پی ٹی آئی نے پارٹی فنڈنگ پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کر دیا

پی ٹی آئی نے پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، ناراض اراکین کو فورن فنڈنگ کیس سے باہر رکھنے، ذرائع کو خفیہ رکھنے کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔
حکمران جماعت کے سیکریٹری جنرل اور وفاقی وزیر اسد عمر نے کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کیلئے درخواست دائر کی۔ تحریک انصاف کے ناراض بانی رکن اور کیس میں شکایت کنندہ اکبر ایس بابر کو غیر ملکی فنڈنگ کی کارروائی سے باہر رکھنے پر درخواستیں مسترد کی گئی تھیں۔
تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل نے درخواست میں کہا کہ ای سی پی کو اپنی کارروائی سے دور رکھنے اور اسٹیٹ بینک سے حاصل کردہ تفصیلات سمیت ریکارڈ شیئر نہ کرنے کی وجوہات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا، ای سی پی اس معاملے میں اصل مسئلے کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق اکبر ایس بابر سے ریکارڈ جمع نہیں کیا گیا، اس لیے اسے خفیہ رکھنا چاہئے، ای سی پی کے اس ریکارڈ کو شکایت کنندہ کے ساتھ شیئر کرنے کے فیصلوں کو ایک طرف رکھے اور اسے غیر ملکی فنڈنگ کیس کا حصہ بننے کی اجازت دے۔
ووٹ بیچنے پر تاحیات نااہلی سپریم کورٹ کا بڑا اقدام ہوگا
سینیٹ کے پینل نے اکثریتی ووٹوں سے انتخابی ترمیمی بل کو مسترد کر دیا جس میں عوامی عہدے داروں کو انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی، اپوزیشن ارکان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 222 کے تحت ای سی پی کے اختیارات میں کمی نہیں کی جا سکتی۔
ای سی پی کے سیکریٹری نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آرڈیننس کے سبب 98 بار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی اور معلوم ہوا ہے کہ 62 بار حکمران جماعت کی جانب سے خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔
