سہیل وڑائچ کا فوج کو ڈنڈے کی بجائے سیاسی علاج کا مشورہ

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اصل فیصلہ سازوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عمران خان کے ریاست مخالف بیانیے کا مقابلہ ڈنڈے کی بجائے سیاسی حکمت عملی سے کریں۔ انکے مطابق پاکستان اس وقت ایسی کیفیت کا شکار ہے جسے پنجابی میں ’’اَت‘‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ضد، غصے اور انتقام میں ہر حد پار کرنا ہے۔ ان کے مطابق معاشرے اور سیاست میں اس وقت اَت کا اتنا غلبہ ہے کہ ہر طرف جھگڑا اور محاذ آرائی چل رہی ہے، حالانکہ اَت دراصل دشمنی اور بدنیتی کا رویہ ہے جو انجام کار خدا کو بھی انسان کا ’’ویر‘‘ بنا دیتا ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق اس کے برعکس ’’پَت‘‘ عزت، شائستگی اور معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کا نام ہے، جب اَت اور پَت آمنے سامنے آ جائیں تو ایسے میں ’’مَت‘‘ یعنی عقل و فہم کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان کے مطابق فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ اَت اٹھانے والوں کا مقابلہ اَت سے کرنے کے بجائے پَت اور مَت کے ساتھ کریں اور سیاسی حریفوں کے خلاف انتظامی و انتقامی ہتھکنڈوں اپنانے کے بجائے سیاسی داؤ پیچ استعمال کیے جائیں۔

 

سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ کے لیے اپنی سیاسی تجزیے میں انسانی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب دنیا بنی تو زمین پر وحشت کا راج تھا۔ ہر تنازعہ اور ہر مسئلہ جنگ، خون ریزی اور مارکٹائی سے حل کیا جاتا تھا۔ انسان کو لڑائی کے علاوہ کسی طریقے سے مسئلہ حل کرنا آتا ہی نہیں تھا۔ لیکن جیسے جیسے انسان نے ترقی کی، وہ جنگوں اور جھگڑوں سے دور ہوتا چلا گیا۔ اس نے اَت کو چھوڑنا اور پَت کو اپنانا شروع کیا۔ تربیت، تہذیب اور شعور نے انسان کے اندر موجود جنگی جبلت کو مختلف شکلیں دیں۔ مقابلے بازی کی جبلت کو کھیلوں کے مقابلوں سے مطمئن کیا گیا اور طاقت کے مظاہرے کی خواہش کو سیاست میں منتقل کیا گیا جہاں امن، آشتی، مکالمہ اور مذاکرات کے ذریعے معاملات طے ہوتے ہیں۔ انکے مطابق سیاست جنگ کا متبادل ضرور بنی مگر اسکی روح میں مکالمہ اور برداشت رچی بسی ہیں۔ تاہم سہیل وڑائچ کے مطابق ہمارے سیاسی اور سماجی مزاج میں آج بھی پَت کے مقابلے میں اَت کو فوقیت حاصل ہے۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ موجودہ ملکی سیاست اور حالات تیزی سے اَت کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کسی کو بھی پَت کی پروا نہیں رہی۔ ان کے مطابق سیاست اور عہدوں کی کبھی عزت ہوا کرتی تھی، جو اب ختم ہو چکی۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے سیاسی بیانیے میں نہ تو اپنوں کی عزت ہے اور نہ ہی غیروں کی۔ کسی معاملے میں حد سے گزرنا ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف والوں نے ’’اَت چک‘‘ دی تھی لہذا اب انہیں ردعمل میں ویسا ہی جواب جواب ملا یے۔ اور یاد رکھیے کہ جب اَت ’’خدا کا ویر‘‘ بن جائے تو اس کا انجام تباہ کن ہوتا ہے۔

 

