اسرائیل کو تگنی کا ناچ نچانے والی’حماس‘ کیا ہے؟

اسرائیل پر حماس کے تازہ حملے نے پوری دنیا کو طویل عرصے سے اسرائیلی فوج کے مظالم کے شکار فلسطینیوں کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ فلسطین میں 2 دہائیوں سے زائد عرصہ سے محاصرہ کا شکار غزہ کو ہیڈکوارٹر بنائے ہوئے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہے۔
وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق 1948 سے سرزمین فلسطین پر قابض اسرائیل کی عسکری قوت کی بلندوبانگ کہانیوں کو ایک ہی حملے میں برہنہ کردینے والے فلسطینی مزاحمتی گروپ کو حماس کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ الیکشن میں غزہ سے باقاعدہ طور پر منتخب ہونے کے بعد سے علاقے پر حماس کا کنٹرول ہے۔
خیال رہے کہ 365 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل غزہ ساحلی علاقہ ہے جہاں 20 لاکھ سے زائد لوگ مقیم ہیں۔ ان افراد کو 2 دہائیوں سے زائد عرصہ سے اسرائیل کے محاصرے کا سامنا ہے۔سنہ 2007 سے غزہ میں سیاسی وانتظامی قوت کے طور پر موجود حماس نے اسرائیل کے مسلسل حملوں اور فلسطینیوں کے قتل عام کے جواب میں7 اکتوبر کو حماس نے غیرمعمولی کارروائی کی ہے۔ جس میں اسرائیل کے زیرقبضہ علاقے کے اندر زمینی اور فضائی راستے سے داخل ہو کر فوج اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔حماس کی کارروائی کے بعد اسرائیل نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے درجنوں فوجی وشہری فلسطینی گروہ کے قبضہ میں ہیں۔اسرائیل کی مدد کا اعلان امریکا نے بھی کیا ہے جس کے بعد واشنگٹن نے علاقے میں اپنا بحری بیڑہ روانہ کیا ہے۔امریکا نے بھی پیر کو تصدیق کی ہے کہ اسرائیل میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران اس کے 9 شہری مارے گئے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطین کو مکمل برباد کرنے کے لیے ’طویل اور مشکل جنگ‘ کا اعلان کیا جس کے بعد بہت سے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک غاصب ملک کو گھٹنوں پر لے آنے والا مزاحمتی گروپ حماس کون ہے؟ اورحماس کا قیام کب ہوا؟ سنہ1987 میں اسرائیل کے خلاف پہلی انتفاضہ کے بعد غزہ میں مقامی امام شیخ احمد یاسین اور ان کے ساتھی عبدالعزیز رنتیسی نے اسرائیلی غاصبانہ قبضے کے خلاف جدوجہد کے لیے یہ تحریک قائم کی۔مصر کے اخوان المسلمون سے ہم آہنگی گروپ کے قیام کے بعد مزاحمت کے لیے عزالدین القسام بریگیڈ الکتائب القسائم قائم کیا گیا۔فلسطین کے تاریخی مقامات کی آزادی کے لیے کوشاں حماس نے اسرائیلی حملوں کا شکار فلسطینیوں کی بحالی کے پروگرام پر بھی کام کیا۔
یاسرعرفات مرحوم کی قائم کردہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے برخلاف حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی بلکہ وہ فلسطین کے سنہ 1967 کی سرحدوں پر اصرار کرتی ہے۔حماس کے بیرون ملک مقیم رہنما خالد مشعل کے مطابق ’دباؤ جو بھی ہو اور قبضہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو ہم فلسطینی سرزمین کے ایک انچ سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
وسط 1990 میں پی ایل اور اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے اوسلو معاہدے کی بھی حماس کی جانب سے مخالفت کی جاتی رہی ہے۔فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم نہ کرنے اور مسلسل مزاحمت کی پاداش میں حماس کو اسرائیل، امریکا، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان نے دہشت گرد گروہ قراردے رکھا ہے۔ جبکہ ایک مسلم ملک مصر نے بھی اسے دہشتگرد ٹھہرایا ہوا ہے۔سنہ2008 کے بعد اسرائیل فلسطین پر 4 جنگیں مسلط کر چکا ہے۔ ان میں ہزاروں سویلینز فلسطینی شہید، ہزاروں کی تعداد میں گھر اور دیگر املاک تباہ جب کہ فلسطینی زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ یورپی ممالک کی طرف سے دہشتگرد تنظیم قرار دئیے جانے کے بعد حماس کو کس کی حمایت حاصل ہے؟ مبصرین کے مطابق حماس کو امریکا اور اسرائیل مخالف ایک علاقائی اتحاد کی بھی حمایت حاصل ہے جس میں ایران، شام، لبنانی گروپ حزب اللہ شامل ہیں۔حماس اور علاقے کے دوسرے بڑے جہادی گروپ اسلامی جہاد کی جانب سے اکثروبیشتر اسرائیل کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کی جاتی ہیں۔دونوں اس جوائنٹ آپریشنز روم کے بھی بڑے ممبرز ہیں جو دیگر مزاحمتی گروہوں کے ساتھ مل کر فلسطین کی آزادی کے لیے کام رک رہے ہیں۔
سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ حماس کی طرف سے حالیہ حملہ کیوں کیا گیا؟حماس کے ترجمان خالد القدومی کے مطابق فلسطینیوں کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف ہفتہ کو حملہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کو رکوائے۔ ہمارے مقدس مقامات بشمول مسجد اقصی کے خلاف کارروائیاں رکوائی جائیں۔ یہی وہ اسباب ہیں جن کی بنیاد پر حالیہ کارروائی کی گئی ہے۔‘ہفتے کے حملے کو ’ابتدا‘ قرار دیتے ہوئے حماس نے دیگر مزاحمتی قوتوں کو بھی کارروائی کا حصہ بننے کی اپیل کی ہے۔
حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے پاکستانیوں سمیت دیگر اقوام سے بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف فلسطینیوں کا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔حماس کے سینیئر ترجمان اسامہ حمدان کے مطابق وہ اسرائیل کے سول مکینوں کو نشانہ نہیں بنا رہے ہیں۔ مقبوضہ فلسطینی علاقے پر قبضے کے بعد گھر بنانے والے ان کا اس لیے ہدف ہے کہ یہ لوگ غیرقانونی طور پر ان کی املاک پر قابض ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’آپ کو سویلینز اور زبردستی بسائے گئے اسرائیلیوں میں فرق کرنا چاہیے۔ آبادکار فلسطنیوں پر حملہ کرتے اور جارحیت کے مرتکب ہوتے ہیں۔‘حماس کے ترجمان کے مطابق ’ہم جان بوجھ کر سویلینز کو نشانہ نہیں بناتے۔ آبادکار اس وقت اسرائیل کی مسلح افواج کے حصے کے
ورلڈکپ: بھارت نے افغانستان کو8 وکٹوں س ہرا دیا
طور پر آپریٹ کر رہے ہیں، وہ سویلینز نہیں ہیں۔‘
