عمران اب اقتدار میں آئے تو چھ ماہ نہیں نکالیں گے

سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور سپورٹ کے باوجود اگر ساڑھے تین سال میں کچھ نہیں کر سکے تھے تو یہ اس بار اسٹیبلشمنٹ کے بغیر کیا پہاڑتوڑلیں گے؟ عمران خان کا اگلا دور ملک کا مشکل ترین دور ہوگا‘ عمران خان چھ ماہ نہیں نکال سکیں گے اور ان چھ ماہ میں ملک بحیرہ عرب میں تیر رہا ہو گا. اپنے ایک کالم میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے ہم سسٹم کے فیلیئر کی بدترین مثال ہیں‘ ہم ملک میں آج تک ٹریفک سیدھی نہیں کر سکے‘ ریلوے پھاٹک نہیں بنا سکے‘ قوم کو سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کے استعمال پر راضی نہیں کر سکے‘ ڈاکٹری نسخے کے بغیر ادویات کی فروخت کنٹرول نہیں کر سکے‘ نشہ آور ادویات پر قابو نہیں پا سکے۔ ملک میں غربت اس سطح تک پہنچ چکی ہے جہاں لوگ آٹے کے ایک تھیلے کے لیے جان کی بازی لگا دیتے ہیں . ہم من حیث القوم نظم و ضبط‘ صبر اور برداشت سے محروم ہیں‘ ہمارے لوگ آٹے کا تھیلا لینے کے لیے بھی قطار نہیں بنا سکتے‘ اپنی باری کا انتظار نہیں کر سکتے اور اپنے جیسے غریبوں کا احساس نہیں کر سکتے اور یہ المیوں کی شکار قوم کے لیے کتنا بڑا مسئلہ ہے . ہمارے بیورو کریٹک اور سرکاری نظام میں اتنی بھی اہلیت نہیں رہی کہ یہ عزت اور ڈسپلن کے ساتھ آٹا ہی تقسیم کر سکے. جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ کے ذریعے غریب لوگوں کو پیسے بھجوا دیتی تھی اور یہ لوگ بازار سے آٹا خرید لیتے تھے‘ ہم یہ کیوں نہیں کرسکتے؟ ہم موبائل فونز کے ذریعے لوگوں کو پیسے بھجوا دیں اور یہ بازار سے آٹا خرید لیں‘ ترکی میں ہر شہر میں رضا کار موجود ہیں۔
حکومت انھیں اشیاء اور لوگوں کی فہرست دے دیتی ہے اور یہ رضا کار عزت کے ساتھ کھانے پینے کا سامان لوگوں کے گھروں میں پہنچا دیتے ہیں‘ ہم 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہیں‘ کیا حکومت کو 22 کروڑ لوگوں میں دو کروڑ رضا کار نہیں مل سکتے؟ ہم ایک ہی بار ’’رضا کار فورس‘‘ کیوں نہیں بنا لیتے؟ حکومت اعلان کرے‘ لوگ خود کو بطور رضا کار رجسٹرڈ کرائیں اور حکومت آفات اور ایسی آٹا اسکیموں کے دوران رضا کاروں کی مدد لے لے‘ ملک میں اخوت‘ سیلانی‘ الخدمت اور ریڈ فاؤنڈیشن جیسی سیکڑوں این جی اوز ہیں۔یہ نیک نیت لوگ ہیں‘ حکومت ان کی مدد لے سکتی ہے‘ یہ لوگ نہایت ایمان داری سے رقم اور راشن تقسیم کر دیں گے اور حکومت فون کر کے تصدیق کر لے گی اور ملک میں سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں کا طویل ترین نیٹ ورک موجود ہے۔
ملک کے تمام حصوں میں اسکول اور کالج ہیں‘ حکومت یہ فریضہ اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کو بھی سونپ سکتی ہے‘ آٹے کا ایک ایک ٹرک اسکولوں میں بھجوا دیا جائے اور ہیڈ ماسٹرز اپنی نگرانی میں طالب علموں کے ذریعے یہ آٹا تقسیم کر دیں لیکن حکومت آٹے کی باعزت تقسیم کے کسی بھی طریقے کی طرف اس لئے نہیں آئے گی کیونکہ اس میں وزیراعظم کی تصاویر چھپنے کی گنجائش بھی نہیں اور ان میں بیوروکریسی کیمپس کے بندوبست کے نام پر کروڑوں روپے بھی پار نہیں کر سکتی
جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ ہڑبونگ‘ افراتفری اور دھکم پیل سے کیوں کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا پروفائل بڑھتا ہے‘ یہ تھیلے تقسیم کر کے غریبوں کے ساتھ تصویریں اتروا سکتے ہیں اور یہ آٹا شہیدوں کے نام پر بیوروکریٹس کو معطل بھی کر سکتے ہیں اور ٹیلی ویژن چینلز کو وزیراعلیٰ نے نوٹس لے لیا یا وزیراعظم سخت برہم کے ٹکرز بھی بھجوا سکتے ہیں چناں چہ یہ سسٹم کی طرف نہیں جا رہے‘ یہ کوئی باعزت طریقہ تلاش نہیں کر رہے‘ کیوں؟ کیوں کہ اس میں پبلسٹی کی گنجائش نہیں ہے۔ حکومت مانے یا نہ مانے لیکن یہ حقیقت ہے اس آٹا اسٹنٹ کا مقصد عمران خان کی مقبولیت کا مقابلہ ہے‘ عمران خان دن بہ دن مضبوط ہوتا چلا جا رہا ہے‘ یہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے قابو نہیں آ رہا‘ حکومت نے لاہور کا 25مارچ کا جلسہ ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر لاہور کا جلسہ ہوا اور یہ بھرپور بھی تھا۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں عمران خان کی طرز سیاست سے اتفاق نہیں کرتا‘ میرا خیال ہے عمران خان کے پاس ملک کو بحران سے نکالنے کا کوئی پلان موجود نہیں‘ یہ اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور سپورٹ کے باوجود اگر ساڑھے تین سال میں کچھ نہیں کر سکے تھے تو یہ اس بار اسٹیبلشمنٹ کے بغیر کیا پہاڑتوڑلیں گے مگر اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے عمران خان اپنی شہرت کے عروج چھو رہے ہیں۔لوگ ان کے ساتھ ہیں اور اگر آج الیکشن ہو جائے تو عوام عمران خان کے کھمبے کو بھی ووٹ دے دیں گے تاہم یہ بات بھی درست ہے عمران خان کا اگلا دور ملک کا مشکل ترین دور ہوگا‘ عمران خان چھ ماہ نہیں نکال سکیں گے اور ان چھ ماہ میں ملک بحیرہ عرب میں تیر رہا ہو گا مگر اس حقیقت کو اس وقت کون سنے گا۔
کون مانے گا؟ لوگوں کے پاگل پن کو ایک ہیرو چاہیے اور عمران خان اس وقت ہیرو ہیں اور پوری ریاست اور پوری حکومت مل کربھی عمران خان کا قد چھوٹا نہیں کر پا رہی‘ عمران خان روزانہ کی بنیاد پر بڑے ہوتے چلے جا رہے ہیں اور وزیراعظم اگر ایسی درجنوں آٹا اسکیمیں بھی شروع کر لیں تو بھی یہ عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے‘ عمران خان وہ مولا ہے جسے صرف مولا ہی مار سکتا ہے۔آخر میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ عمران خان وہ آگ ہیں جو ہمیشہ اپنے ہی وجود میں جل کر بجھتی ہے اور عمران خان کو بجھانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے آپ اسے جلنے دیں‘ عمران خان کے شعلے اپنے آپ سے ٹکرا کر ختم ہو جائیں گے مگر میں جانتا ہوں پی ڈی ایم یہ رسک نہیں لے گی‘ یہ الیکشن نہیں کرائے گی اور اسی طرح آٹے جیسے اسٹنٹس میں دفن ہوتی چلی جائے گی یہاں تک کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو ووٹ دینے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔
