ثاقب نثار عمران خان کو صادق اور امین قرار دینے سے مکر گئے

اپنے داغدار ماضی کی وجہ سے ملک کے متنازعہ ترین چیف جسٹس کہلانے والے جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار نے نہ صرف نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا بلکہ بھائی لوگوں کے ساتھ مل کر عمران خان کو اقتدار میں لانے کا راستہ بھی ہموار کیا اور انھیں بھری عدالت میں صادق اور امین ڈکلئیر کر دیا تاہم اب وہ اپنے ماضی کے عدالتی ریمارکس سے مکرتے نظر آتے ہیں۔ اپنی ماضی کی سیاہ کاریوں پر پردہ ڈالتے ہوئے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار فرماتے ہیں کہ انھوں نے عمران خان کو مکمل اور تمام معاملات پر صادق و امین قرار نہیں دیا تھا۔
نجی ٹی وی کو دئیے گئے اپنے تازہ انٹرویو میں جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کہا کہ آج کل عدالتی فیصلوں پر وہ بات کر رہے ہیں جنہیں قانون کی زبر زیر معلوم نہیں، جو شخص آج عدالتوں پر حملہ آور ہے وہ کبھی عدالتوں کا پسندیدہ رہا ہے، صرف ایک مقدمے کے علاوہ اسے ہمیشہ عدالتوں سے ریلیف ہی ملتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب چیف جسٹس نہیں بنا تھا تو نواز شریف نے مختلف حلقوں میں کہنا شروع کیا کہ یہ اپنا چیف ہے، میں نے پانامہ کیس میں خود کو بینچ سے الگ کرلیا تھا اور نااہلی کیس میں معیاد سے متعلق اوپن نوٹس کردیا تھا کہ جو بھی معاونت کرنا چاہے کرے، نااہلی کی معیاد کا تقرر آئین قانون کی روشنی میں کیا۔
جسٹس (ر) ثاقب نثار سے سوال کیا گیا کہ پاناما کیس میں آپ پر نواز شریف کو نااہل کرانے کے لیے جنرل (ر) فیض نے دباؤ ڈالا؟ اس پر ثاقب نثار نے کہا کہ جنرل (ر) فیض کون ہے جو مجھ پر دباؤ ڈالتا؟، میں جنرل (ر) باجوہ سے اس دعوے کے بارے میں بات کروں گا۔انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں میں عمران کے لیے عدلیہ میں لابنگ کر رہا ہوں، میں کیوں عمران کے لیے عدلیہ میں لابنگ کروں گا؟ مجھے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے۔ثاقب نثار نے کہا کہ میں اب کسی کو انٹریو نہیں دوں گا، میرے مرنے کے بعد ایک کتاب شائع ہوگی جس میں تمام حقائق ہوں گے،1997سے لے کر چیف جسٹس کے عہدے تک کی ساری کہانی لکھوں گا۔
سابق چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ دو روز سے میرا واٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے ، ابھی تک ریکور نہیں ہوا، خدشہ ہے کہ میرے موبائل ڈیٹا کو کسی خاص مقصد کےلیے استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم میرا واٹس اپ ہیک کرنے والوں کو شرمندگی ہی ہوگی، اس سے قبل بھی میری مختلف ویڈیوز کو جوڑ کر ایک آڈیو بنائی گئی تھی، کسی کی نجی زندگی میں مداخلت چوری کے زمرے میں آتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو مکمل طور پر صادق اور امین قرار نہیں دیا تھا، اسے سیاسی رنگ دیا گیا، عمران خان کو 3 نکا ت پر صادق اور امین قرار دیا تھا، اکرم شیخ نے عمران خان سے متعلق 3 نکات لکھ کر دیے کہ ان پر فیصلہ کیا جائے، تینوں نکات پر عمران خان صادق اور امین ثابت ہوئے تھے۔جسٹس (ر) ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پی کے ایل آئی کی فارنزک رپورٹ کا اگر کوئی جائزہ لے تو سر پکڑ کر بیٹھ جائے، پی کے ایل آئی کے سربراہ کو ایک پیر کے کہنے پر لگایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مسائل کا حل الیکشن میں ہے، 2018میں بھی الیکشن کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں جسے ناکام بنایا تھا جس کے گواہ بابر یعقوب ہیں۔سابق چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے غلط فیصلے کیے ہوں گے لیکن ملک کی بقاء کے لیے جو فیصلے کیے ان پر عملدرآمد کیوں نہیں کرتے؟