سینیئر صحافی کے مطابق انصافیوں کی سیاسی اَت بھی اس نہج پر پہنچ چکی ہے جس کا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں بلکہ مجموعی طور پر پاکستانی ریاست، سیاست، جمہوریت اور رواداری کو پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عرصے سے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ تحریک انصاف کے بیرون ملک بیٹھے بعض حامیوں کو حالات کی سنگینی کا احساس نہیں بلکہ انہیں اپنے صرف بیانیے اور اس سے وابستہ مالی مفادات کی فکر ہے۔ اگر تحریک انصاف کے لیے ٹیومر بن جانے والے یوٹیوبرز ریاست مخالف بیانیے پر فوکس کرنے کی بجائے عمران خان کو جیل سے نکلوانے کی حکمت عملی اپناتے تو پی ٹی آئی کے بہت سے مسائل بتدریج حل ہو سکتے تھے۔ لیکن اَت اٹھانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ صورتحال شدید ڈیڈلاک کا شکار ہو گئی۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ فوج نے تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سیاسی جماعت اور اسکے لیڈر کے خلاف اتنا سخت اور اعلانیہ ردعمل دیا ہے۔ ماضی میں فوج نے بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف کی بھی مخالفت کی ہے مگر تمام سازشیں پس پردہ رہ کر کی گئیں۔ اس مرتبہ کھلے عام ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ معاملات ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ اگرچہ معاملہ پَت سے بہت آگے نکل کر اَت تک پہنچ گیا ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کہ آگ کو آگ نہیں بلکہ پانی بجھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی، جھگڑا، سخت سزائیں اور پابندیاں کوئی مستقل حل نہیں۔ ایسے اقدامات وقتی طور پر تحریک انصاف کو دباؤ میں لاسکتے ہیں مگر سیاسی تحریکیں دباؤ سے ختم نہیں ہوتیں۔ سیاسی جذبات اور سیاسی تحریکوں کا مقابلہ صرف سیاست کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی مسائل کو ایلوپیتھک طریقہ علاج سے نہیں بلکہ ہومیو پیتھک علاج سے حل کیا جاتا ہے، یعنی جوش اور غصے کا علاج دانش اور عقل سے ہی ممکن ہے۔

 

تحریک انصاف کی حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے انتہا پسند کارکنوں اور یوٹیوبرز کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ ہر شخص کو ملزم، لفافہ، ٹاؤٹ یا کسی نہ کسی مفاد کا اسیر سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ گمان بھی سراسر غلط ہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں فوج کے خلاف مزاحمت کرنے اور سختیاں برداشت کرنے والی وہ پہلی جماعت ہے۔ وڑائچ نے ضیا دور میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور ورکرز کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ ایم آر ڈی نے اپنے سخت ترین مخالفین کے ساتھ اتحاد کر کے تحریک چلائی تھی۔ پی ڈی ایم بھی شدید سیاسی مخالفین کا اتحاد تھا جس نے بالاخر اکٹھے ہو کر عمران کو اقتدار سے رخصت کیا۔

 

اس کے برعکس تحریک انصاف تین برس گزر جانے کے باوجود نہ کسی جماعت سے صلح کر سکی اور نہ ہی حکومت مخالف موثر تحریک چلا سکی، کیونکہ اس کی سٹریٹ پاور بھی فارغ ہو چکی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عمران نے اپنی رہائی کے لیے ایک اپوزیشن اتحاد تو بنوا دیا لیکن اسکی قیادت محمود خان اچکزئی کو سونپ دی لہذا اس کا بھی کوئی سیاسی نتیجہ نہیں نکلا۔ پارٹی کہ ورکرز اتنے سرپھرے ہیں کہ وہ کسی لیڈر کی بات نہیں مانتے اور نہ ہی کسی دوسرے موقف کو قبول کرنے پر تیار ہیں۔ عمران خان کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو کو مسلسل گالیوں کا سامنا ہے۔

 

سہیل وڑائچ ریاست کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیاست میں غصہ اور انتقام نہیں لانا چاہیئے، سیاست کا تعلق دانش سے ہے اور سیاسی مسائل کا حل ہمیشہ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ کر نکالا جاتا ہے۔ آج کے فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ وہ تحریک انصاف کی گالیوں کا جواب اسی کی زبان میں دینے کی بجائے سیاسی انداز اپنائیں کیونکہ سیاست کڑوے زہر کی بجائے میٹھے زہر سے اپنا ہدف حاصل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں اَت اور پَت کا مقابلہ ہو وہاں مَت یعنی عقل استعمال کی جاتی ہے اور آج پاکستان کو اسی کی ضرورت ہے۔ انکے مطابق فیصلہ سازوں کو سیاسی اتحادیوں کے ساتھ بیٹھ کر سیاسی حکمت عملی پر مشورے کرنا چاہئیں۔

کیا فیض حمید 9 مئی کی سازش کے الزام سے بچ گئے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری اگرچہ اس وقت غیر مقبول اور کمزور سمجھے جاتے ہیں مگر سیاست پر انکی گہری گرفت سے انکار ممکن نہیں۔ یی آصف زرداری اور نواز شریف کی سیاسی حکمت عملی ہی تھی جس نے فوج اور عدلیہ کی مدد سے اقتدار میں آنے والے عمران خان کو تحریک عدم کے ذریعے وزارت عظمی سے فارغ کر دیا تھا۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق پاکستان کی موجودہ سیاست اگر اَت کی راہ پر چلتی رہی تو اسکا نقصان کسی ایک جماعت یا لیڈر کو نہیں بلکہ ریاست، سیاست، جمہوریت اور سماج کو ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اَت کی سیاست چھوڑ کر پَت اور مَت کا راستہ اختیار کیا جائے، ورنہ اسکے سیاسی اور سیاسی نتائج مزید تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Back to top button