بڑھکیں مارنے والا کپتان وقت آنے پر چوہا ثابت

بھڑکیں مار کر خود کو بہادر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے والا عمران خان کاغذی شیر نکلا۔ خود کو گرفتاری سے بچانے کیلئے بچوں اور خواتین کو ڈھال بنانے پر عمران خان تنقید کا شکار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے لیے منگل سے لاہور کا زمان پارک ہنگاموں اور افراتفری کا مرکز بنا ہوا ہے۔عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 18 مارچ کو طلب کر رکھا ہے اور ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے گرفتاری دینے سے گریز اور لاہور میں پیدا شدہ صورت حال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ ’موجودہ صورت حال دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ بحران بہت بڑھ رہا ہے اور سیاسی تصادم مزید گہرا ہو رہا ہے۔ لاہور میں جو کچھ ہوا، یہ اسی کی نشاندہی کر رہا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صورت حال کو مزید سیاسی تصادم کی جانب لے جا رہے ہیں۔ وہ کسی بھی سیاسی عمل کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘
زاہد حسین کہتے ہیں کہ ’پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے۔ اس ساری صورت حال کا الیکشن پر بھی اثر پڑے گا۔ پاور ویکیوم بھی پیدا ہو سکتا ہے، اداروں کی ساکھ بھی کافی مجروح ہوئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اور مصنف عاصم سجاد اختر موجودہ نظام سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ کاغذی شیروں والا کھیل جاری ہے۔ جب آپ عوام کو کچھ دے نہ سکیں تو ایسے تماشے لگاتے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’موجودہ سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس عوام کے لیے کچھ بھی نہیں۔ عمران خان قائد ہوتے ہوئے گرفتاری سے ڈر رہے ہیں۔ حکمرانی کرنی ہے تو گرفتاریاں تو ہونی ہیں۔
عاصم سجاد اختر نے مزید کہا کہ ’اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد سے عمران خان کا بیانیہ مسلسل بدل رہا ہے۔ دوسری جانب خود کو جمہوریت کے چیمپئن کہنے والوں نے 10 ماہ میں ملک کی معاشی صورت حال مزید خراب کر دی ہے۔ اشرافیہ کی زندگی آسائشوں سے بھرپور ہے لیکن عوام ذلیل ہو رہے ہیں۔
کیا حکومت کا عمران خان کی رہائش گاہ کے اندر اور باہر کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرنا درست عمل ہے؟ اس سوال کے جواب میں عاصم سجاد کا کہنا تھا کہ ’دیکھیں کوئی بھی جمہوریت پسند اپنے سیاسی مخالفین پر ڈنڈا چلانے کی بات نہیں کرے گا۔ ان ہنگاموں میں مرنے والے بے نام افراد کا کوئی ذکر ہی نہیں کرتا۔
تجریہ کار اور ماہر سیاسی امور رسول بخش رئیس نے موجودہ صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں سول ملٹری تناؤ ہمیشہ سے رہا ہے۔ لیکن اب یہ تصادم اور تناؤ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’اسٹیبلشمںنٹ کو عمران خان نے جس طرح سے رگیدا اور اسے عوام کے سامنے ایکسپوز کیا ہے۔ اس بیانیے کو پاکستان کی تاریخ میں غیرمعمولی مقبولیت ملی ہے جس سے اسٹیبلشمنٹ بپھر گئی ہے۔‘’اسٹیبلشمنٹ ابھی اپنا ماضی والا جو درپردہ کردار تھا، اسے بحال کرنا چاہتی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے 13 جماعتوں کا اتحاد بنایا۔ آپ دیکھیں کہ ان جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے سیاسی نعرے ’ووٹ کو عزت دو‘ وغیرہ سب چھوڑ دیے ہیں۔
تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ حکومت الیکشن کرانے کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ مریم نواز کے نعرے ’پہلے احتساب پھر الیکشن‘ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ وزارتِ دفاع نے بھی الیکشن کے لیے سکیورٹی نہ دینے کی بات کی ہے۔
