نون لیگ کا انتخابی مہم میں مفاہمتی بیانیہ اپنانے کا فیصلہ؟

نون لیگ نے جہاں اقتدار سنبھالنے کے امور مملکت چلانے کیلئے منصوبی بندی مکمل کر لی ہے وہیں دوسری طرف مخالف سیاسی جماعتوں کو ٹف ٹائم دینے اور اپنے کارکنان کا خون گرمانے کیلئے انتخابی حکمت عملی بھی مرتب کر لی ہے۔

مبصرین کے مطابق نون لیگ کی انتخابی مہم میں نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز سمیت دیگر مرکزی راہنما بھی شامل ہونگے تاہم نون لیگ کے انتخابی جلسوں میں مسلم لیگ (ن) کے قائدین بالخصوص سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر میں ان کے بیانیے، لب ولہجے، حکومت بنانے کی صورت میں آئندہ کی حکومتی پالیسیوں اور اپوزیشن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک اور تعلقات کے حوالے سے ملک بھر کے عوام اور خاص طور پر مختلف حلقوں کی خاص نظر ہوگی، چونکہ نون لیگ کے مخالفین نواز شریف کے بارے میں مسلسل یہ تاثر دینے میں مصروف ہیں کہ پاکستان میں لیگی قائد اپنے ماضی کے بیانیے اور اصولی موقف پر قائم رہنے کی پاداش میں تین مرتبہ جبری طور پر نہ صرف وزارت عظمیٰ سے محروم اور جلا وطن ہو چکے ہیں بلکہ جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کر چکے ہیں۔

تاہم اب ایک مرتبہ پھر وہ اپنے اصولی موقف سے دستبردار ہوکر اور نہ چاہنے کے باوجود سمجھوتے کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور صرف مخالفین ہی نہیں بلکہ نواز شریف کے لاتعلق ہونے والے قریبی ساتھی بھی اپنے قائد کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں اور اس ضمن میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور کے پی کے کے سابق وزیراعلیٰ سردار مہتاب خان کے گلے شکوں پر مبنی بیانات کا حوالہ بھی دیا جاسکتا ہے جنہیں ماضی میں میاں نواز شریف کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا اور دونوں کے اہم مناصب صرف اور صرف میاں نواز شریف کی سیاسی قربت اور ان کی صوابدید کا باعث بنے تھے۔اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے بارے میں تو صورتحال واضح ہے کیونکہ وہ اپنی ڈیڑھ سالہ حکومت میں طاقتور حلقوں سے اپنی وابستگی اور اپنے بارے میں ان کی پسندیدگی کا کھلم کھلا اظہار کرچکے ہیں۔تاہم اب کی بار لگتا یہی ہے کہ نون لیگ کی انتخابی مہم میں اسٹیبلشمنت کے خلاگ گن گرج کی بجائے مفاہمت کا بیانیہ حاوی رہے گا۔

