کیا عمران خان انتخابی سیاست سے مکمل مائنس ہو چکے ہیں؟

سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ غیراعلانیہ انڈراسٹینڈنگ نظر آرہی ہے، تاہم سپریم کورٹ کے فل بنچ کے فیصلے کے بعد نواز شریف کیلئے صورتحال واضح نہیں ہے، کچھ قانونی ماہرین کا خیال ہے نواز شریف کی قانونی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔
جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز تین چار ماہ پہلے تک ن لیگ کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کا مطالبہ کرتی تھیں جو کافی حد تک پورا ہوگیا ہے، اب پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا شکوہ کررہی ہیں، دوسری طرف اختر مینگل نے بھی لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے پر الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دیدی ہے۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں تحریک انصاف کے ساتھ ڈیل اور ڈھیل کی خبریں زوروں سے زیر گردش ہیں تاہم سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور حکومتی ذرائع کہتے ہیں عمران خان کے ساتھ نہ کسی نے ڈیل کیلئے رابطہ کیا نہ وہ ڈیل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، حامد میر کے مطابق 2018ء کے الیکشن سے پہلے نواز شریف نااہل اور جیل میں تھے، آئندہ الیکشن میں عمران خان بھی جیل میں ہوں گے اور الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ حامد میر نے کہا کہ ڈاکٹر عارف علوی اگلے چند دنوں میں کچھ لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں کرسکتے ہیں، عارف علوی کی کوشش ہوگی کہ ایوان صدر کو مرکز بنا کر گرینڈ ڈائیلاگ شروع کیے جائیں اور الیکشن کی تاریخ جلد از جلد دیدی جائے۔
دوسری جانب نیا دور کی ایک رپورٹ کے مطابق نواز شریف کی واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ اب تو ان کو ہٹانے والی کہانی کا پول بھی کھل چکا ہے جس پر کوئی شرمندہ ہو یا نہ ہو مگر اس کو تنقید کا سامنا ضرور کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عوامی ہمدردیاں نواز شریف کے ساتھ ہیں اور اب عدلیہ سے لے کر اسٹیبلشمنٹ تک کہیں بھی ان کی واپسی پر کوئی تحفظات نہیں ہیں۔ مبصرین کے مطابق نوازشریف کی وطن واپسی پر رکاوٹ کی باتیں ان کے چار ججز اور دو جرنیلوں کے احتساب کے مطالبے پر ہونی شروع ہوئیں اور ان باتوں پر بعض حلقوں بشمول ان کی جماعت میں بھی تشویش پیدا ہوئی مگر اس سے کوئی اس طرح کا خطرہ قطعاً بھی نہیں جو نواز شریف کے سیاسی کردار یا قد کاٹھ سے زیادہ ہو۔ ہاں البتہ ان کو قائل ضرور کیا گیا کہ اب ملک کے معاشی حالات سیاسی انتشار پسندی نہیں بلکہ مفاہمت پسندی کا تقاضا کر رہے ہیں جس پر بیانیے میں تبدیلی بھی دیکھی جا رہی ہے۔
تاہم کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے بغیر نواز شریف کی سیاست بے رنگ سی ہو جائے گی تو لیگی ذرائع کا دوی ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کی قیادت بدل جانے سے اب عوام کے اندر ان کے خلاف وہ تحفظات نہیں رہے بلکہ سیاست دانوں کے آپس کے اختلافات اور 9 مئی کے واقعات کے بعد سے عوامی ہمدردیاں فوج کے ساتھ ہو گئی ہیں اور اب اگلے انتخابات کا بیانیہ معیشت کی مضبوطی ہو گا جس کی ٹریک ہسٹری صرف مسلم لیگ نواز کے پاس ہے۔عوام کے تحفظات کا ان کو بخوبی اندازہ ہے کیونکہ ان کی جماعت کی پچھلے ڈیڑھ سال کی حکومت کے دوران عوام میں تشویش ضرور پیدا ہوئی جس کی وجہ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہے۔ یہ تشویش بجا ہے اور عوام کو ان وجوہات کا اندازہ نہیں مگر ریاست کے ذمہ دار حلقوں کو اس کا اندازہ ضرور ہے۔ اگر دیکھا جائے تو موجودہ معاشی بحران کی صورت حال میں آ کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنا کوئی آسان کام نہیں اور اس کا ارادہ وہی شخص یا سیاسی جماعت کر سکتی ہے جس کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہو اور وہ صرف مسلم لیگ ن ہے۔
لیگی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن میں جہاں تک نواز شریف اور شہباز شریف میں اختلافات کی بات ہے وہ نظریاتی ضرور ہو سکتا ہے مگر مفاداتی نہیں۔ نواز شریف کا جھکاؤ سول بالادستی کی طرف ہے اور شہباز شریف کا رجحان مفاہمتی پالیسی کی طرف ہے۔ مگر ایک دوسرے سے بے وفائی کی حد تک اختلاف میں اگر کوئی جان ہوتی تو جب 2018 میں شہباز شریف کو حکومت کی پیش کش کی گئی تھی اس وقت ہی یہ کوششیں رنگ لے آتیں۔ نون لیگی حلقوں کے مطابق اب شریف برادران کی جوڑی کو اقتدار دینے سے روکنا اس لئے بھی مشکل لگ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہونے کے ناطے شہباز شریف کی ورتھ بن چکی ہے جبکہ نواز شریف پر عالمی سطح کا اعتماد بھی ہے اور ہماری معیشت کی مجبوری بھی یہی ہے۔ موجودہ معاشی بدحالی سے نکالنے کی امید نواز شریف سے ہی وابستہ کی جا سکتی ہے جس کی بنیاد ان کی
کارکردگی، عالمی سطح پر اچھے تعلقات اور ان پر اعتماد ہے۔