یاد ریے کہ ثاقب نثار شاید ملک کی عدالتی تاریخ کے واحد جج ہوں گے جنھیں ان کے عدالتی فیصلوں سے زیادہ ’غیر عدالتی‘ سرگرمیوں، خفیہ ایجنسیوں کا ایجنڈا لے کر چلنے اور اپنے سیاسی فیصلوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ مثلاً انھوں نے نہ صرف نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا بلکہ عمران خان کو ایک کیس میں صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ بھی عطا کر دیا۔ اسکے علاوہ بابا رحمتے کہلوانے والے ثاقب نثار نے عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے راستہ بھی ہموار کیا۔ ثاقب نثار بطور چیف جسٹس اپنا اصل کردار ادا کرنے کی بجائے غیر ضروری طور پر ادھر ادھر کے معاملات میں منہ مارتے رہے جیسا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈ کا قیام، ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، اہم سیاسی اور دیگر شخصیات سے سکیورٹی واپس لینے کے احکامات، آبادی کنٹرول کرنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد، ہسپتالوں کی صفائی وغیرہ۔ یہ ایسے کام تھے جو کہ براہ راست حکومت کے کرنے کے ہیں لیکن سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ان کا بوجھ بھی چیف جسٹس نے اپنے کندھوں پر اُٹھایا ہوا تھا۔اعلیٰ عدلیہ کے علاوہ ماتحت عدلیہ کے ججوں سے بھی ان کا سلوک خبروں اور تبصروں کی زینت بنتا رہا۔
جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں صحافتی حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ اُنھیں بھی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرح سستی شہرت کے حصول کے لیے میڈیا میں رہنے کا بہت شوق تھا۔ یہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے شعبۂ تعلقات عامہ کی طرف سے میڈیا کے نمائندوں کو ایسے ٹکرز بھیجے جاتے ہیں جیسے کوئی سیاسی جماعت یا تنظیم ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطے میں رہتی ہے۔میاں ثاقب نثار کی لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی سفارش پر ہی ہوئی تھی۔ میاں ثاقب نثار کی طرف سے نواز شریف کو مسلم لیگ نواز کی صدارت سے ہٹائے جانے کے فیصلے کے بعد جب صحافیوں نے احتساب عدالت میں نواز شریف سے ثاقب نثار کے اس فیصلے کے بارے میں پوچھا تو اُنھوں نے جواب میں صرف حضرت علی کا قول دہرایا تھا کہ’جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو’۔
مبصرین کے مطابق ثاقب نثار کے دل میں بھی پاک فوج کے سیاسی کردار کے لیے اتنا ہی احترام ہے جتنا عمران خان کے دل میں ہے اس لیے وہ بھی اپنے دور میں بطور چیف جسٹس فوج کے سیاسی کردار پر تنقید کو بھی فوج دشمنی گردانتے تھے۔ اسی لیے جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو عدالتی معاملات میں مداخلت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تو بحیثیت چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل، ثاقب نثار نے اس کا فوری نوٹس لیا اور ججز کے خلاف پاکستان کی عدالتی تاریخ کی مختصر ترین کارروائی کے بعد شوکت صدیقی کو ان کے عہدے سے برخاست کر دیا۔ لیکن کوئلوں کی دلالی کرتے ہوئے بابر رحمتے نے اپنے منہ پر جو کالک ملی تھی اسکی سیاہی ان کے تازہ بیان کے بعد مزید گہری ہو گئی ہے۔
