عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی تقسیم میں کون کدھر کھڑا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی تقسیم چند ماہ میں کچھ اس طرح ہوئی ہے کہ کون کس طرف کھڑا ہے سمجھ نہیں آ رہا۔ اعلیٰ عدلیہ بھی، بادی النظر میں، تقسیم نظر آتی ہے آئین پاکستان تو ویسے بھی ناجانے کب سے دستک دے رہا ہے۔ ہر مارشل لاء کے بعد وہ دستک دیتا مگر اندر سے کوئی جواب نہ آتا۔ اب تو یہ لگتا ہے یہاں سب کا اپنا سچ ہے اور اپنا اپنا آئین۔ اپنے کالم میں مظہر عباس کا کہنا ہے کہ جیل بھرو تحریک سے کپتان کو کچھ حاصل ہوا ہو یا نہیں یہ تو پتا چل ہی جانا چاہئے کہ جیل جانے والے کون ہیں اور سیلفی بنانے والے کون ؟۔ خیبر پختونخوا میں جو کچھ ہوا اس کے بعد تو اگر پھر بھی ٹکٹ سیلفی والوں کو ہی ملتا ہے تو یہ قربانی دینے والوں کی بدقسمتی ہوگی۔ بات لانگ مارچ کی ہو، دھرنے کی یا جیل بھرنے کی اس کے ممکنہ نتائج حاصل ہوئے ہوں یا نہیں مگر اس کا فائدہ عمران اور پی ٹی آئی کو مسلسل ضمنی الیکشن میں ہورہا ہے اور پی ڈی ایم کی حکومت ہویا مسلم لیگ (ن) ، پی پی پی ، اے این پی، جے یو آئی اور ایم کیو ایم کی، سیاست کو گزشتہ 10 ماہ کی قیمت تو بہر حال ادا کرنی پڑے گی۔ پی پی پی اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ سندھ میں اب بھی اس کی پوزیشن مستحکم ہے۔ اب خود گجرات کے چوہدریوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ چوہدری شجاعت نے اب بھی آصف زرداری کا دامن مضبوطی سے تھاما ہوا ہے۔ چھوٹے بھائی نے بہرحال اپنا راستہ جدا کرلیا ہے۔
مظہر عباس لکھتے ہیں کہ چوھدری برادران میں سے زیادہ محترک برادر چوہدری پرویز الٰہی پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر بننے جا رہے ہیں یا یوں کہیں تو زیادہ بہتر ہو گا کہ شاید ایک اور وسیم اکرم پلس تیار ہو گیا ہے گو کہ پارٹی کے اندر اس حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے کہ الیکشن جیتنے کی صورت میں پنجاب کے آئندہ وزیراعلیٰ پرویز الٰہی ہونگے یا کوئی پرانا پارٹی رہنما؟ 2018 میں بھی پارٹی کے اندرگروپنگ کے نتیجہ میں عثمان بزدار، جنہوں نے اس وقت نئی نئی پی ٹی آئی جوائن کی تھی کی لاٹری کھل گئی۔
اب چوہدری پرویز الٰہی کے پاس تو اس اعلیٰ منصب یا تحت لاہور کا تجربہ بھی ہے۔ مگر 2023 میں خان صاحب بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں اور پر اعتماد بھی کہ وہ مرکز، پنجاب اور کے پی میں دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو جائیں گے۔ راجن پور کا نتیجہ ہو یا 10 ماہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن ان کے اس دعویٰ میں وزن بھی نظر آتا ہے گو کہ الیکشن کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور پنجاب میں برادری سسٹم آج بھی مضبوط ہے۔
مظہر عباس بتاتے ہیں کہ دو ہزار اٹھارہ میں چودھری پرویز الہی نے انہیں بتایاتھا کہ ایک دن عمران خان ان کے پاس آئے اور پہلی بار عثمان بزدار کیلئے حمایت مانگی تو میں نے ان سے کہا آپ اکثریتی پارٹی کے ہیں جس کو بھی وزیراعلیٰ بنائیں گے ہماری تائید حاصل ہوگی، بزدار ہمارا برخوردار ہے۔ پھر ان ساڑھے تین سال میں وسیم اکرم پلس وزیراعلیٰ تو تھے مگر پنجاب کے چھ ڈسٹرکٹ چوہدری پرویزالٰہی کے پاس تھے۔ تحریک انصاف کے اندر اب بھی اس حوالے سے شکوک و شہبات پائے جاتے ہیں اور شاید اسی وجہ سے اب تک چوہدری پرویز الٰہی اور عمران خان کے درمیان معاہدہ منظر عام پر نہیں آیا۔ اگر پنجاب میں ضمنی الیکشن 90روز میں ہونے کا اعلان ہوجاتا ہے تو چوہدری پرویزالٰہی کے حصے میں کتنی سیٹیں آئیں گی ان 10 ایم پی ایز کے علاوہ جو پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں۔ ویسے تو خان صاحب نے چند ماہ پہلے پرانے پارٹی رہنمائوں حامد خان اور نجیب ہارون سمیت 10ارکین کی ایک مشاورتی کونسل تشکیل دی تھی جس کا کام یہ تھا کہ وہ آئندہ انتخابات کے حوالے سے امیدواروں کے انتخاب کا طریقہ کاربنائیں۔ اس کونسل نے اپنی رپورٹ بھی بھیج دی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی اطلاع ہے کہ پارٹی کے پرانے لوگوں کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے مگر اب لگتا ہے گجرات سمیت چنداضلاع کے پارٹی کے لوگوں کو قربانی دینی پڑے گی۔مظہر عباس کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ایک غلط فیصلہ تھا نہ ریاست کیلئے درست تھا نہ سیاست کیلئے۔ اس کے بعد دوسرا غلط فیصلہ پی ڈی ایم کا حکومت بنانا اور شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانا۔
تیسرا غلط فیصلہ پنجاب میں حمزہ شہباز کا تجربہ، پھر چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف پہلے عدم اعتماد پھر اعتماد کا ووٹ۔ اس تمام عرصہ میں عمران خان اپنےووٹر اور سپوٹر کے ساتھ منسلک نظر آیا ۔ بقول ہمارے دوست مشاہد حسین ،غلطی کرنی ہے تو نئی غلطیاں کریں پرانی غلطیاں کیوں دہراتے ہیں۔
