حکومت سے باہر رہنا زرداری کی کونسی باریک سیاسی چال ہے؟

سابق صدر آصف علی زرداری بہت جہاندیدہ اور دور اندیش سیاستدان ہیں، انہیں معلوم ہے کہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ (ن)حکومت لیکر اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے لگی ہے۔ پیپلز پارٹی شراکت اقتدار کے تحت بلوچستان میں حکومت بنائے گی، صدر مملکت، چیئر مین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی جیسے منصب حاصل کرنے کی کوشش کرے گی، اگر حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ ہو گا تو ساتھ دے گی مگر مخلوط حکومت کا حصہ بننے کا فیصلہ نہیں کرے گی۔ اگر مقتدر حلقوں کے دبائو پر حکومت میں شامل ہونا بھی پڑا تو تین سال بعد کوئی بہانہ کر کے الگ ہو جائے گی۔ اس دوران خورشید شاہ اور بلاول بھٹو زرداری اصولی موقف اپناتے ہوئے حکومت پر تنقید بھی کرتے رہیں گے، مہنگائی کے خلاف آواز اُٹھائی جائے گی، تحریک انصاف کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کی باتیں ہوں گی، آئندہ انتخابات آتے آتے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) دونوں غیر مقبول ہو چکی ہوں گی تو پیپلز پارٹی ہی متبادل آپشن کے طور پر سامنے آئے گی اور بلاول بھٹو زرداری اگلے وزیر اعظم ہوں گے ,یہی پیپلز پارٹی کی حکمت عملی ہے. مستقبل کا یہ سیاسی نقشہ سینئر کالم نگار محمد بلال غوری نے اپنے ایک کالم میں پیش کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ پارلیمانی سیاست میں اقتدار کے حصول کو ہی حتمی کامیابی سمجھا جاتا ہے لیکن یہ اقتدار کس قیمت پر مل رہا ہے، یہ بات سب سے اہم ہوا کرتی ہے۔ باوقار انداز میں حکومت بنانے کی کوشش کرنے اور اقتدار کی ہوس میں دیوانہ پن دکھانے میں بہت فرق ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو بات شہباز شریف نے منگل کے روز پریس کانفرنس میں کہی، وہی بات نواز شریف کی نام نہاد وکٹری اسپیچ میں کیوں نہ کہی گئی؟اقتدار تو خود چل کر آپ کے پاس آنا ہی تھا مگر حکمرانی کا شوق انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ تحریک انصاف کے بانی فرماتے ہیں، تین جماعتوں یعنی مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے کسی صورت اتحاد نہیں ہو سکتا۔ قومی اسمبلی میں اکثریت انہی تین جماعتوں کے پاس ہے۔ قومی اسمبلی کے 265حلقوں میں سے تقریباً 150 نشستوں پر انہی بڑی جماعتوں کے امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔ اگر آزاد ارکان اسمبلی اور دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی شمار کر لیا جائے تو یہ تعداد 170تک چلی جاتی ہے جبکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے 93نشستوں پر کامیابی حاصل کی جن میں سے بمشکل 90 نومنتخب ارکان پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں۔ حکومت سازی کیلئے 133ارکان قومی اسمبلی کی حمایت درکار ہو گی۔ سوشل میڈیا پر جو مرضی جعلسازی کریں مگر تحریک انصاف ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی پنجاب اور وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتی۔ یہ بات ہم سب کو بہت اچھی طرح سے معلوم ہے۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں کوئی ذمہ دار سیاسی جماعت اپنی مقبولیت اور سیاسی مستقبل دائو پر لگا کر ایک ایسی کمزور حکومت بنانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی جو مسائل حل نہ کر پائے اور عوام کے غیظ و غضب کا نشانہ بن جائے۔ تحریک انصاف کا معاملہ قدرے مختلف ہے، انہوں نے کارکردگی کے بجائے بیانیے کی بنیاد پر ووٹ لینا ہوتا ہے۔ ان کے ہاں ’’نک دا کوکا‘‘ اور ’’پروگرام تو وڑ گیا‘‘جیسے نعروں کے ذریعے بھی کام چلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد بھی ’’لوگوں کا شعور‘‘ بیدار کرنا ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں جس طرح کی ترقی گزشتہ دس برس میں ہوئی، اُمید ہے علی امین گنڈا پور اس کی رفتار میں مزید اضافے کا سبب بنیں گے اور بہت جلد صوبائی حکومت دیوالیہ ہو جائے گی۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے مریم نواز کو وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکز میں شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے۔ کیا شریف خاندان کے علاوہ کسی رُکن پارلیمنٹ میں یہ اہلیت و قابلیت نہیں کہ صوبے یا پھر مرکز میں نئے چہرے سامنے لائے جا سکیں؟ ملک کو جس قدر مشکل حالات کا سامنا ہے، بہتر تو یہ ہوتا کہ ایک مضبوط اور مستحکم حکومت بنتی اور نواز شریف وزیر اعظم ہوتے لیکن یہ نہیں ہو پایا تو کیا گھر میں ہی اقتدار کی بندر بانٹ کر لی جائے؟
بلال غوری کے مطابق بالعموم جب موروثی سیاست کی بات ہوتی ہے تو مسلم لیگ (ن) کی طرح پیپلز پارٹی پر بھی تنقید ہوتی ہے اور بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ کیا قیادت کا جوہر صرف شریف اور بھٹو خاندان کی میراث ہے؟ لیکن سچ پوچھئے تو پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن)کے مقابلے میں بدرجہا بہتر ہے۔ وہاں یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف جیسے رہنما وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ سندھ میں قائم علی شاہ اور مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں، اب ناصر حسین شاہ کا نام زیر غور ہے۔ خورشید شاہ جیسے رہنما اپوزیشن لیڈر بنائے جا سکتے ہیں۔ مگر مسلم لیگ (ن) میں اتنا ظرف نہیں کہ شریف خاندان کے علاوہ کسی اور کو آگے لا سکے۔ گزشتہ انتخابات کے بعد صاف دکھائی دے رہا تھا کہ کامیابی کا کوئی امکان نہیں مگر وفاق میں شہباز شریف اور پنجاب میں ان کے فرزند حمزہ شہباز شریف کو نامزد کر دیا گیا۔ اب پھر وہی غلطی دہرائی جا رہی ہے شاید مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ایک ہی بات سیکھی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے

انتخابی نتائج مسترد، فضل الرحمن کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان

سبق نہیں سیکھنا۔

Back to top button