جسٹس فائز عیسٰی نے ہم خیال ججز کو کیسے بے نقاب کیا؟

سپریم کورٹ کے 15 رکنی فل کورٹ نے کثرت رائے سے پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ کے خلاف درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ پارلیمان کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے تاہم اس ایکٹ میں شامل ایک شق، جو کہ ماضی میں از خود نوٹسز پر دیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیلوں سے متعلق تھی، کو کثرت رائے سے کالعدم قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جہاں پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کر لیا ہے وہیں ماضی قریب میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کے ٹکراؤ جیسی صورتحال پر بند باندھ دیا ہے۔

بعض آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے سے عدلیہ میں ایک شخص یعنی چیف جسٹس کی اجارہ داری یا ڈکٹیٹر شپ ختم ہو گئی ہےاور چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سپریم کورٹ کی کارروائی براہ راست نشر کر کے عوام کو ان مفاد پرست ججز کے چہرے دکھا دئیے ہیں جو ذاتی مفادات کیلئے پارلیمنٹ اور آئین کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔جبکہ کچھ قانونی ماہرین کے مطابق اس ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد کر کے پارلیمان کو عدالتی امور میں ’مداخلت کرنے‘ کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلےسے عدلیہ ’مضبوط اور خود مختار‘ ہو گی۔ ’اس عدالتی فیصلے میں عدلیہ نے پارلیمان کی بالادستی کو تسلیم کیا ہے اور بظاہر یہی نظر آ رہا ہے کہ عدالت عظمیٰ اور پارلیمان اس معاملے میں ایک پیج پر ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے لے کر حال ہی میں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس عمر عطا بندیال تک کے ادوار میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز میں ایک واضح صف بندی نظر آتی تھی۔‘انھی ججز کی طرف سے کیے جانے والے فیصلوں سے ملک سیاسی اور معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ عدلیہ کی تاریخ کے واحد چیف جسٹس ہیں جنھوں نے مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز کی تشکیل کے حوالے سے اپنے اختیارات کے استعمال میں سپریم کورٹ کے مزید دو ججز کو شامل کیا ہے۔ اس سے پہلے تو کوئی چیف جسٹس کسی دوسرے جج کو اپنے اختیارات کی طرف دیکھنے کی بھی اجازت نہیں دیتا تھا۔‘

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ پریکٹس اینڈ سروسیجر ایکٹ کے فیصلے کے بعد موجودہ چیف جسٹس کی پوزیشن کمزور نہیں ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو انھوں نے اس معاملے میں فل کورٹ تشکیل دے کر اور پھر ان درخواستوں کی سماعت کو ٹی وی پر براہِ راست دکھا کر فیصلہ لوگوں پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ ان ججز کے چہروں کو پہچان لیں جو ملک اور پارلیمان کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور جو اپنے ذاتی ایجنڈے کو لے کر اپنی مرضی کے فیصلے عوام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔سابق اٹارنی جنرل نے دعویٰ کیا کہ سابق چیف جسٹس صاحبان کے ’ہم خیال ججز اپنا ذہن اس بات پر تیار کر کے بیٹھے تھے کہ موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تعیناتی کے 13 ماہ گزرنے کے بعد وہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو واپس لے آئیں گے لیکن ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔‘

دوسری جانب سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کے مطابق سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کو مجموعی طور پر مسترد کر کے پارلیمان کے لیے سپریم کورٹ کے امور میں مداخلت کے دروازے کھول دیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’مستقبل میں جب بھی کبھی سپریم کورٹ اور پارلیمان کا ٹکراؤ ہو گا تو وہ عدالتی معاملات میں مداخلت قانون سازی کرے گی اور اس ضمن میں سپریم کورٹ سے مشاورت کے امکانات بھی بہت کم نظر آ رہے ہیں۔‘احمد اویس کا کہنا تھا کہ ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بھی عدلیہ اور پالیمان ٹکراؤ کے نتیجے میں ہی بنایا گیا تھا۔‘انھوں نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں کو مسترد کیے جانے کا عدالتی فیصلہ مستقبل کے ججز پر بھی لاگو ہو گا جب تک پندرہ رکنی بینچ سے کوئی بڑا سپریم کورٹ کا بینچ اس عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں میں اس کے خلاف فیصلہ نہیں دے دیتا۔

واضح رہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کو مسترد کرنے کا فیصلہ پانچ کے مقابلے میں دس کے تناسب سے آیا تھا جبکہ اس ایکٹ کے تحت فیصلے کے خلاف اپیل دینے کے حق کا فیصلہ نو-چھ کے تناسب سے اور ماضی میں از خود نوٹس پر کیے گئے فیصلوں کے خلاف نظرثانی کی اپیل کو مسترد کرنے کا فیصلہ آٹھ-سات کے تناسب سے سامنے آیا تھا۔

سپریم کورٹ میں مقدمات کی کوریج کرنے والے صحافی ناصر اقبال کا کہنا ہے کہ جب پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تھی تو اس وقت ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ ان درخواستوں پر فیصلہ متفقہ نہیں ہو گا۔انھوں نے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت کرنے والوں میں وہ سات جج بھی شامل تھے جو سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم آٹھ رکنی بینچ کا حصہ تھے جنھوں نے محض مختصر سماعت کر کے اس ایکٹ کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ اس آٹھ رکنی بینچ میں شامل جسٹس مظہر علی اور جسٹس اظہر حسن رضوی نے بعد ازاں فل کورٹ میں سماعت کے دوران اپنے مؤقف کو تبدیل کیا اور پارلیمان کی بالادستی کو تسلیم کیا۔

ناصر اقبال کا کہنا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران زیادہ تر سوالات ان ججز کی طرف سے کیے گئے جنھوں نے مستقبل میں چیف جسٹس بننا ہے۔ان ججز میں جسٹس اعجاز الااحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں اور یہ تینوں ججز ان پانچ اقلیتی ججز میں شامل ہیں جنھوں نے اس ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔انھوں نے کہا کہ سماعت کے دوران یہ تینوں ججز جس طرح کے سوالات کر رہے تھے، اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بطور چیف جسٹس اپنے اختیارات میں کسی اور کو شامل نہیں کرنا چاہتے۔

واضح رہے کہ موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اگلے سال اکتوبر میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے اور ان کے بعد جسٹس اعجاز الااحسن پاکستان کے نئے چیف جسٹس ہوں گے۔جسٹس اعجاز الااحسن سینیارٹی کے اعتبار سے چیف جسٹس کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں۔ جسٹس سردار طارق مسعود جو سنیارٹی کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہیں، موجودہ چیف جسٹس کی

مریم نواز کے اکلوتے بیٹے نے اپنی بیوی کو طلاق کیوں دی؟

موجودگی میں ہی ریٹائر ہو جائیں گے۔

Back to top button