عثمان ڈار کے فرنٹ مین پر ننگا کر کے تشدد کا الزام جھوٹا نکلا

عمرانڈو رہنما عثمان ڈار کے مبینہ فرنٹ مین کی لیک آڈیو نے عمران خان کے ایک درجہ چہارم کے ملازم کو ساتھ بٹھا کر اداروں پر اسے ننگا کر کے تشدد کے الزامات کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ آڈیو سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ عثمان ڈار کا مبینہ فرنٹ مین نہ صرف کرپشن میں ملوث رہا ہے بلکہ اس پر تشدد کے الزامات بھی بے بنیاد ہیں۔

 

سابق چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام عثمان ڈار پر فرنٹ مین پر ننگا کر کے تشدد کے الزامات میں دلچسپ موڑتب آیاجب عثمان ڈار کے مبینہ فرنٹ مین جاوید علی کی مبینہ آڈیو سامنے آ ئی، لیک آڈیو میں جاوید علی دہاڑی لگانے کی بات کر رہا ہے۔عثمان ڈار اور جاوید علی کے وکیل کی بھی مبینہ آڈیو  منظر عام پر آئی ہے، آڈیو میں وہ بتا رہے ہیں کہ جاوید علی کو برہنہ نہیں کیا گیا۔منظر عام پر آنیوالی آڈیو میں وکیل طاہر سلطان اعتراف کررہے ہیں کہ ان کی جیل میں جاوید علی سے ملاقات ہوئی تھی ، جاوید علی نے انہیں بتایا تھا کہ انہیں برہنہ نہیں کیا گیا ۔ طاہر سلطان ٹیلی فون پر عارف بھٹی نامی شخص سے گفتگو کرتے ہوئے قہقہے لگارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے جاوید علی کو برہنہ کردیا ہے ۔عثمان ڈار کے مبینہ پی اے جاوید علی اور تحریک انصاف کے حمزہ نامی کارکن کی بھی ایک مبینہ آڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں دونوں مل کر 5 سے 6 لاکھ روپے کی دیہاڑی لگانے کی بات کر رہے ہیں۔ آڈیو میں حمزہ نامی شخص کا کہنا ہے کہ کوئی گیم بتاﺅ تاکہ دیہاڑی لگائی جائے ،جس پر جاوید علی نے کہا کہ ضلع کونسل یا میونسپل کارپوریشن کے نقشے لے کر آﺅ جس پر پانچ سے چھ لاکھ کی دیہاڑی لگتی ہے ۔

 

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کے بھائی کو کمیشن دئیے جانے کا انکشاف ہواتھا۔ بعد ازاں جاوید علی کا اقبالی بیان بھی سامنے آیا تھا۔اقبالی بیان میں جاوید علی نے عثمان ڈار کے بھائی احمد ڈار کو پچاس لاکھ کمیشن دینے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھاکہ این اے 67 کی 4 یونین کونسلز کے 5 ٹھیکیداروں سے 50 لاکھ جمع کئے، 3 ماہ سے عثمان ڈار کا ڈویلپمنٹ کیلئے پی اے تھا، باجوہ اینڈ کمپنی کو 2 کروڑ کا ٹھیکہ ملا، 20 لاکھ کمیشن احمد ڈار کو دیا۔جاوید علی نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ زین باجوہ کمپنی کے پاس 50 لاکھ کا ٹینڈر تھا، 5 لاکھ کمیشن احمد ڈار کو دیا، خضر کنسٹرکشن کے پاس 1 کروڑ کا ٹینڈر تھا، 10 لاکھ کمیشن لے کر احمد ڈار کو پہنچایا، بلال کنٹریکٹر کے پاس 1 کروڑ کا ٹینڈر تھا جس میں سے 10 لاکھ کمیشن احمد ڈار کو پہنچایا۔جاوید علی نے کہا لیاقت بلڈرز کے پاس 50 لاکھ کا ٹینڈر تھا، 5 لاکھ کمیشن لے کر احمد ڈار کو پہنچائی، این اے 67 کی کل 28 یونین کونسلز ہیں، 4 میں، میں کام کرتا تھا، 24 یونین کونسلز کو خواجہ عمران دیکھتا تھا، خواجہ عمران 10، 15 یا 20 فیصد کمیشن لیتا تھا، اس کا مجھے علم نہیں۔

 

جاوید علی نے اپنے اقبالی بیان میں یہ بھی بتایا کہ احمد ڈار نے مجھ سے کہا تم ہمارے لیے اتنا کام کرتے ہو تمہیں سرکاری نوکری دلاتا ہوں۔ میں کم پڑھا لکھا ہوں اس لیے جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹ بنوایا اور محکمہ تعلیم میں احمد ڈار کے کہنے پر کاغذات جمع کرائے اور انہوں نے میرا آرڈر کرایا۔جاوید علی کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں گورنمنٹ ایلیمنٹری ماڈل اسکول ڈالیاں میں نوکری کررہا ہوں۔ اس کے عوض میں ٹھیکیداروں سے کمیشن جمع کرکے دیتا تھا۔دوسری طرف تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے جاوید علی کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں یہ کبھی میرا ورکر نہیں تھا، ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ عثمان ڈار کو فکس کردیں، میرا قصور یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں۔

 

خیال رہے کہ 25 فروری کے روز جاوید علی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور عثمان ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے 7 سے 8 پولیس اہلکاروں نے گرفتار کیا، میری آنکھوں پر شرٹ باندھ دی گئی اور مجھ پر ایک بوری ڈال دی گئی، جیسے میں کوئی دہشت گرد ہوں۔جاوید علی کا کہنا تھا کہ مجھے پرائیویٹ گاڑی کے ذریعے نامعلوم جگہ منتقل کردیا، جہاں مجھے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا، مجھے الٹا لٹکایا جاتا اور ایک ہی بات پر زور دیا جاتا کہ تم قبول کرو تم نے عثمان ڈار کو کمیشن کی رقم دی ہے۔جاوید علی نے مزید بتایا کہ مجھے برہنہ کیا گیا اور ٹھنڈے فرش پر بٹھادیا گیا، اور پھر کہا گیا کہ عثمان ڈار کو پیسے دینے کا بیان دو، جب میں نہیں مانا تو کہا گیا کہ ایک گاڑی بھیجو اور اس کے بیوی بچوں کو اٹھا کر لے آؤ، اور انہیں بھی برہنہ کرکےویڈیو بناؤ اور سوشل میڈیا پر وائرل کردو۔جاوید علی نے کہا کہ جب میں نے اپنی فیملی کے حوالے سے یہ بیان سنا تو میں ٹوٹ گیا اور مجبور ہوکر پولیس والوں سے کہا کہ آپ جو کہیں گے میں وہی بیان دوں گا۔

 

سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال سے مطالبہ کیا تھا کہ شہریوں پر تشدد کے واقعات اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے۔عمران خان نے کہا تھا کہ چوکیدار کو عثمان ڈار کے خلاف گواہ بنانے کی کوشش کی گئی، اعظم سواتی کو بھی برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنا یا گیا تھا، شاید دہشت گردوں سے ایسا رویہ رکھا جاتا ہوگا، البتہ ایک کارکن پر اتنا تشدد کیا کہ وہ ذہنی طور پر مفلوج ہوگیا، جاوید علی کی طرح لوگ میڈیا پر آنے سے ڈرتے ہیں۔پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان سے درخواست ہے کہ اس قسم کے واقعات کا نوٹس لیں، عدلیہ کی سب سے بڑی ذمہ داری شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرناہے۔

آئین عدالت کے دروازے پر

Back to top button