سہیل آفریدی کا ٹکراؤ کی راہ اختیار کرنا صوبے کی عوام کے حق میں نہیں : ایمل ولی

صدر اے این پی ایمل ولی خان نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کا ٹکراؤ کی راہ اختیار کرنا،خیبرپختونخوا کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ سہیل آفریدی اپنے لیڈر کی جنگ لڑیں لیکن وہ عدالت سے ہی ممکن ہوگی۔
عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) کے صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھے شخص کےلیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرے۔وزیراعلیٰ کی اولین ذمہ داری یہ ہےکہ وہ عوام اور ریاست کے درمیان پائے جانے والے فاصلے کم کریں اور بداعتمادی کے خاتمے کےلیے عملی اقدامات کریں۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر حالات اسی طرح برقرار رہے تو پھر صوبے کا مستقبل کیا ہوگا؟ سہیل آفریدی اپنے قائد کی جنگ ضرور لڑیں، لیکن وہ جنگ آئین و عدالت کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہے۔وزیراعلیٰ کو ٹکراؤ کے بجائے آئین و قانون کی راہ اختیار کرنی چاہیے اور صوبے کی بہتری کےلیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
سہیل آفریدی کو اشتعال انگیز بیان پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے : محسن نقوی
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ وزیراعلیٰ کو برداشت اور بردباری سے کام لینا چاہیے،سیاست کو قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور کرنے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔تمام سیاسی قوتوں کو پائیدار امن کےلیے مسلح افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، کیوں کہ فوج کے عزائم پر شکوک و شبہات پیدا کرنا عوامی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