زمان پارک کی صورت حال سے عمران خان کو سیاسی فائدہ ملنےسے متعلق سوال پر زاہد حسین کہنا تھا کہ ’عمران خان کی مقبولیت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ موجودہ حکومت کی کارکردگی بھی ہے جو تسلی بخش نظر نہیں آتی۔ انہوں نے جس انداز میں معیشت کو ہینڈل کیا ہے، عمران خان اسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘’پاکستان میں ماضی میں بھی ایسے بحران آتے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں غیرسیاسی قوتوں کو مداخلت کا موقع ملتا ہے۔
رسول بخش رئیس نے اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘دیکھیں اب حالات بہت زیادہ مختلف ہیں۔ ضیاء الحق اور پرویز مشرف والا دور واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اب گراؤنڈ پر مزاحمت بہت زیادہ ہے۔کیا عمران خان کو خود کو قانون کے سامنے نہیں پیش کر دینا چاہیے؟ اس سوال پر رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے خلاف 78 مقدمات ہیں جن میں سے اکثر مضحکہ خیز ہیں۔ ان پر قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے۔ وہ قانونی طریقے سےضمانت قبل از گرفتاری لے رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے۔‘
عاصم سجاد آئندہ دنوں میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں دیکھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مروجہ سیاست میں کوئی تبدیلی ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ حکمرانوں کے آپس کے اس کھیل میں مزید شدت آئے گی۔ہمارا تو یہاں کے نظامِ حکمرانی پر سوال ہے۔‘پاکستان کی آئی ایم ایف سے ممکنہ ڈیل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’اگر بالفرض آئی ایم ایف تین ارب دے بھی تو یہ چھ آٹھ ماہ ہی چل سکیں گے۔ اس کے بعد پھر آپ کسی نہ کسی سے مانگنا پڑے گا۔
رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ ملک میں جاری ’سیاسی افراتفری سے متعلق سوال کا جواب نگراں حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے پوچھنا چاہیے جو اس سب کے ذمہ دار ہیں۔‘’یہ فساد اس وقت تک چلے گا جب تک یہ فیصلہ نہیں ہو جاتا کہ یہاں مقتدر آئین اور عوام ہیں یا کوئی اور ہے۔
ممتاز تجزیہ کار بے نظیر شاہ نے بتایا کہ زمان پارک آپریشن کے سیاسی اثرات بہت نمایاں ہیں ۔ اس سے عمران خان کو سیاسی فائدہ ہوا ہے۔ وہ اپنے کارکنوں کو متحرک رکھے ہوئے ہیں اور لوگ ان کے بیانیے کو پورے میڈیا کے ذریعے سن رہے ہیں۔ بے نظیر شاہ سمجھتی ہیں کہ زمان پارک آپریشن کی ٹائمنگ درست نہیں تھی کیونکہ ظلے شاہ والے واقعے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کارکن پہلے ہی بہت چارجڈ تھے۔ اس لیے اس آپریشن کے نتیجے میں غصے سے بپھرے ہوئے ان کارکنوں نے پولیس کو پسپا کرکے جو ردعمل دیا وہ حکومت سمیت بہت سے لوگوں کے لئے حیران کن تھا۔ عمران خان کے میڈیا سیل نے ویڈیوز اور تصویروں کے ذریعے سوشل میڈیا پر کہانیاں سنائیں انہوں نے عام لوگوں کے ذہنوں کو بھی متاثر کیا۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا زمان پارک آپریشن پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ بنک میں بھی اضافے کا باعث بنا ہے۔ بے نظیر شاہ کا کہنا تھا کہ بالکل نہیں۔ ان کے خیال میں الیکشن جیتنے کے عمل میں بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ پارٹی کے ووٹ بنک کے علاوہ امیدوار کی مقبولیت اور عوامی رابطہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں برادری سسٹم سمیت کئی فیکٹرز کام کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے پاس نون لیگ کے مقابلے کے لیے سینٹرل پنجاب میں بڑی تعداد میں اچھے امیدوار نہیں ہیں۔ اس لیے بہتر سوشل میڈیا یا اچھی میڈیا کوریج کا اثر تو ہوتا ہے لیکن یہ انتخابات میں کامیابی کا واحد ذریعہ نہیں ہے۔
