پاک فوج کے معتوب،باغی اور مجرم جرنیلوں کی داستان

پاکستان میں حاضر سروس یا ریٹائرڈ جرنیلوں کو ہتھکڑیاں لگنا یا انہیں پابند سلاسل کرنا کوئی نئی بات نہیں ماضی میں بھی کئی جرنیلوں کو عوام کو ریاست کے خلاف بھڑ کانے ، حکمرانوں کے خلاف بولنے ،جاسوسی ، بد عنوانی اور فوج کے ضابطہ اخلاق کی بغاوت اور تختے الٹنے پر مور د الزام ٹھہرایا گیاہے ۔ملٹری ڈاکٹرائن کے سابق ڈائر یکٹر جنرل اور ایڈ جوٹنٹ جنرل لیفٹنٹ جنر(ر)امجد شعیب معتوب جنرلوں کی فہرست میں تازہ ترین اضافہ ہیں ۔انہیں ریاستی اداروں کے خلاف عوام کو اکسانے کے الزام میںگرفتار کیا گیا ہے ۔
پاکستان میں ایسے معتوب فوجی افسران کی فہرست پر نظر دوڑائی جائے تو اولین پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل اکبر خان پر 1951ء میں ملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کا الزام لگا ،جو ناکام ثابت ہوئی ۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 11اوردیگر افسران کی ملی بھگت سے حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ تیار کیا تھا ۔ان میں ممتاز شاعر فیض احمد فیض اور پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سجاد ظہیر بھی ملوث بتائے گئے ۔جنرل اکبر خان کی اہلیہ نسیم شاہنواز کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کو بغا وت پر اکسا یا تھا ۔ بغاوت کی یہ کوشش ’’راولپنڈی سازش کیس ‘‘ کہلائی جس کا بھانڈا بھی جنرل اکبر کے ایک معتمدنےپھوڑاتھا۔اور دیگر افراد پر فرد جرم عائد ہوئی ان میں ایئر کمانڈر اور جنجوعہ بر گیڈئیرصادق خان ، بر یگیڈیئرلطیف خان ، کرنل ضیاء الدین ،لیفٹننٹ کرنل نیاز ارباب ، کیپٹن خضرحیات ،کیپٹن ظفر اللہ پوشی ، بیگم نسیم شاہنواز اور حسین عطا، بھی شامل تھے ۔ان پر18ماہ مقدمہ چلا جنرل اکبر اور فیض احمد فیض کو طویل سزائیں سنائی گئیں ۔ مقدمے کی کارروائی خفیہ رکھی گئی ۔ان کا مقدمہ سابق وزیراعظم (بعدازاں) حسین شہید سہروردی نے لڑا تھا۔1557ء میں جب حسین شہید سہروردی پاکستان کے وزیراعظم بنے ، انہوں نے سزائیں ختم کردیں ۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں جنرل اکبر کو سیا سی کردار ملا اور وہ مشیر بنا دیئے گئے تھے۔1980ء میں میجر جنرل تجمل حسین ملک نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف بغاوت کی نا کام کوشش کی ، ان کا کورٹ مارشل ہوا ۔ بتایا جاتا ہے کہ23مارچ 1980ء کو یوم پاکستان کی پریڈ پر ان کا منصوبہ جنرل ضیاء الحق کو قتل کرنے کا تھا ۔ لیکن یہ پلان فاش ہوگیا ۔انہیں بیٹے نویڈ سمیت جبری مشقت کی سزا ہوئی ۔1988ء میں طیارے کے حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد انہیں رہائی مل گئی ۔میجر جنرل تجمل حسین ملک نے1977ء میں بھی ضیاء الحق کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کی تھی ۔1995ء میں میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے آپر یشن خلافت کے عنوان سے بغاوت کی کوشش کی ۔ان کا منصوبہ کورکمانڈرز کا نفرنس کے موقع پر جی ایچ کیو پر قبضہ کرنا تھا ۔اس وقت وہ ڈائر یکٹر جنرل انفنڑی کور تھا ۔انہیں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف بغاوت کے الزام میں7سال قید کی سزا ہوئی تھی ۔
