عدلیہ تقسیم، چیف جسٹس فل کورٹ بنانے سے گریزاں کیوں ہیں؟

اس وقت ملک میں جاری سیاسی بحران، ریاستی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے جس میں ریاست کے تینوں ستون عملا گر چکے ہیں۔ ایسی عدلیہ جو خود تنازعات کا شکار ہو وہ ریاستی اداروں کے جھگڑے کس طرح ختم کروا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ میں تقسیم کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے دو ججوں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن سے متعلق از خود نوٹس کیس میں اپنے اختلافی نوٹس میں چیف جسٹس کو حاصل وسیع تر اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وقت آ گیا ہے چیف جسٹس آفس کے ’ون مین شو‘ کے اختیارات کا جائزہ لیا جائے۔
دو ججوں کی جانب سے چیف جسٹس آفس کے ’ون مین شو‘ اختیارات کا جائزہ لینے کے اختلافی نوٹ پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دو صوبوں میں الیکشن سے متعلق از خود نوٹس پر اب فل کورٹ بننا چاہیے۔ موجودہ صورتحال بارے سینیئر وکیل اور ممبر جوڈیشل کمیشن اختر حسین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز تعیناتی، بنچ تشکیل دینے اور ریویو پٹیشنز کے حوالے سے رولز اور طریقہ کار میں تبدیلی لائی جانی چاہئیے مگر پچھلے چند چیف جسٹس صاحبان اور موجودہ چیف جسٹس اس تجویز پر عمل نہیں کرتے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال جوڈیشل کمیشن کا اجلاس اس وجہ سے نہیں بلا رہے کیونکہ انہیں لگتا ہے ان کی مرضی کے جج سپریم کورٹ میں تعینات نہیں ہو پائیں گے۔ جوڈیشل کمیشن کے ممبران کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ججز تعیناتی کے حوالے سے سنیارٹی کے اصول کو مقدم رکھنا چاہئیے۔نیا دور ٹی وی کے ٹاک شو ‘خبر سے آگے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں چار سال سے جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوں۔ ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ ججوں کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی جانی چاہئیے۔ تاہم چیف جسٹس کے صوابدیدی اختیار ہمارے جوڈیشل سسٹم کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوں یا سپریم کورٹ کے، اپنے صوابدیدی اختیارات نہیں چھوڑنا چاہتے۔
دوسری جانب سینئر صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ سات میں سے چار ججوں نے کہہ دیا ہے کہ سپریم کورٹ الیکشن سے متعلق درخواستیں سن ہی نہیں سکتی تھی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے آج بھی یہی سوال پوچھا کہ آپ کس حکم پر عمل درآمد کروانا چاہ رہے ہیں یعنی سپریم کورٹ بنچ کا پچھلا حکم تو چار تین سے مسترد ہو چکا ہے۔ اس جھگڑے کا واحد حل یہ ہے کہ فل کورٹ بنچ بنایا جائے اور وہ اس سارے مسئلے کو دیکھے۔ مگر یہ بھی اہم مسئلہ ہے کہ موجودہ ججز تو اکٹھے ہو کر چائے نہیں پیتے، فل کورٹ کیسے بنے گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 2018 میں حکومت کے لئے جس طرح کوالیفائی کیا تھا وہ طریقہ کار ہی غلط تھا۔ جب تک اس کوالیفائنگ راؤنڈ کا احتساب نہیں ہو جاتا تب تک آگے بڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آگے بڑھیں گے تو عمران خان کے 2018 والے غیر آئینی اقدام کو آئینی شکل مل جائے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کو کرسی سے باندھ کر ان سے ایک پریس کانفرنس کروا لی جائے کہ انہوں نے عمران خان کو کہاں کہاں سپورٹ فراہم کی ہے اور پھر اس کی بنیاد پر اکتوبر 2023 سے پہلے پہلے تمام ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہئیے۔