خیال رہے کہ نواز شریف چو تھی بار وزارت عظمیٰ کےلیے اپنی قسمت آزما نا رہے ہیں ۔ نواز شریف نے اپنے سیا سی کیریئرمیں جیل کاٹی ، جلاوطنی اختیار کی اور اقتدار میں بھی آئے لیکن گزشتہ تین ادوار میں اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکے ۔ 1990سے 1999ء کے درمیان نواز شریف دو بار پاکستان کے و زیراعظم منتخب ہوئے تا ہم 12اکتوبر 1999ء کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر)پرویز مشرف نے ان کو حکومت کا تختہ الٹ دیا ۔ ان پر طیارہ اغوا کرنے دہشت گردی اور قتل کی سازش کے الزام میں مقدمہ چلا 6اپریل 2000ء کو انہیں مجرم قراردے کر عمر قید کی سزا سنائی گئی ۔ جولائی 2000ء میں نواز شریف کو کرپشن کا مرتکب قرار دے کر مزید 14سال قید کی سزا سنادی گئی ۔ دسمبر 2000ء میں نواز شریف کو اثاثے چھپانے اور ٹیکس چوری کا بھی مرتکب قرار دیا گیا۔ تاہم نواز شریف کو 2002ء میں سعودی شاہی شخصیات سے ایک معاہدے کے تحت رہا کرکے 2007ء میں سعودی عرب بھیج دیا گیا ۔اسی سال سپریم کورٹ نے ان پر عائد جلاوطنی ختم کردی ۔نواز شریف نے وطن واپسی کی کوشش کی لیکن انہیں اپنی آمد کے چند گھنٹوں بعد ہی ملک سے بے دخل کردیا گیا۔ بالآخر وہ25نومبر 2007ء کو پاکستان واپس آگئے 10دسمبر 2000ء سے25نومبر 2007ء تک 2540دن نواز شریف نے چلا وطنی میں گزرے۔ لیکن وہ 2008ء میں مجوزہ اور فروری 2009ء میں ہونے والے عام انتخابات میں شرکت نہ کر سکے کیونکہ عدالت نے مجر مانہ مقدمات میں عدالتوں سے سزاؤں کی وجہ سے نواز شریف کو انتخابات میں شرکت سے نا اہل قرار دیا تھا ۔

اس وقت انہیں نظر بند کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن مشغل ہجوم کے ان کی رہائش گاہ پر جمع ہوجانے کے باعث پنجاب پولیس حیران کن طور پر انہیں نظر بند کئے بغیر وہاں سے چلی گئی ۔ اس وقت چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی جبری معزولی پر ان کی بحالی کےلیے وکلا کی پر زور تحریک جاری تھی ۔ اس وقت نواز شریف نے چیف جسٹس سمیت دیگر معزول جج صاحبات کی بحالی کےلیے لانگ مارچ کی قیادت کی ۔ ۔26مئی 2009ء کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کو عام انتخابات میں شرکت کا اہل قرار دیا ۔جولائی 2009ء میں انہیں طیارہ ہائی جیکنگ کیس سے بری کردیا گیا ۔اپریل 2010ء میں اٹھارہویں آئینی تر میم کے تحت دوبارہ وزیراعظم کی حدختم کردی ۔ جون 2013ء میں وہ تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے۔ تاہم نومبر 2016ء میں پاناما پیپر ز اسکینڈل سامنے آیا ۔28جولائی 2017ء کو انہیں اپنے کاغذات نامزدگی میں دبئی کی کمپنی میں اپنی ملازمت ظاہر نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے وزارت عظمیٰ سے ہٹادیا ۔۔جولائی 2018ء میں احتساب عدالت ایون فیلڈ کر پشن ریفرنس میں نواز شریف کو غیر حاضری میں10سال قیدکی سزا سنادی ۔نیب سے عدم تعاون پر ایک سال کی سزا سنائی گئی ۔ ان کی سیاسی جانشین مریم نواز کو7سال قید کی سزا دی گئی ۔ انہیں10سال کےلیے سیاست سے نا اہل قرار دیا گیا ۔ انہیں کرپشن کے ایک اور مقدمے میں دسمبر2018ء میں7سال قید کی سزا سنائی گئی ۔تاہم اکتوبر2019ء میں انہیں خرابی صحت پر رہا کیا گیا ۔نومبر 2019میں وہ بغرض علاج لندن چلے گئے۔دسمبر2020ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری ملزم قرار دیا ۔ اپریل 2022ء میں عمرا ن خان کی سبکدوشی کے بعد ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف پاکستان کے وزیراعظم بن گئے ۔ 21اکتوبر 2023ء کو نواز شریف 4سال لندن میں گزار کر پاکستان واپس آئے ۔ ایک عدالت نے ان کی حفاظتی ضمانت منظور کی ۔ 12دسمبر 2023کو عدالت نے نواز شریف کی سزا ختم کردی ۔

پاور سیکٹر کمپنیوں میں لازمی سروس ایکٹ نافذ

Back to top button