چیف جسٹس بندیال جسٹس نقوی کیخلاف کارروائی سے گریزاں کیوں؟

سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں تین درخواستیں دائر ہونے کے باوجود چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے کوئی نوٹس نہ لینے اور کسی قسم کی کارروائی نہ ہونے سے کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ ماضی میں تو کئی دفعہ کسی چھوٹی سی شکایت پر گھنٹوں کیا منٹوں میں بھی ججز کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں جبکہ ماضی قریب میں جسٹس قاضی فائز عیسی عدالتوں میں پیش ہوچکے ہیں پھر جسٹس مظاہر نقوی کی آڈیوز اور شکایات پر کارروائی سے آخر کیا چیز مانع ہے؟ کون سی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں عدالت عظمیٰ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف تیسری درخواست دائر کی جا چکی ہے۔میاں داؤد ایڈووکیٹ نے 2 صفحات پر مشتمل درخواست سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کی جس کی نقول سپریم جوڈیشل کونسل کے دیگر 4 اراکین کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔تازہ درخواست میں جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس کی فوری سماعت اور ان سے عدالتی امور واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار میاں داؤد کارٹونسٹ میں کہنا تھا کہ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے کی کاز لسٹ سے معلوم ہوا کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی اب بھی مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔میاں داؤد نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو اپنے ساتھ بینچ میں شامل بھی کیا اور الگ سے ایک بینچ کا سربراہ بھی بنایا ہے۔درخواست گزار کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کا جسٹس مظاہر نقوی کو بینچز میں شامل کرنا انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے استدعا کی کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف پہلے سے زائد شدہ ریفرنس فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔میاں داؤد نے کہا کہ ریفرنس کے فیصلے تک مذکورہ جج کے سامنے کوئی مقدمہ سماعت کے لیے مقرر نہ کیا جائے اور نہ ہی انہیں کسی بینچ میں شامل کیا جائے۔

واضح رہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی سے منسوب عمرانڈو ہو جانے والے سابق وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی آڈیو سامنے آنے کے بعد اس سے پہلے بھی میاں داؤد ایڈووکیٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل سے سپریم کورٹ کے جج کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی تھی۔گزشتہ ریفرنس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ جج نے اپنے بیٹوں اور بیٹی کی بیرون ملک تعلیم اور ایک تاجر زاہد رفیق سے ’مالی فائدہ‘ حاصل کرنے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا۔

درخواست گزار میاں داؤد نے کہا تھا کہ ’جج، پی ٹی آئی اور اس کے رہنما عمران خان کے ساتھ اپنے تعلقات کو کھلے عام ظاہر کرتے اور اپنی ذاتی رنجشوں کی وجہ سے دوسری سیاسی جماعتوں کے خلاف خطرناک ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں‘۔شکایت گزار کے مطابق ’سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے نجی گفتگو کے دوران اعتراف کیا کہ جسٹس مظاہر علی نقوی پی ٹی آئی کی حمایت کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) لائرز فورم پنجاب کی جانب سے بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف درخواست جمع کرائی گئی تھی۔جنرل سیکریٹری مسلم لیگ (ن) لائرز فورم زاہد حسین کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر ججز کے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) لائرز فورم پنجاب نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ جسٹس مظاہر ’مس-کنڈکٹ‘ کے مرتکب ہوئے، اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف کارروائی کرے۔ وکلا کی جانب سے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف آڈیو لیک کی بنیاد پر شکایت دائر کی گئی تھی۔وکلا نے درخواست میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ جسٹس مظاہر نقوی کی مبینہ گفتگو کا ٹرانسکرپٹ بھی شامل کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے۔

خیال رہے کہ3 مارچ کو فواد چوہدری اور ان کے بھائی فیصل چوہدری کے درمیان مبینہ آڈیو کال بھی منظر عام پر آئی تھی۔38 سیکنڈز کی آڈیو میں مبینہ طور پر فواد چوہدری اور ان کے بھائی فیصل چودھری ‘لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس امیر بھٹی اور چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال کے درمیان ‘ملاقات’ کروانے کی بات کرتے سنے جا سکتے ہیں۔فواد چوہدری کو فیصل چوہدری سے کہتے سنا گیا کہ ’اچھا میں نے کہا کہ وہ جو اپنا چیف جسٹس لاہور ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ میری بندیال سے کوئی جنرل کراؤ‘۔مبینہ طور پر فواد چوہدری نےمزید کہا کہ ’ٹھیک ہے نا دوسرے اپنے مظاہر کو ڈار صاحب کے ذریعے جو ہے نا، ان کے ساتھ، ان سے ذرا مل لیں‘۔پی ٹی آئی رہنما نے بھائی فیصل کو ہدایت کی کہ وہ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی سے ملیں اور انہیں پیغام دیں کہ ’’پورا ٹرک آپ کے ساتھ کھڑا ہے، لہٰذا ہمیں بتائیں کہ اب کیا کرنا ہے۔‘‘

فواد چوہدری نے لیگی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئےمزید کہا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ تارڑ کے خلاف تین سے چار استغاثے کروا کر اسے دفعہ 128 کے تحت سزا دلوا دیں تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے اور ان پر پریشر آئے۔ فواد چودھری نے چونکہ آخری نام استعمال کیا ہےاس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ وہ عطا اللہ تارڑ کے بارے میں بات کر رہے تھے یا اعظم نذیر تارڑ کے بارے میں۔جواب میں فیصل چودھری نے فواد کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اگلی صبح ان کی ہدایات پر عمل کریں گے اور انہیں صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عمرانڈو ہو جانے والے سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ آڈیو لیک ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف جائیدادوں سے متعلق ریفرنس بھی دائر کیا گیا تھا۔سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے انفرادی طور پر جمع کروایا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کے جج پر مس کنڈکٹ اور ناجائز اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر نقوی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے، ناجائز اثاثے بنائے، فرنٹ مینوں کے ذریعے ناجائز دولت اکٹھی کی۔ریفرنس میں مزید کہا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر نقوی کے اثاثوں میں حالیہ دنوں میں 3 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔  جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے ناجائز اثاثے،آڈیو لیک جیسے معاملات کی تحقیقات کی جائیں۔دائر کیے گئے ریفرنس میں استدعا کی گئی تھی کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور ان کے اہل خانہ کی جائیدادوں اور اثاثوں کی تحقیقات کرے۔

خیال رہے کہ اس سے آڈیو لیکس کے معاملے پر پاکستان بار کونسل کی زیر قیادت تمام بار کونسلز نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین حسن رضا پاشا نےگزشتہ دنوں پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ہم نے آڈیو لیکس واقعےپر پریس ریلیز جاری کی تھی، چیف جسٹس سے مطالبہ کیا تھا اگر آڈیو جھوٹی ہے تو پس پردہ کرداروں کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن اگر آڈیو لیکس سچ ہیں تو ملوث کرداروں کے خلاف کارروائی کی جائے مگر نہ سپریم کورٹ نے کوئی جواب دیا نہ ہی رجسٹرار آفس نے کوئی رائے دی۔

واضح رہے کہ 16 فروری کو چوہدری پرویز الٰہی کی مبینہ ٹیلی فون کال لیک ہوئی اور اس میں غلام محمود ڈوگر کیس سے متعلق سپریم کورٹ جج کے ساتھ ان کی مبینہ بات چیت منظرعام پر آئی تھی۔ چوہدری پرویز الٰہی کے تین آڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے۔

توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ معطل، 13 مارچ کو طلب

Back to top button