سوشل میڈیا مہم : جے آئی ٹی نے علیمہ خان کو کل دوبارہ طلب کرلیا

سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے کےخلاف جے آئی ٹی کی تحقیقات جاری ہیں، جے آئی ٹی نے علیمہ خان کو کل 26 مارچ کو دوبارہ طلب کرلیا۔
ذرائع کےمطابق جے آئی ٹی کی جانب سے گزشتہ طلبی پر علیمہ خان سامنے پیش نہ ہوئی تھیں۔آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں جے آئی ٹی تحقیقات کر رہی ہے۔ جے آئی ٹی کے پاس شواہد موجود ہیں۔
ذرائع کےمطابق علیمہ خان سمیت 17 افراد کو 21 مارچ کو طلب کیاگیا تھا،تاہم علیمہ خان جے آئی ٹی کےسامنے پیش نہ ہوئیں ان کی جانب سے ان کی وکیل عائشہ خالد جے آئی ٹی کے سامنےپیش ہوئیں۔
جے آئی ٹی نے گذشتہ سماعت پر علیمہ خان کےوکلا سے 5 گھنٹے سے پوچھ گچھ کی،سینٹر عون عباس بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئےتھے،عون عباس سے جے آئی ٹی نے سوشل میڈیا کےحوالے سے سوال کیے۔
جے آئی ٹی آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں تحقیقات کررہی ہے،جے آئی ٹی الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ 2016 کے سیکشن کےتحت تشکیل دی گئی۔
قبل ازیں سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کےحوالے سے تحقیقات کےلیے جے آئی ٹی نے علیمہ خان سمیت 17 افراد کو دوبارہ طلب کیا گیا تھا۔تمام افراد کو 21 مارچ کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیاگیا۔
جے آئی ٹی نے جن افراد کو نوٹس جاری کیےہیں۔ان میں فردوس شمیم نقوی،خالد خورشید، اسلم اقبال،حماد اظہر، وقاص اکرم،تیمور سلیم، عون عباس،شہباز شبیر، اظہر مشوانی،صبغت اللہ ورک، جبران الیاس،محمد نعمان افضل،سلمان رضا، موسیٰ ورک،زلفی بخاری اور علی ملک شامل ہیں۔
"میر جعفر” زلمے خلیل زاد
یاد رہےکہ علیمہ خان 19 مارچ کو بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکی ہیں۔ جے آئی ٹی سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کےحوالے سے تحقیقات کررہی ہے اور یہ جے آئی ٹی الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ 2016 کے تحت تشکیل دی گئی ہے۔