امریکی CIA کا جاسوس ڈاکٹر 10 برس سے پاکستانی قید میں

دنیا کے مطلوب ترین دہشت گرد اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں

امریکی سی آئی اے کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی قید تنہائی کو دس برس ہو گئے

لیکن اسکے باوجود اس کی رہائی کا کوئی امکان دور دور تک نظر نہیں آتا۔ شکیل آفریدی کو پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے امریکی سی آئی اے کے لیے جاسوسی کرنے پر غداری کے الزامات کا سامنا ہے جب کہ امریکا میں اسے ایک ہیرو کی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن القاعدہ سربراہ کے خاتمے میں معاونت کی شکیل آفریدی کو بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ پاکستان میں کم ہی ایسی جیلیں ہیں جہاں اتنی تنہائی ہو جتنی کہ اس جیل میں ہے جس میں آفریدی کو رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ شکیل آفریدی نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ساتھ تعاون کیا تھا جس کے نتیجے میں امریکی افواج پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ آپریشن کر کے بن لادن کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔

جاسوسی ناول لکھنے والوں کے لیے شکیل آفریدی کی کہانی سے بہترین داستان لکھنے کے لیے ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن یہ ایک سچی کہانی ہے جسکا آغاز یکم اور دو 2011 کی درمیانی رات کو پاکستان میں ایک خفیہ امریکی آپریشن سے ہوتا ہے جس میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ختم کر دیا گیا۔ اس کہانی کے مرکزی کردار ڈاکٹر شکیل آفریدی کو اسامہ کا پاکستانی خفیہ ٹھکانہ ڈھونڈنے میں سی آئی اے کی مدد کرنے پر 33 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں سے وہ دس برس جیل سلاخوں کے پیچھے گزار چکا ہے اور برے حالات میں ہے۔

شکیل آفریدی کو مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں امریکی فوجی آپریشن کے بعد جاسوسی اور غداری کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا،تاہم کاغذوں میں اسے یہ سزا القاعدہ کے سربراہ کی تلاش میں مدد دینے پر نہیں بلکہ ایک شدت پسند جہادی تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں سنائی گئی تھی۔ شکیل آفریدی نے اپنی اس سزا کا ابتدائی عرصہ پشاور کی سینٹرل جیل اورراولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں گزارا اور اب وہ ساہیوال کی اس ہائی سکیورٹی جیل میں قید ہے جسے ملک میں انتہائی خطرناک قیدیوں کو رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان کے نیوکلیئر راز چوری کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والا بریگیڈیئر رضوان بھی ساہیوال جیل میں قید اپنی پھانسی کا انتظار کر رہا ہے۔ شکیل آفریدی کے بائیو ڈیٹا کے مطابق 2010ء میں ہیلتھ آفیسر تعینات ہونے کے بعد وہ کئی مرتبہ بدعنوانی کے الزامات پر معطل ہوا لیکن پھر اثر و رسوخ کے ذریعے بحال ہوتا رہا۔ خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والا شکیل آفریدی ملک دین خیل میں 1962 میں پیدا ہوا اور 1991ء میں خیبر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی، شکیل کی اہلیہ امریکی شہری ہیں جو کہ درہ آدم خیل میں کالج کی پرنسپل رہیں۔

ڈاکٹر شکیل فروری 2010ء میں خیبر ایجنسی کا ہیلتھ آفیسر تعینات ہوا، جس کے بعد اس نے پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں ایک قیمتی بنگلے میں رہائش اختیار کرلی، مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کے کورئیر کا سی آئی اے سے رابطہ ہونے کے بعد شکیل نے امریکی ایجنسی کی ایماء پر اسامہ کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کیلئے ایک لیڈی ہیلتھ ورکر کی معاونت سے ایبٹ آباد میں 17 مارچ اور 20 اپریل 2011ء کو انسداد پولیو کی جعلی مہم چلائی۔ 2 مئی کو امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا تو 22 مئی 2011ء کو ڈاکٹر شکیل کو پشاور سے گرفتار کیا گیا۔

جعلی پولیو مہم کے لئے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جمرود ہسپتال سے پولیو کی 6 کٹس غیر قانونی طور پر حاصل کیں، ایبٹ آباد میں حفاظتی ٹیکوں کی جعلی مہم کے دوران ڈاکٹر شکیل خیبر ایجنسی کے محکمہ صحت میں او ایس ڈی کے طور پر کام کررہا تھا اور اسے بعد ازاں امریکہ نے اپنے اعلی ترین قومی اعزاز کے لئے بھی نامزد کیا تھا۔ شکیل کے بھائی جمیل آفریدی کے مطابق کرونا وبا کی وجہ سے وہ 6 ماہ سے اپنے بھائی سے بھی نہیں مل پایا جو کہ بری حالت میں ہے۔

اپنی آخری ملاقات کا حال بیان کرتے ہوئے جمیل اپنے بھائی کی صحت کے بارے میں شدید فکرمند دکھائی دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ شکیل دورانِ اسیری بہت کمزور ہو گیا ہے اور اسکی طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔ جمیل آفریدی کے مطابق ’جب میں نے جیل میں اس کی سرگرمیوں کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ جیل میں کچھ نہیں کر سکتا۔ ’اس کے پاس تو کوئی پینسل اور کاغذ بھی نہیں ہے کہ وہ کچھ لکھ سکے یا اپنی یادداشتیں محفوظ کر سکے۔ اسے تو کتابیں پڑھنے کی اجازت بھی نہیں ہے’۔ جمیل نے بتایا کہ شکیل آفریدی اپنے کیس کے بارے میں بہت پریشان اور فکرمند ہے۔

وہ دس برس سے قید میں ہے جو عمر قید سے بھی زیادہ لمبی ہو چکی ہے۔ اسکے مطابق شکیل کو اس بات کا گلہ تھا کہ پشاور ہائی کورٹ میں اس کے مقدمے کی سماعت بار بار ملتوی ہو جاتی ہے اور رہائی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی؟ جمیل کا کہنا تھا کہ شکیل کہتا ہے کہ اسے انصاف چاہیے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس نظام سے تو مایوس ہیں لیکن خدا کی ذات سے مایوس نہیں ہیں اور انھیں ضرور انصاف ملے گا۔

شکیل کے وکیل لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ڈاکٹر شکیل نے بہت وقت جیل میں گزار لیا ہے اور اسے ساہیوال جیل منتقل کرنا غلط اور غیر قانونی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے خاندان کے افراد کی ملاقات بھی مشکل سے ہوتی ہے اور اپنوں سے اتنی دور کسی قیدی کو رکھنا انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔

امریکہ شکیل آفریدی کو پاکستانی قید سے رہائی دلوانے کے لیے پچھلے دس برس سے کوشاں ہیں لیکن اسے بھی ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

US CIA spy doctor in Pakistani prison for 10 years video

Back to top button