کیا واقعی نون لیگ کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہو چکی ہے؟

ماضی قریب میں اسٹیبلشمنٹ کے انتہائی مخالف سمجھے جانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف نے اگلے انتخابات میں مبینہ طور پر دو تہائی اکثریت کے لیے ان روایتی سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کر دئیے ہیں، جنہیں جی ایچ کیو کے قریب سمجھا جاتا ہے۔اس پیش رفت نے سیاسی پنڈتوں کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر رکھا ہے اور سیاسی مبصرین ان چند اہم سوالات کے جوابات تلاش کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں کہ کیا واقعی نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ میں کوئی ڈیل ہو چکی ہے، اگر کوئی مفاہمت ہو چکی ہے تو نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہونے والی ڈیل کے مندرجات کیا ہیں؟ نون لیگ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کیوں کر رہی ہے؟ کیا 18ویں ترمیم کو دوتہائی کی ممکنہ اکثریت سے خطرہ ہے؟ کیا نون لیگ کا یہ طرز سیاست نظریاتی ہے؟
مبصرین کے مطابق نون لیگ نے بلوچستان عوامی پارٹی اور پنجاب سمیت ملک کے طول و عرض میں روایتی سیاست دانوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں اور کچھ سیاست دانوں نے نون لیگ میں شمولیت بھی اختیار کر لی ہے جبکہ متعدد الیکٹیبلز کی شمولیت آنے والے چند دنوں میں متوقع ہے۔
نون لیگی حلقوں کےمطابق مسلم لیگ ن ہر اُس سیاستدان کو پارٹی میں شامل کرنے کے لیے تیار ہے، جو پارٹی کے نظریے اور مقاصد سے اتفاق کرتا ہو۔ ”یقینا ہر پارٹی کی طرح نون لیگ بھی دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور ہر اس سیاستدان سے رابطہ کرے گی، جو ہمارے نظریات سے متفق ہو۔‘‘بلوچستان عوامی پارٹی سمیت وہ روایتی سیاستدان، جنہوں نے ماضی میں نون لیگ کو چھوڑ دیا تھا، پارٹی کے منشور و مقاصد سے اتفاق کریں گے تو انہیں بھی پارٹی میں دوبارہ شامل کر لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ نون لیگ نے 2018 ء سے پہلے نظریاتی سیاست کا علم بلند کرتے ہوئے ‘ووٹ کو عزت دو’ کے نعرے کو اپنا منشور قرار دیا تھا۔ نواز شریف نے کئی تقاریر میں فوج کے سیاسی کردار پر شدید تنقید اور جرنیلوں کو ان کی آئینی حدود میں رہنے کی تاکید کی تھی۔تاہم اب مسلم لیگ ن کے سیاسی مخالفین اور بعض ناقدین یہ الزام لگا رہے ہیں کہ نون لیگ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے ایوان میں بھاری اکثریت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ تاہم ن لیگی رہنما ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جمہوری نظریات پر پابند ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اس حوالے سے معروف تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نون لیگ کو بہت زیادہ چھوٹ دی گئی ہے۔ ’’پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھ باندھ دیے گئے ہیں اور انہیں طاقت کے ذریعے انتخابات لڑنے سے روکا جائے گا۔‘‘سہیل وڑائچ کے مطابق اگر نون لیگ دو تہائی اکثریت لے کر کامیاب بھی ہو جاتی ہے تو بھی یہ بھاری اکثریت بہت زیادہ پائیدار نہیں ہو گی، ”97 میں نواز شریف کو دو تہائی اکثریت حاصل تھی لیکن انہیں اقتدار سے نکال دیا گیا۔ عمران خان اکثریت کے باوجود نکالے گئے۔ تو پاکستان میں اکثریت کوئی بہت زیادہ معنی نہیں رکھتی۔‘‘
دوسری طرف اینکر پرسن غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ جس بھان متی کے کنبے کو اکٹھا کر کے نون لیگ میں بھیجا جا رہا ہے وہ کسی بھی وقت کہیں سے اشارہ ملتے ہی انہیں چھوڑ جائیں گے۔ پاکستان میں نظریاتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو سمجھا جاتا ہے۔ نون لیگ نے ووٹ کو عزت دو کا مقبول عام نعرہ ضرور لگایا تھا لیکن وہ ماضی میں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ جماعت رہی ہے۔‘‘غریدہ فاروقی کے مطابق پاکستانی سیاست میں بہت سارے اشاروں پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے۔ اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”نون لیگ اب ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سے رابطے کر رہی ہے اور اگر یہ دو پارٹیاں کسی جماعت کے ساتھ چلی جائیں تو یہ واضح اشارہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت پھر کس نوعیت کی ہو گی۔ تاہم ان جماعتوں کو جیسے ہی اشارہ ملے گا، وہ کسی اور طرف دیکھنا شروع کر دیں گے۔‘‘
ماضی میں ن لیگ کے اتحادی اور اب ایک بار حریف کچھ سیاست دانوں کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف نے ملک کے طاقتور حلقوں سے ڈیل کی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ جس انداز میں نواز شریف کو وزیراعظم کا پروٹوکول دیا جا رہا ہے وہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ”جس تیزی سے نواز شریف کو لایا گیا اور جس تیزی سے ان کو قانونی معاملات میں ریلیف دی جا رہی ہے اس سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اگلے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع مہیا نہیں کیے جائیں گے۔ اگر پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ مل جائے تو مسلم لیگ نون کو دو تہائی تو بہت دور کی بات ہے سادہ اکثریت بھی نہیں مل سکتی۔‘‘نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ نوازشریف کو ایک ڈیل کے تحت ہی لایا گیا ہے، ”لیکن کیا اس ڈیل کے نتیجے میں اٹھارویں ترمیم کو بھی تبدیل کیا جائے گا۔ میں اس کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔ اس وقت تو یہ لگ رہا ہے کہ ڈیل کے نتیجے میں انتخابات
پنکی اور گوگی کی لوٹ مار میں کپتان بھی شریک تھا
شفاف نہیں ہوں گے۔‘‘
