادل سامنے آنے کا بہترین وقت ہوگا۔ فیض حمید 2023 سے اگلے الیکشن میں اپنا سیاسی کردار دیکھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 10 دسمبر کو ریٹائرمنٹ کی منظوری کے بعد 14 دسمبر کو فیض کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انہیں اپنے آبائی علاقے چکوال میں ایک سیاسی اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ کہ اس اجتماع کا انتظام جنرل فیض کے بھائی سابق پٹواری نجف حمید نے کیا تھا جو پہلے ہی تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔یاد رہے کہ فیض حمید نے جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف کا چارج سنبھالنے سے قبل ہی ریٹائر ہو جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جنرل باجوہ نے اپنی سروس کے آخری دن انکی ریٹائرمنٹ کی منظوری دی تھی۔ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ان کی ریٹائرمنٹ اوکے کر دی۔ اس طرح دس دسمبر کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا فوج میں آخری دن تھا اور وہ اب ریٹائر ہو کر گھر جا چکے ہیں۔
