PTI کی اندرونی جنگ سے سہیل آفریدی کی کرسی خطرے میں

بڑھتے ہوئے اندرونی اختلافات کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں بھی ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار ہوتی نظر آتی ہے، جہاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنی ہی جماعت کے اندر مضبوط ہوتی گروپ بندی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کرنے کی وجہ سےسہیل آفریدی کی کرسی ڈگمگانے لگی ہے۔
پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں کے مطابق سہیل آفریدی کے خلاف مزاحمت پارٹی کے کسی ایک دھڑے تک محدود نہیں رہی بلکہ پارٹی کے اندر موجود مختلف بااثر گروپس کھل کر وزیر اعلیٰ خیبرپختوںخوا کی مخالفت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سہیل آفریدی مخالف دھڑوں میں عاطف خان، علی امین گنڈاپور، اسد قیصر اور تیمور جھگڑا جیسے رہنماؤں کے حلقے بھی شامل ہیں، جو اپنی سیاسی حیثیت اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے مسلسل سہیل آفریدی مخالف سازشوں میں مصروف ہیں۔ جس کی وجہ سے جہاں سہیل آفریدی سرکار دباؤ کا شکار ہے وہیں ان کے اقتدار کی کشتی مسلسل ہچکولے کھاتی نظر آ رہی ہے۔
خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ایک ایسے نازک مرحلے پر اپنی ہی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اندر بڑھتی ہوئی گروپ بندی اور اختلافات کا سامنا کر رہے ہیں، جب وہ بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر سٹریٹ مہم شروع کرنے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ صورتحال سیاسی یکجہتی کی متقاضی ہے، تاہم اندرونی سطح پر کھینچا تانی، گروپ بندی اور باہمی اختلافات نے سہیل آفریدی کے لئے چیلنجز کو کئی گنا بڑھا دیا نے ۔اگرچہ پاکستان تحریک انصاف مسلسل اس تاثر کو مسترد کرتی آئی ہے کہ پارٹی کے اندر کوئی سنجیدہ گروپنگ موجود ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان بڑھتے فاصلے اور کھلے عام سامنے آنے والے اختلافات اس بات کے غماز ہیں کہ پی ٹی آئی میں سب اچھا نہیں ہے جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔
پارٹی کے ایک مرکزی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت طاقت اور اقتدار کی جنگ جاری ہے۔ صوبے میں پارٹی کئی گروپس میں تقسیم ہو چکی ہے، جن میں عاطف خان، اسد قیصر، علی امین گنڈاپور اور تیمور جھگڑا کے دھڑے پہلے سے موجود تھے، جبکہ اب کئی نئے گروپس بھی ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کے بعد پارٹی کے کئی اراکین خود کو اس منصب کے لیے موزوں سمجھنے لگے ہیں، جس کے باعث اندرونی اختلافات اور گروپنگ میں مزید تیز نظر آ رہی ہے۔ ذرائع کے بقول پارٹی کے اندر کئی گروپس سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے عمران خان تک منفی اطلاعات پہنچانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف سیاسی ماحول کو کشیدہ کیا ہے بلکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کیلئے بھی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر موجود گروپ بندی کا ایک واضح اثر کابینہ کی توسیع میں تاخیر کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کابینہ میں توسیع کے خواہاں تھے اور اس سلسلے میں انھوں نے کئی نام بھی فائنل کر رکھے تھے، تاہم مختلف گروپس کی جانب سے اپنے اپنے امیدواروں کو کابینہ میں شامل کروانے کی کوششوں نے کابینہ میں توسیع کے عمل کو مؤخر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
افغان طالبان نے TTP امیر کو کابل کی ریڈ زون میں شفٹ کر دیا
دوسری جانب پارٹی قیادت ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق نہ تو کوئی گروپنگ موجود ہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ تمام رہنما عمران خان کی قیادت پر متحد ہیں اور اختلافات کی خبریں محض افواہیں ہیں، جن کا مقصد پارٹی کی جاری سیاسی مہم کو نقصان پہنچانا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات کوئی نئی بات نہیں، تاہم موجودہ حالات میں ان کی شدت اور اثرات زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی مزاحمتی سیاست بھی کچھ حلقوں کو قابل قبول نہیں، جس کی وجہ سے ان کے خلاف صف بندی دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ دوسری جانب مراد سعید جیسے رہنماؤں کی حمایت انہیں جزوی طور پر سہارا فراہم کر رہی ہے۔
