حکومت سازی، نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈ لاک کیسے ختم ہوا؟

طلسم ٹوٹا خدا خدا کر کے۔۔۔ عام انتخابات میں منقسم مینڈیٹ ملنے کے بعد ملک میں جاری جوڑ توڑ کی سیاست بالآخر اپنے انجام کو پہنچتی نظر آتی ہے۔ دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مابین کئی روز کے ڈیڈ لاک کے بعد وفاق میں حکومت سازی کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف، چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو اور دیگر رہنماؤں کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں اقتدار کا فارمولا طے کر لیاگیا ہے، جس کے مطابق شہباز شریف وزیراعظم جبکہ آصف زرداری صدر مملکت کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کیلئے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان طے پانے والے معاملات کے مطابق چیئر مین سینیٹ پیپلزپارٹی جبکہ ڈپٹی چیئر مین ن لیگ کا ہوگا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی ن لیگ اور ڈپٹی اسپیکر پیپلزپارٹی کا ہوگا۔ذرائع نے بتایاکہ بلوچستان کا وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی کا ہوگاجبکہ صوبے میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی مل کرحکومت بنائیں گے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سازی بارے طے ہونے والے معاہدے کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے گورنرزمسلم لیگ (ن) نامزدکریگی جبکہ گورنر پنجاب پیپلز پارٹی کا ہوگا۔ ذرائع نے بتایاکہ پیپلز پارٹی نہ تو پنجاب کی صوبائی کابینہ کا حصہ بنے گی اور نہ ہی پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل ہوگی ‘ پیپلز پارٹی وفاق میں پہلے اورنہ ہی دوسرے مرحلے میں وزارتیں لے گی۔ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب جیالا ہوگا، ن لیگ سندھ اور بلوچستان کے گورنر نامزد کرے گی۔
خیال رہے کہ الیکشنز ایکٹ2017 کے مطابق صدر مملکت21 یوم کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند ہیں اور ان تقاضوں کی تکمیل کیلئے29 فروری کو اجلاس بلانا ضروری ہے اس طرح متعینہ تاریخ میں اب صرف8 دن باقی رہ گئے ہیں. قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اس حوالے سے اس موقع کی روایتی تیاریوں میں مصروف ہے تاہم تجزیہ کار سیاسی سطح پر ہونیوالے واقعات جوڑ توڑ کی سرگرمیاں اور پورے ماحول میں غیر یقینی کی کیفیت کی وجہ سے ان اندیشوں پر بحث کرنے میں مصروف تھے کہ کیا وقت مقررہ پر سیاسی جماعتیں ان اتفاقی فیصلوں پر پہنچ پائیں گی یا نہیں جو 29 فروری تک ہونے لازمی ہیں۔
اس صورتحال میں دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی رابطہ کمیٹی کے درمیان مذاکرات میں پانچ ادوار نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہے تھے اور اتفاق رائے میں تاخیر سے سیاسی ڈیڈ لاک جیسی صورتحال کا تاثر مل رہا تھا۔ جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ہنگامی طور پر لاہور سے اسلام آباد پہنچے۔ جہاں انہوں نے مری میں موجود سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے تفصیلی مشاورت کی جبکہ سنیٹر اسحاق ڈار نے رابطہ کمیٹی کے اب تک ہونیوالے مذاکرات کے بارے میں سابق وزیراعظم کو بریفنگ دی .میاں نواز شریف سے مشاورت اور رہنمائی حاصل کرنے کے بعد شہباز شریف نے اسلام آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے ملاقات کی یہ ملاقات منسٹر کالونی میں واقع سنیٹر اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر ہوئی اس ملاقات میں ہونیوالی حل طلب معاملات بالخصوص حکومتی، انتظامی اور پارلیمانی مناصب کی تقسیم کے حوالے سے ہونیوالی گفتگو’’ بریک تھرو‘‘ ثابت ہوئی اور تمام معاملات پر اتفاق رائے ہوگیا۔ دونوں جماعتوں کے بڑوں کے درمیان شراکت اقتدار کا فارمولہ طے پا گیا اور اس طرح غیر یقینی صورتحال ختم ہوئی۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاق میں مل کر حکومت سازی کا اعلان کرتے ہوئے شہباز شریف کو وزیر اعظم اور آصف علی زرداری کو صدر مملکت کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔اسلام آباد میں شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول نے کہا تھا کہ مذاکرات کے لیے قائم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی کمیٹیوں نے بڑی محنت کے بعد اپنا کام مکمل کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اب آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اب پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے نمبرز پورے ہو چکے ہیں
اور ہم حکومت سازی پر عملدرآمد کریں گے، ہم
