تحریک انصاف نے سولو فلائٹ چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

پاکستان تحریک انصاف نےسولو فلائٹ چھوڑ کر انتخابات کے انعقاد کے لیے جدوجہد کے فیصلہ کن مرحلے میں دوسری سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ تاہم تحریک انصاف کی قیادت کے دعوؤں کے برعکس پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں سے رابطوں پر پی ٹی آئی کو کوئی حوصلہ افزاء جواب نہیں ملا جبکہ ایم کیوایم قیادت نے تحریک انصاف کی جانب سے رابطہ کاروں کو خوب کھری کھری سنائی ہیں اور یاد دلایا ہے کہ ماضی قریب میں اتحادی حکومت میں شامل ہونے پر ان پر کیا کیا الزامات عائد کئے گئے تھے۔ اتنے سنگین الزامات لگانے کے بعد کس منہ سے دوبارہ ہمیں اپنے ساتھ چلنے کا پیغام لے کر آ گئے ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے مطابق پارٹی کے دو سینیئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور چوہدری پرویز الٰہی کو سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا ٹاسک دیا گیا ہے جو جماعت اسلامی، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس جی ڈی اے، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں سے رابطے کر کے مستقبل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کے متعلق بات چیت کر رہے ہیں۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف نے یہ رابطے گذشتہ ایک سال کی تنہا احتجاجی مہم کے بعد شروع کیے ہیں جس کے دوران، مظاہروں، لانگ مارچ، ریلیوں اور جلسوں کے متعدد سیزن منعقد کیے اور مختلف حکمت عملیوں سے پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کو مشکلات سے دوچار کیے رکھا۔ اب جبکہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ انتخابات کو ہر ممکن حد تک موخر کیا جائے اور بظاہر پی ٹی آئی کے پاس بھی آپشن تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں تو انہوں نے دیگر جماعتوں کو اپنے مطالبات پر قائل کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔
تو ایسا کیا ہے کہ تحریک انصاف کے قائدین کو اچانک خیال آیا ہے کہ انہیں دوسری جماعتوں سے رابطے کرنا چاہییں۔کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی اس سوچ میں تبدیلی چوہدری پرویز الٰہی کی باقاعدہ شمولیت کے بعد آئی ہے اور ان کی جوڑ توڑ والی سیاست اور روایتی مصالحانہ رویہ اب تحریک انصاف کی حکمت عملی سے جھلک رہا ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے خیال میں اس میں کسی حد تک چوہدری پرویز الٰہی کی سوچ کارفرما ہو سکتی ہے، لیکن اس کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی کا احساسِ تنہائی اور موجودہ حکومت کو کمزور تر کرنے کی خواہش ہے۔ ’وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کو مزید کمزور کیا جائے اور اس کے لیے اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملا کر کردار ادا کرنے کا کہا جائے، پی ٹی آئی کی تنہائی کو ختم کر کے حکومت کو تنہا کیا جائے۔
مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے کچھ اتحادی جیسے کہ ایم کیو ایم حکومت سے خفا ہیں اور پی ٹی آئی اس موقع سے فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے۔پی ٹی آئی سیاسی حمایت چاہتی ہے، وہ چاہتی ہے کہ ایم کیو ایم کے اتحادی حکومت کے ساتھ تحفظات کو اپنے حق میں استعمال کر کے حکومت کو تنہا کیا جائے تاہم مجیب الرحمان شامی سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے یہ رابطے انتخابی اتحاد میں نہیں بدل پائیں گے۔ ’ابھی تک جماعت اسلامی نے بھی حامی نہیں بھری، لگتا یہی ہے انتخابی اتحاد نہیں بنے گا۔
کالم نگار ضیغم خان سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ان رابطوں کو کسی موثر اتحاد میں تبدیل کرنا سادہ اور آسان نہیں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ دوسری جماعتیں کس طرح جواب دیتی ہیں۔ کیا ان کا رابطوں کا حصہ بننا محض دکھاوا ہے یا پھر وہ واقعی پی ٹی آئی کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ ان میں سے بیشتر جماعتیں تو اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر عمل کرتی ہیں۔‘ ’تحریک انصاف کو شاید محسوس ہوا ہو گا کہ وہ تنہا ہو گئے ہیں اور انہیں دوسری سیاسی جماعتوں یا گروہوں کی ضرورت ہے اور انہوں نے سوچا کہ مقبولیت کی وجہ سے وہ ان کے ساتھ مل جائیں گے لیکن ان میں سے کئی سیاسی جماعتوں جس طرح کہ ایم کیو ایم ہے، ان کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہے۔
ضیغم خان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایم کیو ایم بہت غیر مقبول ہو گئی ہے اور بہت ہی بے چین بھی ہے، انہیں کراچی کا الیکشن چھوڑنا پڑا۔ اس لیے شاید وہ سمجھ رہے ہوں کہ وہ پی ٹی آئی کے ذریعے واپس آ سکیں لیکن ایم کیو ایم کی اپنی مرضی تو ہے نہیں۔ضیغم خان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حکومت کا کوئی شریک اتحاد سے نکل بھی آتا ہے تو بھی حکومت کو زیادہ نقصان نہیں ہو گا کیونکہ پی ٹی آئی اس وقت قومی اسمبلی میں موجود نہیں ہے لیکن یہ اتحادی حکومت کے لیے پریشان کُن ضرور ہوگا تاہم ان کے مطابق صورتحال پی ٹی آئی کے لیے بھی بہتر نہیں ہے۔
پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جس طرح سے جنگ کر لی ہے اور باقی جماعتوں کو خوفزدہ کر دیا ہے، اس سے اس کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جھگڑا بہت شدید ہو گیا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ نواز کے ساتھ بھی ان کی شدید دشمنی ہوئی ہے۔ عمران خان کے لیے قانونی، سیاسی مشکلات بہت زیادہ ہیں۔
دوسری طرف سینیئر سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری نے دعوٰی کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے کہنے پر چھوٹی جماعتوں سے رابطے کیے ہیں۔دیکھیں یہ تو سپریم کورٹ نے تجویز دی تھی مذاکرات کی، پی ایم ایل این نے ان کے ساتھ بات چیت نہیں کی تو انہوں نے چھوٹی جماعتوں سے رابطہ کر لیا ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ تحریک انصاف میں کتنی لچک ہے۔ دوسرا یہ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ بالخصوص ایم کیو ایم حکومت کو مکمل سپورٹ نہیں کرتی، رائے شماری پر ان کے اختلافات ہیں، شاید توڑ لیں، اور سپریم کورٹ کو دکھا لیں۔
