اسٹیبلشمنٹ کے بند دروازوں پر سہیل آفریدی کے ترلے

 

 

 

مسلسل ناکام ہوتی ہوئی احتجاجی پالیسی اور اپنی اقتدار کی کرسی کو ڈولتا دیکھ کر بھڑک باز وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی گھٹنے ٹیکتے ہوئے مفاہمانہ روش اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے ساتھ ساتھ، عمران خان سے ملاقاتوں کے سلسلے کی بحالی اور پی ٹی آئی کے احیاء کیلئے کوئی راستہ تلاش کیا جا سکے۔اسی مقصد کے حصول کیلئے سہیل آفریدی نے بھی اپنے قائد عمران خان کی طرح حکومت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کیلئے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ سہیل آفریدی کے اسلام آباد میں بڑھتے قیام کو اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے ساتھ مفاہمت کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت اب جو مرضی حربے استعمال کر لے عسکری قیادت ان پر دوبارہ اعتماد کرنے پر قطعاً آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔ دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے مابین بداعتماد اور دوریاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ مستقبل قریب میں تحریک انصاف اور مقتدر حلقوں کے مابین مفاہمت کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔

 

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی عید کے موقع پر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے  ملاقات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ تاہم ابھی تک مقتدر حلقوں کی جانب سے انھیں کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی پشاور کی نسبت اسلام آباد میں زیادہ سرگرم ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ کسی بھی صورت عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو، جو ان کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے بند ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں کے سلسلے کی اس وقت تک بحالی ممکن نہیں جب تک حکام کو ملاقات کے بعد باہر آ کر سیاسی گفتگو نہ کرنے بارے یقین دہانی نہیں کروائی جاتی۔

 

خیال رہے کہ سہیل آفریدی کی اہم ملاقاتیں ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب وہ عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے حوالے سے ملک گیر تحریک کی تیاری کررہے ہیں اور انھوں نےبانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے باقاعدہ عمران خان رہائی فورس تشکیل دینے کا اعلان کر رکھا ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کے بیک ڈور رابطے اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان سرد مہری کے بعد تعلقات میں معمولی نرمی پیدا ہو رہی ہے جس کے بعد آنے والے دنوں میں برف پگھلنے کے آثار نظر آ سکتے ہیں۔ تاہم بعض دیگر مبصرین کا ماننا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے ساتھ مفاہمت کے دروازے تقریباً بند کر دیے ہیں۔ عسکری قیادت اب پی ٹی آئی پر دوبارہ اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں، اور بداعتمادی اور فاصلے اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ مستقبل قریب میں کسی مؤثر مفاہمت کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے جہاں ایک طرف اسٹیبلشمنٹ سے بیک ڈور رابطوں کا سلسلہ تیز کر رکھا ے وہیں دوسری جانب ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں عمران خان کے کیسز کی سماعت کو تیز کرنے کے لیے وکلا میں بھی تبدیلی کردی ہے، اور بیرسٹر اعتزاز احسن کو عمران خان کا وکیل مقرر کیا گیا ہے، تاکہ قانونی دباؤ کے تحت ملاقاتوں اور علاج تک رسائی کے سلسلے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

 

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی حکومتی امور کے مقابلے میں پارٹی اور سیاسی معاملات میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پارٹی ورکرز بھی کارکردگی کی بجائے عمران خان کی رہائی کے لیے ٹھوس اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں،اسی لئے سہیل آفریدی اسلام آباد میں رہ کر مذاکرات اور عمران خان کی رہائی کیلئے کوشاں ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی امید سامنے نہیں آ رہی۔ تاہم مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی قانونی حکمت عملی، سہیل آفریدی کی مفاہمانہ پالیسی اور بیک ڈور رابطے اس بات کے غماز ہیں کہ پاکستان کی سیاسی سیاست میں احتجاج اور مذاکرات کے بیچ نازک توازن برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ سہیل آفریدی کی کوششیں حوصلہ افزا دکھائی دیتی ہیں، مگر اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے مابین بداعتمادی اور فاصلے مستقبل میں کسی بڑی مفاہمت کی راہ میں سب سے بڑا رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے اکثریتی رہنما بھی اب سیز فائر کے خواہشمند ہیں وہ معاملات میں مزید بگاڑ نہیں پیدا کرنا چاہتے۔ اسی لئے سہیل آفریدی اب سوچ سمجھ کر بیانات دیتے ہیں اور ان کی گفتگو میں وہ سنجیدگی نظر آ رہی ہے جو پہلے مفقود تھی۔ مخالفین ان کی حالیہ نرمی کو ’مفاہمت‘ کا نام دیتے ہیں، مگر پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی کے موقف میں نرمی کو کسی مجبوری کی بجائے سیاسی حکمت عملی قرار دیتی نظر آتی ہے۔

 

Back to top button