کیا PTI جان بوجھ کر شہباز کا اورنج لائن منصوبہ لٹکا رہی ہے؟

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دور حکومت میں شروع کیا جانے والا اورنج لائن ٹرین منصوبہ بزدار حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے لٹکتا جا رہا ہے جسکے باعث اس پراجیکٹ کے لیے حاصل کردہ سود کی رقم میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ دوسری جانب بزدار حکومت کا کہنا ہے کہ اورنج لائن ٹرین منصوبہ پنجاب کے لئے سفید ہاتھی بن گیا ہے چونکہ اس نے صوبے کی مالی مشکلات میں سنگین حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے لیے حاصل کردہ قرضوں کی سالانہ اقساط میں مجموعی طور پر 19 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ اورنج لائن ٹرین منصوبہ مسلم لیگ ن کی شہباز شریف حکومت نے میٹرو بس پراجیکٹ لانچ کرنے کے بعد شروع کیا تھا لیکن پایا تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ہی حکومت ختم ہو گئی۔ الیکشن 2018 کے بعد اقتدار میں آ کر تحریک انصاف حکومت نے اس منصوبے کو سفید ہاتھی قرار دے دیا تھا۔ اس سے پہلے شہباز شریف دور میں بھی پی ٹی آئی نے اس منصوبے پر کام روکنے کے لیے عدالت سے رجوع کر کے حکم امتناعی حاصل کیا تھا۔ تاہم اقتدار میں آنے تک چونکہ اس منصوبے کا بیشتر کام مکمل ہوچکا تھا لہذا تحریک انصاف کو اسے آگے لے کر بڑھنا پڑا۔

اب عثمان بزدار حکومت کا کہنا ہے کہ ٹرین میں سفر کرنے والے مسافروں کو سبسڈی دینے کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ سے صوبے کی معاشی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں، حکومت پنجاب کے مطابق سابق حکومت ایسے منصوبوں سے سیاسی پوائنٹ سکورنگ تو کرتی رہی لیکن اداروں کی مالی پریشانی کی پرواہ نہیں کی جس سے دیگر منصوبوں کے فنڈز کاٹ کر اورنج لائن کی سبسڈی اور قرضوں کی اقساط ادا کرنا پڑ رہی ہیں۔

دوسری جانب اورنج لائن ٹرین حکام کا موقف ہے کہ دنیا بھر میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر سبسڈی معمول کی بات ہے، بنگلہ دیش اور انڈیا جیسے ممالک بھی ایسے منصوبوں میں سبسڈی دے رہے ہیں کیونکہ انکا مقصد عوام کو سہولت پہنچانا ہوتا یے.

لہذا بزدار حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کیا جانے والا پراپیگنڈہ سراسر بے بنیاد ہے۔ ان کے مطابق لاہور میں چار ماس ٹرانزٹ لائنز مکمل ہو جائیں تو شہر میں ٹرانسپورٹ کی جدید سہولت سے اندرون شہر تک سفری سہولت دستیاب ہو جائے گی لیکن بزدار حکومت کی عدم دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ دو ماس ٹرانزٹ لائنز پر ابھی تک کام ہی شروع نہیں ہوسکا ہے جس کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

فیصل واوڈا کی نااہلی کیخلاف حکم امتناع کی درخواست مسترد

دوسری طرف پنجاب حکومت کے مطابق اورنج لائن میٹرو ٹرین کے لیے حاصل کیے گئے قرض کی سالانہ قسط میں صرف تین ماہ میں ایک ارب روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوا جس وجہ طے شدہ معاہدے کی شرائط میں مختلف شیڈول کے مطابق اقساط میں اضافہ ہے۔ اسکے علاوہ ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے بھی قرضوں کی اقساط میں اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ چین سے ہونے والے معاہدوں کے مطابق پنجاب حکومت 2024 سے 2036 تک اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا قرض ادا کرے گی، صوبائی وزیر یاور بخاری کے بقول ایک ہزار 79 ارب روپے سے زائد رقم کا مقروض صوبہ پنجاب سالانہ 19 ارب روپے اورنج لائن ٹرین کا قرض اتارے پر لگائے گا۔ اسکے علاوہ پنجاب حکومت 12 سال تک سالانہ 19 ارب پہلی لائٹ ریل پراجیکٹ کے لیے گے قرض پر بطور سود ادا کرے گی.

یاور بخاری نے کہا کہ اس سے قبل سالانہ قسط کی رقم 16 ارب روپے تھی جو گدشتہ برس بڑھ کر 18 ارب ہو گئی، یاد رہے کہ پنجاب کی سابقہ حکومت کی جانب سے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے لیے 1.62 ارب ڈالر کا معاہدہ ایگزم بنک کے ساتھ کیا گیا تھا۔

ماس ٹرانزٹ اتھارٹی پنجاب کے جنرل مینجر عزیر شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہم اب تک 144 ملین قرض واپس کر چکے ہیں، ان کے مطابق حکومتوں کو عوامی مفاد کے منصوبوں پر سبسڈی دینا لازمی ہے، ایسا پوری دنیا میں ہوتا ہے کیوں کہ ایسے منصوبے ایک بار بن جائیں تو ریاستی اثاثہ بن جاتے ہیں، ان کے مطابق ڈھاکہ میں بنگلہ دیش حکومت 9 ارب ڈالر سے سٹی ٹرانسپورٹ سروس کی چار لائنز بنا رہا ہے۔

عزیز شاہ کے مطابق ہمارا ہمسایہ ملک انڈیا 28 لائنز مکمل کر چکا ہے اور ہم صرف ایک لائن پر ہی پریشان ہیں، یاد رہے کہ شہباز شریف حکومت نے سال 2010 میں لاہور اور پنجاب کے بڑے شہروں میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں کے ذریعے مکمل جدید شہری ٹرانسپورٹ سسٹم لانے کا فیصلہ کیا تھا، عزیر شاہ کے مطابق سابق پنجاب حکومت نے دور حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لاہور میں چار لائنز گرین، اورنج، پرپل اور بلیو کی ٹرانسپورٹ سروسز کے منصوبہ بنا کر یہ پیکج مکمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جنرل مینجر کے مطابق سب سے پہلے لاہور میں ترکی کے تعاون سے میٹرو بس سروس کا افتتاح 2013 میں تب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ترکی کے نائب وزیراعظم کے ہمراہ کیا تھا، اس کے بعد چار لائنز میں سے پہلی اورنج لائن میٹرو ٹرین کا منصوبہ شروع کیا گیا جو مکمل ہونے کے قریب تھا تو حکومت تبدیل ہوئی اور موجودہ حکومت اس منصوبہ پر زیادہ توجہ نہ دے پائی ابھی تک قرضوں کی اقساط پر مشکلات برقرار ہیں.

ماضی میں سابق صوبائی سینئر وزیر علیم خان نے عہدہ سنبھالتے ہی اورنج لائن ٹرین کو سفید ہاتھی قرار دیا تھا اور اس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے سٹیشنز اور ٹرینوں کی برینڈنگ سمیت سٹیشنوں پر سٹالز لگوانے ریستوران بنوانے کا اعلان کیا تھا جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب نواز لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ 2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے عثمان بزدار حکومت اورنج لائن ٹرین منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی لیے یہ منصوبہ ابھی تک پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ پایا۔

Back to top button