اس وقت آرمی چیف جنرل عبد الوحید کا کڑ نے ڈائر یکٹر ملٹری انٹلی جنس میجر جنرل جہانگیر کرامت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر بغاوت کچل دی ۔36فوجی افسران اور 20سوئیلین گرفتار ہوئے بریگیڈیئرمستنصر بالہ کو 14سال قید کی سزا ہوئی۔4نو مبر 2007ء کو جنرل پر ویز مشرف کی جانب سے کریک ڈاؤن میں آئی ایس آئی کے سابق سر براہ لیفٹنٹ جنرل (ر) حمید گل کو گرفتار کیاگیا ۔ کراچی میں اپنی ریلی پر خود کش حملے کے کچھ دنوں بعد ہی بے نظیر بھٹو نے پرویز مشرف کے نام ایک خط میں جنرل حمید گل کا نام اپنی قتل کی سازش 4افراد میں سے لیا تھا۔بر یگیڈئیر(ر) اعجاز شاہ کا نام بھی شامل تھا ۔ اپر یل 2016ء کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے لیفٹنٹ جنرل عبید اللہ اور میجر جنرل اعجاز شاہ سمیت6فوجی افسر کو بر طرف کردیا ۔ اگست 2015ء میں این ایل سی کے دور یٹائرڈ جنرلوں اور ایک سو ئیلین افسر کو ایک فوجی عدالت نے قواعد کی خلاف اور قومی حزانے کو بھاری نقصان پہنچا نےاوراس کے علاوہ حصص مارکیٹ میں 4.3ارب روپے کی سر مایہ کاری پر سزائیں سنائیں ۔
ان میں میجر جنرل خالد ظہیر اختر اور لیفٹنٹ جنرل افضل مظفر شامل تھے۔2016ء میں لیفٹنٹ جنرل زاہد علی اکبر نے خودرد بر د فنڈز سے نیب کی جانب سے پہلی بار گین کے نتیجے میں20کروڑ روپے واپس کئے ۔ وہ کور کمانڈر راولپنڈی 1987ء تا1992چیئرمین واپڈااور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی رہے فروری2018ء میں نیب نے آئی ایس آئی کے سابق سر براہ لیفٹنٹ جنرل جاوید اشرف قاضی کے خلاف دو ارب روپے کرپشن کا ریفرنس دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ۔دیگر میں سابق چیئرمین ریلوے لیفٹنٹ جنرل (ر) سعید الظفر،میجر جنرل حامد حسن بٹ اور سابق ممبر ریلوے بر یگیڈئیر اختر علی بیگ شامل ہیں ۔ مئی2019ء میں لیفٹنٹ جنرل جاوید اقبال کو ایک فوجی عدالت نے عمر قید اورایک بر یگیڈئیر راجا رضوان کو سزائے موت سنائی ۔ فروری 2019ء کو آئی ایس آئی کے سابق سر براہ لیفٹنٹ جنرل اسد درانی کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سر براہ کے ساتھ مل کر کتاب لکھنے پر فوجی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا ۔17دسمبر 2019کو عدالت عالیہ کے ججوں پر مشتمل خصوصی عدالت نے سابق فوجی حکمراں پر ویز مشرف کو آئین شکنی پر انتہائی غداری کا مرتکب قرار دیا ۔ تا ہم13جنوری 2020ء کو لاہور ہائی کورٹ نے ان کی سزائے موت کا حکم کالعدم قرار دے دیا ۔پاکستان کے ایک سابق سربراہ منصور الحق نے بھی نیب سے پہلی بار گین کی بعد امریکا نے انہیں پاکستان کے حوالے کیا ۔اور وہ گرفتار کر کے لائے گئے تھے۔
