تحریک طالبان کے سوشل میڈیا ونگ نے اپنے کمانڈرز کیسے مروائے ؟

تحریک طالبان پاکستان نے اپنے دہشت گرد حملوں میں شدت لانے کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل میڈیا پروپیگنڈہ ونگ عمر میڈیا کو بھی جدید بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے اور اپنے میڈیا آپریشنز کو نہ صرف وسعت دی ہے بلکہ اس میں سرمایہ کاری بھی کر دی ہے۔

نئی حکمت عملی اپنانے کے بعد عمر میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے پروپیگنڈے میں ایک نیا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ اب عمر میڈیا کے پلیٹ فارم سے کسی واقعے کی ذمہ داری لینے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اُکسانے اور ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق بیانات بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور میں حال ہی میں ٹی ٹی پی نے پروپیگنڈا کرتے ہوئے پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال میں حکومت مخالف مظاہروں میں فوج مخالف جذبات کو بھڑکانے کے لیے تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کو ‘مظالم’ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔ اسی طرح ٹی ٹی پی کی جانب سے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر لکی مروت میں کشیدگی کے دوران مقامی لوگوں کو درپیش مشکلات پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے متعدد بیانات بھی جاری کیے گئے تھے۔

حالیہ کچھ عرصے میں ٹی ٹی پی کا میڈیا ونگ عمر میڈیا کھل کر پاکستانی حکومت اور سکیورٹی فورسز کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے جس میں روز بروز شدت آ رہی ہے۔ اگرچہ پاکستانی فوجی حکام نے ٹی ٹی پی نیٹ ورک کو نقصان پہنچانے میں کامیابیوں کا دعویٰ کیا ہے، لیکن ان کوششوں کا تنظیم کے میڈیا آپریشنز پر کوئی خاص منفی اثر نہیں پڑا ہے۔ دراصل ‘عمر میڈیا’ نے تنظیم کے موجودہ سربراہ نور ولی محسود کے زیر قیادت وسعت حاصل کی ہے۔ نور ولی نے 2018 میں ٹی ٹی پی کی قیادت سنبھالنے کے بعد تنظیم سے الگ ہونے والے دھڑوں کو مضبوط کیا اور کئی دوسرے گروپوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا۔  ٹی ٹی پی کے میڈیا ونگ ‘عمر میڈیا’ نے 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے اپنی سرگرمیاں تیز کر رکھی ہیں۔ اس ونگ کا ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں میں ایک اہم کردار رہا ہے۔ اس میڈیا ونگ کا نام افغان طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے نام پر رکھا گیا ہے اور یہ میڈیا گروپ ٹی ٹی پی کی نام نہاد ‘وزارتِ اطلاعات و نشریات’ کے ماتحت کام کرتا ہے۔

عمر میڈیا کی جانب سے آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ مواد اُردو اور پشتو زبانوں میں شائع کیا جاتا ہے اور پھر اسے انگریزی، دری، فارسی اور عربی میں ترجمہ کر کے دوبارہ شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں متعدد ویڈیوز، روزانہ کا ریڈیو براڈکاسٹ، ہفتے میں دو بار نشر ہونے والی حالاتِ حاضرہ کی پوڈکاسٹ، ایک اردو میگزین اور ٹی ٹی پی کی جانب سے روزانہ کے حملوں کی رپورٹ اور سیاست کے حوالے سے بیانات کی اشاعت شامل ہے۔ یہ مواد عمر میڈیا کی ویب سائٹ پر شائع کیا جاتا ہے اور اسے گروپ کے مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس، واٹس ایپ اور ٹیلی گرام جیسی پیغام رساں ایپس کے ذریعے بھی پھیلایا جاتا ہے۔ عمر میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے افراد عموماً افغان اور پاکستانی صحافیوں کے ساتھ رابطے کرتے ہیں اور ٹی ٹی پی کے مواد کی وسیع پیمانے پر اشاعت کو یقینی بناتے ہیں۔

سال 2021 میں پاکستانی صحافی مشتاق یوسفزئی نے ایک ٹاک شو میں انکشاف کیا تھا کہ عمر میڈیا کے لیے پڑھے لکھے نوجوان مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کو مانیٹر کرتے ہیں۔ عمر میڈیا کی جانب سے ٹیلی گرام اور واٹس ایپ پر چینل بنائے گئے ہیں اور متعدد پاکستانی اور افغان صحافی ان چینلز کو فالو کرتے ہیں۔ 2021 میں عمر میڈیا نے اعلان کیا تھا کہ اسے فالو کرنے والے جو حضرات مضامین لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ مجلے کے لیے اُردو زبان میں مضامین لکھ کر اسے ایک مخصوص آئی ڈی پر ارسال کریں۔ یہ اعلان افغان طالبان کی اس حکمتِ عملی سے مطابقت رکھتا تھا جو ان کی جانب سے اپنے دورِ عروج پر اپنایا گیا تھا۔  یاد رہے کہ دیگر شدت پسند تنظیمیں جیسا کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ کی ایسی میڈیا پالیسی نہیں ہے۔ تاہم رواں برس جنوری میں ٹی ٹی پی نے اپنے میڈیا ونگ عمر میڈیا کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کیں اور اس کو مزید جدید اور فعال بنایا ہے۔ رواں برس جنوری میں ٹی ٹی پی نے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیے جانے والے عمر میڈیا کو از سر نو تشکیل دیا تھا اور ایک تفصیلی تنظیمی ڈھانچے کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق 34 افراد اس ادارے کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے۔ ٹی ٹی پی نے اس کی ازسر نو تشکیل کے دوران مرکزی میڈیا کمیشن کے ساتھ ساتھ آڈیو، ویڈیو، میگزین، ایف ایم ریڈیو اور سوشل میڈیا کے پانچ الگ شعبوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

ٹی ٹی پی کے ایک بیان کے مطابق عمر میڈیا کے نو رکنی مرکزی میڈیا کمیشن کی سربراہی کالعدم تنظیم کے کمانڈر چوہدری منیب الرحمان جٹ کرتے ہیں، جبکہ محمد خراسانی اس کے مرکزی ترجمان ہیں۔ اس کے علاوہ ٹی ٹی پی کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس کے نام نہاد 36 ‘صوبوں’ کے لیے الگ سے میڈیا نمائندے مقرر کیے گئے ہیں۔ منیب جٹ عمر میڈیا کے سال 2023 سے سربراہ ہیں اور انھوں نے اس کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ واضح رہے کہ عمر جٹ اس سے قبل القاعدہ برصغیر کے ساتھ منسلک تھے۔ عمر میڈیا میں دیگر عسکریت پسند تنظیموں جیسے کہ جماعت الحرار سے تعلق رکھنے والے ماہر پروپیگنڈا کرنے والے ارکان بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ عسکریت پسند تنظیم جماعت الحرار 2020 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ الحاق کر کے اس میں ضم ہو گئی تھی۔

2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ٹی ٹی پی نے عمر میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے میں نمایاں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے میڈیا آپریشن کو نہ صرف وسعت دی ہے بلکہ اس میں سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ عمر میڈیا کی جانب سے مختلف اقسام کا مواد بنایا جاتا ہے لیکن ویڈیو اس میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔

ٹی ٹی پی کا عمر میڈیا ویڈیو، آڈیو اور پوڈ کاسٹ سیریز کے ساتھ ساتھ اردو اور پشتو زبان میں رسالے بھی شائع کرتا ہے۔ اس کے علاوہ عمر میڈیا کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کسی پیش رفت پر بیانات بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ ان میں حملوں کے حوالے سے مختصر دعوے بھی کیے جاتے ہیں اور انھیں ترجمان محمد خراسانی نے منسوب کیا جاتا ہے۔ گذشتہ برس ستمبر میں عمر میڈیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ باقاعدگی سے چار رسالے، ایک پوڈ کاسٹ سیریز، دو لیکچرز روزانہ اور ایک ہفتہ وار نیوز لیٹر شائع کر رہا ہے۔ عمر میڈیا کی جانب سے جاری کی جانے والی مختصر ویڈیوز سب سے زیادہ قابل ذکر ہیں جن کا مقصد پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف تشدد کو بھڑکانا اور ساتھ ہی ٹی ٹی پی کی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کو پیش کرنا ہوتا ہے۔

شہباز حکومت کو فارغ ہونے کے بعد کن زیادتیوں کا حساب دینا ہے ؟

عمر میڈیا کی جانب سے یہ تمام پروپیگنڈا مواد ان کی ویب سائٹ، واٹس ایپ چینل، ٹیلی گرام سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع کیا جاتا ہے۔ ٹی ٹی پی کے حامی افراد اور گروہ بھی واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف پروپیگنڈا چینلز چلاتے ہیں، یہاں سے بھی اس مواد کی تشہیر کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے روایتی میڈیا کے صحافیوں کے ساتھ بھی شیئر کیا جاتا ہے۔

Back to top button