ضیغم خان نے کہا کہ اس وقت کا بحران ریاستی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے جس میں ریاست کے تینوں ستون گھر چکے ہیں۔ ایسی عدلیہ جو خود تنازعات کا شکار ہو وہ ریاستی اداروں کے جھگڑے کس طرح ختم کروا سکتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہمیں سپریم کورٹ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تاہم چیف جسٹس صاحب معاملات مزید الجھا رہے ہیں۔
مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دو ججوں نے جو تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے انہوں نے عدلیہ کے سر میں کیل گاڑ دیا ہے۔ جو ادارہ اپنے اندرونی مسائل کو جمہوری طور پر حل نہیں کر سکتا وہ ملک کے جمہوری مسائل کیسے حل کر سکے گا۔ وفاقی آئینی عدالت قائم ہونی چاہئیے جو آئینی معاملات کو دیکھے جبکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس عام لوگوں کے مقدمے سنیں۔
موجودہ عدالتی صورتحال بارے بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا ہے کہ عدلیہ کو درپیش آئینی مسائل کی سماعت اور با اختیار فیصلے کیلئے ایک بار پھر چیف جسٹس کا فل کورٹ تشکیل دینے سے انکار قوم میں مزید غیر یقینی اور الجھن کا باعث بنا ہے۔ تاہم قانون کی تشریح اس بات پر منحصر نہیں ہونی چاہیے کہ آپ بنچ کی تشکیل کیسے کرتے ہیں۔ ہمیں یقین تب ہی ملے گا جب فل کورٹ بن جائے۔‘
وکیل طارق کھوکھر نے کہا کہ 184/3 کے اختیارات پر انہوں نے کہا کہ ’اس پر میں اتفاق کرتا ہوں چیف جسٹس کو نظر ثانی کرنا ہو گی۔ برادر ججز کو اتفاق ختم نہیں کرنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے اس وقت سپریم کورٹ میں واضح تقسیم ہے۔’سمجھ سے بالاتر ہے کہ چیف جسٹس فل کورٹ تشکیل نہیں دیتے، اپنی مرضی کا کیس لگاتے ہیں، کس بینچ میں کون بیٹھے گا اس میں بھی انصاف نہیں ہو رہا، اس کے علاوہ کون سا بینچ کون سا کیس سنے گا اس میں بھی مساوی رویہ نہیں ہے۔‘
سابق جج شاہ خاور نے کہا ’اب یہ دلچسب صورت حال بن چکی ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں حالیہ درخواست جو سماعت کے لیے مقرر ہوئی ہے یہ بھی پنجاب اور کے پی انتخابات سے متعلق ہے تو پھر اس کا سٹیٹس کیا ہو گا کیونکہ اسی نوعیت کے مقدمے میں جسٹس اعجاز نے خود کو اس کیس سے الگ کیا تھا تو آج پھر دوبارہ انتخابات سے متعلق کیس میں وہ کیسے شامل ہوئے؟’اب کل والی الیکشن کیس کی سماعت میں آج اس فیصلے کے اثرات ہوں گے۔ تمام مسائل کا حل یہی ہے کہ فل کورٹ بنائی جائے۔‘انہوں نے کہا کہ ’یہ چیف جسٹس آفس پر بھی بہت بڑا سوال اٹھایا گیا ہے جو کسی سیاسی جماعت نے نہیں بلکہ ان کے اپنے برادر ججز نے اٹھایا ہے جو سنجیدہ بات ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے عدالتی کارروائی سے متلعق لکھا: ’جس ملک میں انصاف کے دو معیار ہوں، فیصلے چند مخصوص لوگوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کا واحد مقصد عمران کی سہولت کاری ہے، تو پھر یہی ہو گا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر و سینئر نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ الیکشن سے متعلق از خود نوٹس کیس میں 2 ججوں کا اختلافی فیصلہ بینچ فکسنگ کے حوالے سے ہمارے بیانیے کی جیت ہے۔پارٹی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے اس لیے عدلیہ میں موجودہ عمران خان کے سہولت کاروں کو پوری قوت کے ساتھ بے نقاب کیا جائے اور نوازشریف کے خلاف سنائے گئے غیر منصفانہ فیصلوں کو بھی سامنے لایا جائے۔مریم نواز نے کہا کہ عمران خان اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندو خیل نے جو فیصلہ دیا اس سے ہمارے بیانیے کی فتح ہوئی کیوں کہ اگر بینچ سازی منصفانہ نہیں تو فیصلہ کیسے درست تصور کیا جاسکتا ہے۔
