مودی کا امریکہ میں بھی پاکستان کیخلاف زہریلاپراپیگنڈا

 امریکا اور بھارت نے عالمی دہشتگردی کے مقابلے کیلئے متحد ہونے کا اعلان کردیا ہے اور دہشتگردی اور ہر قسم کی انتہا پسندی کی یک زبان ہوکر مذمت کی ہے۔

 امریکی صدر جوبائیڈن اور بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل گروپوں بشمول القاعدہ، داعش، لشکر طیبہ، جیش محمد، حزب المجاہدین کیخلاف ٹھوس اقدامات کئے جائیں، سرحد پار دہشتگردی کی بھی مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کیلئے استعمال سے ہونے سے روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے۔

 مشترکہ بیان میں دونوں رہنماؤں نے ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ بھی کیا۔

دونوں رہنماؤں نے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے عالمی استعمال اور دہشتگردوں کے ہاتھوں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا، انہوں نے ایف اے ٹی ایف سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کیلئے رقوم کے استعمال کو روکنے کیلئے اپنے اقدامات مزید تیز کرے۔

 انہوں نے پرامن افغانستان کی بھی حمایت کی اور طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرے، دونوں رہنماؤں نے 12یو ٹو ممالک انڈیا، اسرائیل، امارات، امریکا کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کا اعادہ بھی کیا، مودی کی وائٹ ہاؤس میں بائیڈن سے ملاقات، ساڑھے تین ارب ڈالر کا معاہدہ، نمائندہ جنگ صالح ظافر کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی جنہیں اپنے پانچویں دورہ امریکا میں سرکاری ریاستی مہمان کی حیثیت سے پہلی مرتبہ غیر معمولی آؤ بھگت سے نوازا جارہا ہے اب نیویارک سے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر نے شاندار خیرمقدم کیا ہے۔

 وہ وائٹ ہاؤس کے پرشکوہ اوول ہاؤس میں امریکی قیادت سے مذاکرات کررہے ہیں جہاں ان کی پہلے صدر سے ون ٹو ون ملاقات ہوئی اور بعد ازاں وفود کی سطح کے مذاکرات ہوئے امریکی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان ساڑھے تین ارب ڈالر کی مالیت کے ایک معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں جس کے ذریعے امریکی جی ای کمپنی جنگی طیاروں کے انجن بھارت میں تیار کرے گی اس کے لئے امریکی کانگریس سے منظوری حاصل کی جارہی ہے۔

مودی کی امریکی کارپوریٹ اور سرمایہ کار کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات ہورہی ہے جس میں وہ بڑے پیمانے پر بھارت میں سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بھارتی وزیراعظم سے تبادلہ خیال کرینگے اور ان کی تفصیلات آئندہ دو دنوں میں سامنے آجائیں گی۔ خلائی تحقیق کے شعبے میں امریکا اور بھارت کے درمیان معاہدہ بھی طے پارہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نریندرا مودی نے وزیراعظم بننے کےبعد اپنے ملک یا کسی دوسرے مقام پر کوئی پریس کانفرنس نہیں کی پہلی مرتبہ جمعرات کو امریکی دباؤ کے باعث نہ صرف نیوز کانفرنس سے خطاب کرنا پڑا بلکہ انہیں امریکی صحافیوں کے تلخ سوالات کا بھی سامنا ہوا جن کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے سچائی کا دامن چھوڑ دیا۔

 ایک امریکی اخبار نویس نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی آزادی کے حوالے سےدریافت کیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ کسی قوم، نسل، مذہب، جنس اور عقیدے سمیت کسی بھی معاملے میں تفریق برتنے کی جمہوریت میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی یہی و جہ ہے کہ بھارت میں ’’سب کے ساتھ سب کی فلاح سب کے اعتماد اور سب کی کوششیں‘‘ پر آگے بڑھاجاتا ہے، انہوں نے یہ جملہ اپنے سیاسی نعرے کی بنیاد پر پیش کیا۔

بھارتی وزیراعظم جن کی پوری تاریخ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی سے عبارت ہے کہہ رہے تھے انسانی حقوق کی عدم موجودگی میں کسی جمہوریت کا تصور نہیں ہوسکتا۔ مودی نے کہا کہ امریکا اور بھارت دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتیں ہیں جو عالمی امن، استحکام اور خوشحالی میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تعاون کے لئے آسمان کی وسعت بھی حد نہیں ہوسکتی اس کی بنیاد دونوں ممالک کے عوام کے تعاون پر استوار ہے امریکا کی ترقی میں چالیس لاکھ سے زیادہ بھارتی اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان بحیرہ ہند کے خطے میں امن و سلامتی مشترکہ ترجیح کی حیثیت رکھتی ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے بھارت کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے آگے بڑھنے کے بارے میں اپنے ارادے کا اظہار کیا۔

امریکا میں بھارتی وزیراعظم کی آمد سے قبل کانگریس کے ارکان کے علاوہ امریکا کے سابق صدر بارک اوبام جنہیں امریکی رائے عامہ حد درجہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور جنہیں صدر بائیڈن کے بہت قریب تصور کیا جاتا ہے۔ یاد دلاچکے ہیں کہ صدر بائیڈن کو مہمان وزیراعظم کے ساتھ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوںکے خلاف روا رکھے جارہے مظالم کے بارے میں آواز ضرور اٹھانا چاہئے۔ سرکاری بیانات سے اس امر کا سراغ نہیں مل سکا کہ صدر بائیڈن نے مودی کے ساتھ اس معاملے پر بات کی ہے یا نہیں۔

بارک اوباما نے رائے زنی بھارتی وزیراعظم کی صدر بائیڈن سے ملاقات سے چند گھنٹے پہلے کی تھی اسی دوران وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سیلوین نے بتایا ہے کہ امریکی صدر مودی سے بھارتی جمہوریت کی پسپائی اورمسلمانوں پر حملوں کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کریں گے تاہم وہ اس موضوع پر بھارتی وزیراعظم کو لیکچر نہیں دینگے۔

مودی پر اپنے مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کرنے، صحافیوں اور صحافت پر پابندیوں کے علاوہ جنسی تشدد روا رکھے جانے کے سنگین الزامات عائد کئے جاتے ہیں جن کی سرکاری طور پر سرپرستی ہوتی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان خلائی تعاون کے جس معاہدے پر دستخط ہورہے ہیں اس کی رو سے آئندہ سال دونوں ممالک ملک میں اسٹیشن قائم کرنے کے لئے مشترکہ مشن بھیجیں گے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مودی کے دورہ امریکا کا چین سے کوئی تعلق نہیں اس کے ذریعے چین کو کوئی پیغام نہیں بھیجا جارہا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے بارے میں ہے جس کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کو بلندیوں پر لے جایا جائے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس دعوے کے باوجود چین ان کہی کہانی کا عنوان

کسوہ فیکٹری نے نیا غلافِ کعبہ تیار کرلیا

ہے جس کے بارے یں دونوں ممالک خاموشی اور رازداری سے بات کرینگے۔

Back to top button