پی ٹی آئی کا اپوزیشن لیڈر کی سیٹ حاصل کرنا دیوانے کا خواب کیوں؟

قومی اسمبلی میں جہاں ایک طرف سپیکر راجہ پرویز اشرف نے عمرانڈو اراکین اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کا فیصلہ واپس لینے سے یکسر انکار کر دیا ہے وہیں دوسری طرف یوتھیے اراکین اسمبلی نے لاہور ہائیکورٹ کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے استعفوں کی منظوری کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے کے خواب دیکھنا شروع کر دئیے ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یوتھیے اراکین اسمبلی کو ایک بات سمجھ لینی چاہئے کہ جو سپیکر ان کی پارلیمنٹ میں آمد، رکنیت کی بحالی اور استعفوں کی واپسی پر ہی رضا مند نہیں وہ انھیں بطور اپوزیشن لیڈر کیسے قبول کرے گا؟
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اسلام آباد کے تین حلقوں میں ضمنی انتخابات سے روک دیا ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے تحریک انصاف کے اسلام آباد سے ارکان قومی اسمبلی کی الیکشن کمیشن کے ڈی نوٹیفائی کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست پر بدھ کو سماعت کی۔عدالت نے استعفوں کی منظوری کا نوٹی فیکیشن معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرلیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پرپاکستان تحریک انصاف کے 32 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹی فیکیشن معطل کر دیا تھا۔گذشتہ ہفتے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گہا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر 32 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹی فیکیشن معطل کیا جاتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی صورت سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف عمرانڈو اراکین کے استعفوں کی منظوری کا فیصلہ واپس لے لیتے ہیں تو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی نمبر گیم کیا ہو گی؟اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی مجموعی تعداد 64 ہو جائے گی، ان میں سے راجا ریاض کو 24 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔یوں پی ٹی آئی کو اپنا اپوزیشن لیڈر نامزد کرانے کے لیے کم سے کم 25 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔قومی اسمبلی کی نمبر گیم کے مطابق اس وقت منحرف ارکان کے علاوہ تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 40 ہو چکی ہے۔ یوں بظاہر تحریک انصاف اپنا اپوزیشن لیڈر منتخب کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
قومی اسمبلی کے رولز کے مطابق اپوزیشن لیڈر ایوان میں اپوزیشن بینچز پر موجود اکثریتی جماعت نامزد کرتی ہے۔رولز کے مطابق ایوان میں حزب اختلاف کی اکثریتی جماعت سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ کر اپوزیشن لیڈر نامزد کرتی ہے جس کے کیے اکثریتی ارکان کے دستخط حاصل کرنا ضروری ہے۔
اس حوالے سے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی اگر پارلیمنٹ میں واپس آتی ہے تو وہ اس وقت اپوزیشن بینچوں پر سب سے بڑی جماعت ہو گی اور رولز کے مطابق اپوزیشن لیڈر بھی اسی کا ہو گا۔‘احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد راجا ریاض گروپ سے زیادہ ہوئی تو اس صورت میں تحریک انصاف کا ہی اپوزیشن لیڈر نامزد ہوگا۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر ڈوگر سپیکر قومی اسمبلی کو اپوزیشن لیڈر تبدیل کرنے کے حوالے سے خط لکھ چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے شاہ محمود قریشی کو بطور اپوزیشن لیڈر نامزد کر رکھا ہے، تاہم قومی اسمبلی کے سپیکر نے موقف اپنایا ہے کہ ’پی ٹی آئی ارکان کے استعفے قانون کے مطابق منظور ہو چکے ہیں اور وہ استعفوں کی منظوری کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کو قطعا تیار نہیں۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کا اپنے کسی بندے کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا مطالبہ کسی دیوانے کا خواب ہی لگتا ہے۔
