مریم نواز نے پنجاب کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا؟

پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے نمبر گیم پوری ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کی جانب سے پہلی خاتون نامزد وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے صوبے کا کنٹرول سنبھالنے سے قبل پیپر ورک شروع کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جاتی امرا میں سیاسی و انتظامی سرگرمیاں جاری ہیں، انہوں نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کا انتظامی کنٹرول سنبھالنے سے قبل مختلف محکموں سے بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے کم و بیش 10 سرکاری محکموں کے سیکرٹریز کو بریفنگ کے لیے اپنی رہائشگاہ پر طلب کر لیا ہے، تمام محکموں کے سیکرٹریز مریم نواز کو اپنے اپنے محکموں کی مجموعی کارکردگی اور موجودہ صورتحال سے آگاہ کریں گے۔صوبائی سیکریٹریز نامزد وزیراعلیٰ کو صوبے میں اپنے اپنے محکموں کے حوالے سے جاری ترقیاتی کاموں کے بارے میں آگاہ کریں گے اور اپنے اپنے محکموں میں مجوزہ منصوبوں کے بارے میں بریفنگ بھی دیں گے۔ذرائع کے مطابق مریم نواز کو بریفنگ کے دوران چیف سیکرٹری پنجاب بھی موجود ہوں گے، آئی جی پنجاب بھی  مریم نواز سے ملاقات کریں گے، آئی جی پنجاب مریم نواز کو صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیں گے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ روز چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات میں بریفنگ دی تھی، آنے والے دنوں میں دیگر محکموں کے سیکرٹریز سے بریفنگ لینے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

دوسری جانب ملک میں عام انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان وفاق اور صوبائی سطحوں پر حکومت سازی سے متعلق مشاورت جاری ہے۔ اسی حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ق بھی غور و فکر میں مصروف ہے۔ق لیگ کے ذرائع کے مطابق ق لیگ نے پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن سےپنجاب اسمبلی کی اسپیکر شپ کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ن لیگ اسپیکر شپ دینے پر تیار نہ ہوئی تو ق لیگ کی جانب سے اہم وزارت کا مطالبہ کیا جائے گا، ق لیگ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور وزارت کے امیدوار چوہدری شافع حسین ہوں گے۔تاہم ق لیگ ڈپٹی اسپیکر کی سیٹ پر بھی معاملات طے کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے ان دنوں صوبائی کابینہ بنانے کے لیے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب کے مختلف ڈویژنز اور اضلاع سے صوبائی وزرا لیے جانے کا امکان ہے۔صوبہ پنجاب کے لیے کابینہ کی تشکیل میں ابتدائی طور پر 25 سے 30 اراکان شامل کیے جائیں گے۔

دوسری جانب حالیہ عام انتخابات میں شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز کی خالی کی جانے والی سیٹوں پر نون لیگ کے شکست خوردہ رہنماؤں کو الیکشن لڑانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ شریف خاندان سے نواز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز نے دو دو نشستوں جبکہ شہباز شریف نے 4 نشستوں سے الیکشن لڑا تھا جن میں سے نواز شریف مانسہرہ سے الیکشن ہار گئے تھے جبکہ باقی تینوں رہنما تمام سیٹوں سے فتح یاب ہوئے تھے ۔

ن لیگی ذرائع کے مطابق اس وقت پارٹی میں مختلف نام ان حلقوں میں متوقع ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے ضمن میں گردش کر رہے ہیں، اس وقت مریم نواز کی چھوڑی ہوئی نشست حلقہ این اے 119 کے لیے 2 متوقع امیدواروں کے نام لیے جارہے ہیں، جن میں خواجہ سعد رفیق اور علی پرویز ملک شامل ہیں۔لیگی رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق اپنے حلقے سے الیکشن ہار گئے ہیں اس لیے وہ اس حلقے سے آسکتے ہیں جبکہ علی پرویز ملک کا یہ حلقہ رہا ہے، مریم نواز نے جب اس حلقے سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئے تھے، ذرائع کے مطابق یہاں زیادہ امکان علی پرویز ملک کی نامزدگی کا دکھائی دیتا ہے۔اسی طرح لاہور کے حلقہ این اے 123 اور پی پی 158 کے حوالے سے کہا جارہا ہے رانا ثناء اللہ ان حلقوں سے ن لیگ کے امیدوار ہوسکتے ہیں تاہم پی پی 164 پر کون الیکشن لڑے گا اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا جبکہ حمزہ شہباز کی چھوڑی ہوئی نشست پی پی 147 اورعلیم خان کی خالی نشست پی پی 149 پر خواجہ سعد رفیق اور رانا مشہود مضبوط لیگی امیدوار ہو سکتے ہیں۔لیگی ذرائع کے مطابق یہ تمام نام پارٹی کے اندر گردش کر رہے ہیں اور اس ضمن میں حتمی مشاورت ہونا باقی ہے، جس کے بعد حتمی فیصلہ قائد

شہباز شریف کا اقتدار نون لیگ کو کتنا مہنگا پڑے گا؟

مسلم لیگ ن نواز شریف ہی کریں گے۔

Back to top button