عمران بے عزت کر کے خٹک کو پارٹی سے کیوں نکالنا چاہتے ہیں؟

عمران خان نے اپنے محسنوں کو ڈسنے کی روش برقرار رکھتے ہوئے اپنے ایک اور قریبی ساتھی اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کو بے عزت کر کے پارٹی سے فارغ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ منصوبت کو عملی جامہ پہناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی رہنماؤں کو جماعت سے علیحدگی کی ترغیب دینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے خلاف جماعتی سطح پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی نے سینیئر رہنما اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کو اظہار وجوہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارٹی کے دیگر اراکین کو پی ٹی آئی چھوڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان کے دستخط سے جاری ہونے والے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’یہ بات پارٹی کے نوٹس میں آئی ہے کہ آپ پارٹی کے اراکین سے رابطے کر رہے ہیں اور انہیں جماعت چھوڑنے پر اُکسا رہے ہیں۔‘پرویز خٹک کو جاری کیے گئے نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ان معلومات کے تناظر میں آپ سے کہا جاتا ہے اگلے سات دنوں میں ان سرگرمیوں کی وضاحت دیں۔پی ٹی آئی کی جانب سے نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر پرویز خٹک کا جواب ’غیر تسلی بخش‘ پایا گیا یا انہوں نے جواب نہیں دیا تو پھر پارٹی پارلیسی اور قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے 9 مئی کو سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد میں گرفتاری کے بعد پُرتشدد احتجاج میں ملک بھر میں حکومتی اور فوجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا جس کے الزام میں پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکنان اور رہنماؤں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی تھی۔ان مظاہروں کے بعد پی ٹی آئی کے درجنوں رہنما یا تو پارٹی چھوڑ چکے ہیں یا پھر پارٹی عہدوں سے استعفے دے چکے ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک بھی ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے ایک پریس کارنفرنس میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے استعفیٰ دیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’باقی دوستوں اور پارٹی کے کارکنوں سے صلاح مشورہ کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کروں گا۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ جہانگیر ترین کے بعد سابق وزیر دفاع اور پی ٹی آئی کے سابق رہنما پرویز خٹک بھی جلد ہی نئی سیاسی پارٹی کا اعلان کرنے والے ہیں۔پرویز خٹک پی ٹی آئی کو خیرباد کہنے کے بعد سے سیاسی طور پر خاصے سرگرم نظر آرہے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے خیبر پختونخوا میں سیاسی شخصیات اور اسلام آباد میں سابق اراکین اسمبلی سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں پرویز خٹک کی رہائش گاہ سیاسی سرگرمیوں کامرکز بن گیا اور مزید سابق اراکین اسمبلی اور سابق وزرا سے رابطے تیز کر دئیے ہیں۔ صوبائی حقوق نئی سیاسی جماعت کے منشور میں سرفہرست ہوگا۔ قبائلی علاقوں کی محرومیاں ختم کرنے کیلئے بھی اقدامات اُجاگر کیے جائیں گے۔ پارٹی کے لئےکئی نام زیر غور یے اور منشور کی تیاری کا کام بھی تیز کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل یہ بھی خبر گردش کررہی تھی کہ پرویز خٹک اور استحکام پاکستان پارٹی کے قائد جہانگیر ترین کے مابین معاملات طے ہو گئے ہیں اور امکان ہے کہ پرویز خٹک آئی پی پی میں شمولیت اختیار کرلیں تاہم اس بات کے تردید کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ وہ کسی دوسری جماعت میں جا رہے ہیں اور نہ ہی ان کی جہانگیر ترین سے کوئی ملاقات ہوئی ہے۔پرویز خٹک نے مزید لکھا کہ ’میرے بارے میں میڈیا پر چلنے والی خبر بے بنیاد اور

سپریم کورٹ مادر پدر آزاد ادارہ کیسے بنی؟

غلط ہے۔

Back to top button