کیا قومی ائیر لائن پی آئی اے مکمل بند ہونے والی ہے؟

حکومت نے اربوں روپے کے قرض کے بوجھ تلے دبی قومی ایئرلائن، پی آئی اے، کی نجکاری کے منصوبے پر جلد عملدرآمد کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی فیصلے کی وجہ سے پی آئی اے ملازمین کو اپنی ملازمتوں اور پنشن کے متعلق تشویش لاحق ہے جس کے بعد ورکرز یونینز نے حکومتی منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کر دی ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی فضائی کمپنی، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز پی آئی اے مالی لحاظ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے حکومت اسے نجی ہاتھوں میں سونپنے اور ایئرپورٹ آپریشنز کی آوٹ سورسنگ کا منصوبہ بنانے پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاکستان کے موجودہ اقتصادی مسائل کے درمیان، حکومت کا کہنا ہے کہ وہ خسارے میں چلنے والے اداروں کو سبسڈی نہیں دے سکتی۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالرکا قرض لے کر اپنے مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے قومی ائیر لائن کی نجکاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایئر لائن ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہے جن کی نجکاری پر غور کیا جارہا ہے اور اس کی نجکاری جلد ہی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ قومی ایئرلائن کو اس وقت اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

خیال رہے کہ اس وقت پی آئی اے میں تقریباً 11 ہزار ملازمین کام کر رہےہیں۔ نجکاری کے حکومتی فیصلے کی وجہ سے پی آئی اے کے ملازمین اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان کا شکار ہیں ملازمین کو اپنی بینشن اور تنخواہوں بارے خدشات احتجاج کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پی آئی اے نجی سرمایہ کاروں کے ذریعہ اورینٹ ایئر کے نام سے شروع کی گئی ایئرلائن کو سن 1950کی دہائی میں حکومتی کنٹرول میں لے لیا گیا اور اس کا نام پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پی آئی اے رکھا گیا۔دھیرے دھیرے یہ اس علاقے کی بہترین ایئرلائنز میں سے ایک بن گئی لیکن آج یہ سنگین بحران سے دوچار ہے۔ کمپنی کو کئی سالوں سے مالی مسائل کا سامنا ہے اور متعدد ملازمین کے سبکدوش ہوجانے کے باوجود سن 2017 سے اس میں خاطر خواہ بھرتیاں نہیں کی گئیں۔ اس وقت اس کے 30 میں سے صرف 19طیارے آپریشنل ہیں۔

حکومتی تیل کمپنی پاکستان اسٹیٹ آئل نے بھی واجبات کی عدم ادائیگی کے سبب قومی ایئر لائن کو تیل کی سپلائی بند کردینے کی دھمکی دی ہے۔ ایئرلائن کو واجبات کی عدم ادائیگی اور اس کے طیاروں کو ضبط کرنے کی دھمکی کے معاملے پر ملیشیا میں قانونی چارہ جوئی بھی سامنا کرنا پڑا۔جعلی پائلٹ لائسنس اسکینڈل کی وجہ سے یورپ اور برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی پروازیں سن 2020 سے معطل ہیں۔

لاہور میں مقیم، ایئرلائنز امور کے ماہر قاسم اسلم کا کہنا ہے کہ اپنی ائیر لائنز شروع کرنے کے خواہشمند، سیاسی روابط رکھنے والے نجی ایئرلائنز کے مالکان کو پی آئی اے میں ایگزیکیوٹیو بنادیا گیا۔ "جس کے نتیجے میں پی آئی اے کا زوال شروع ہو گیا جبکہ ان کی ذاتی ایئرلائنز منافع بخش بنتی گئیں۔”

اسلام آباد میں مقیم ماہر معاشیات شاہد محمود کا کہنا ہے کہ فوجی اور سویلین دونوں ہی حکومتیں، پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز جیسے سرکاری اداروں کو من پسند بیوروکریٹس، پارٹی ممبران اور اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ "اس کے نتیجے میں وہ معیشت کا خون کر رہے ہیں۔ اس لیے ان اداروں کی نجکاری کی جانی چاہئے۔”

تاہم پاکستان کے وزیر برائے نجکاری فواد حسن فوادکے مطابق نجکاری کا عمل سختی کے ساتھ قانون کے مطابق کیا جارہا ہے۔ ہر قدم پر مکمل شفافیت برتی جارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قانونی ڈھانچے اور اثاثوں کی قیمت کا تعین دنیا کے سرفہرست سرمایہ کاری بینک کررہے ہیں۔ویلوویشن ایکسپرٹ حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ قیمتوں کا تعین کرنے کے بعد بولی لگانے کا عمل ہر ایک کے لیے کھلا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "موجودہ معاشی دباو میں حکومت کے لیے اوسطاً دس سے بارہ طیاروں کو آپریشنز پر ہر سال تقریباً 150ارب روپے کے بھاری خسارے کو پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔”

تاہم ٹریڈ یونین لیڈر سہیل مختار کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے ملازمین نجکاری کی مزاحمت جاری رکھیں گے اور دیگر افراد کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی کارکن عالیہ بخشال نے بتایا کہ ان کی پیپلز ورکرز پارٹی پی آئی اے کے ملازمین کے رابطے میں ہے اور وہ پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف مزاحمت کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل پر کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا،”حکومت پی آئی اے کے ملازمین کو بھوک اور بے روزگاری کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ہم خاموش

پی ٹی آئی کا لاہورمیں جلسےکی اجازت کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع

نہیں بیٹھ سکتے اور اس اقدام کی پوری طاقت سے مخالفت کریں گے۔”

Back to top button