عمران دور میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے مجرم کون ہیں؟

ساانحہ 9 مئی میں عسکری املاک کو نقصان پہنچانے، شہداء کی یادگاروں کو آگ لگانے اور نام نہاد احتجاج کے بہانے جلاؤ گھیراؤ میں ملوث شرپسند عمرانڈوز پر آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے پر چیخیں مارنے والا عمران خان اپنے دواقتدار میں کی گئی خرافات شاید بھول چکا ہےکیونکہ عمران خان کے دور میں نہ صرف فوجی عدالتوں میں سویلیز پر مقدمات چلائے گئے اور انھیں سزائیں ہوئیں بلکہ مقدمات کی سماعت سے قبل انھوں کو لمبے عرصے تک لاپتہ بھی رکھا گیا۔ اس بات کا انکشاف سینئر صحافی انصار عباسی نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ انصار عباسی کے مطابق عمران خان کے دور حکومت میں جن سویلین افراد پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا گیا انہیں پولیس نے گرفتار کیا تھا اور نہ ہی عدالتوں کے ذریعے انہیں فوجی حکام کے حوالے کیا گیا تھا، جیسا کہ اب 9؍ مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے معاملے میں کیا جا رہا ہے۔گمشدہ افراد کا مقدمہ لڑنے کے حوالے سے شہرت یافتہ سینئر وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو اغوا کیا گیا تھا، ان کے اہل خانہ کو بھی ان کی گرفتاری یا ٹھکانے کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

انصار عباسی کے مطابق گزشتہ ہفتے دی نیوز نے آئی ایس پی آر سے رابطہ کرکے گزشتہ 10؍ سے 20؍ سال کے دوران آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت 4؍ ریٹائرڈ فوجیوں سمیت جن 25؍ افراد کا ٹرائل فوجی عدالتوں کے ذریعے ہوا اور انہیں سزائیں دی گئیں؛ ان کی فہرست حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ چند روز گزرنے کے باوجود فوجی ترجمان نے مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کیں۔

تاہم دوسری طرف کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے 25؍ افراد کی فہرست فراہم کی ہے جن کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلایا گیا اور انہیں سزائیں سنائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے درج ذیل 25؍ سویلین افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائے جانے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

اس فہرست میں یہ افراد شامل ہیں۔

سید عادل حسین شاہ، 2019 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور موت کی سزا سنائی گئی۔

محمد حسین، ستمبر 2020 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور موت کی سزا سنائی گئی۔

احمد نواز، مارچ 2020 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور موت کی سزا سنائی گئی ۔

محمد امتیاز خان، مجرم قرار دیتے ہوئے 20 سال قید کی سزا سنائی گئی؛

حبیب قادر، 2019 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور 10؍ سال کی سخت قید بامشقت ہوئی۔

اجمل خان، 2021 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور 8 سال سخت قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

محمد صدیق، جون 2018 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور 11 سال سخت قید بامشقت کی سزا دی گئی۔

راجہ مشتاق احمد، جون 2020 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور 10 سال سخت قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

سید امتیاز حسین شاہ، جولائی 2018 میں مجرم قرار پائے اور 10 سال سخت قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

عابد ظہیر، جون 2018 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور اسے 12 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

محمد عثمان اکرم کیانی، جولائی 2021 میں سزا یافتہ اور 10 سال کی سزا دی گئی؛

حوالدار (ر) محمد حیدر، اگست 2018 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور 13 سال قید کی سزا سنائی گئی؛

اشفاق مسیح، اکتوبر 2018 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور 8 سال سخت قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

آصف محمود شاہد، فروری 2018 میں سزا یافتہ اور 10 سال قید کی سزا ہوئی؛

محمد ناظم ایڈووکیٹ، اگست 2018 میں مجرم قرار پائے اور 10 سال سخت قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

محمد عامر خان، جو جولائی 2019 میں مجرم قرار پائے اور 11 سال سخت قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

امتیاز احمد، نومبر 2018 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور آٹھ سال سخت قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

مشتاق احمد، فروری 2019 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور 14 سال سخت قید بامشقت کی سزا سنائی گئی؛

محمد اکبر، فروری 2019 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور 14 سال سخت قید بامشقت کی سزا ہوئی

خضر احمد، مارچ 2022 میں مجرم ٹھہرایا گیا اور چھ سال قید کی سزا ہوئی؛

ڈاکٹر شہزاد اصغر، ستمبر 2019 میں سزا یافتہ اور 10 سال قید کی سزا سنائی گئی؛

ادریس خٹک، نومبر 2021 میں مجرم قرار پائے اور 14 سال سخت قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

لیفٹیننٹ کرنل (ر) اکمل اشرف، اکتوبر 2021 میں سزا یافتہ اور 11 سال قید کی سزا ہوئی؛

لیفٹیننٹ کرنل (ر) فیض رسول، دسمبر 2021 میں مجرم قرار پائے اور انھیں 13 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ  میجر (ر) سیف اللہ بابر کو ستمبر 2022 میں مجرم ٹھہراکر 12 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

کرنل (ر) انعام الرحیم کے مطابق مذکورہ بالا افراد نے اپنی سزاؤں کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور عدالت نے تین افراد کی سزائیں معطل کر دی ہیں جبکہ ان کے کیسز لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ 25؍ افراد مسنگ پرسنز تھے اور انہیں فیلڈ مارشل کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10 اور 10 کے کیخلاف ورزی میں سزائیں سنائی گئیں۔

ٹک ٹاکر کنول آفتاب کو پاگل خانے بھجوانے کا مشورہ کیوں ملا؟

Back to top button