سہیل وڑائچ کا اسٹیبلشمنٹ کو جبر کی بجائے صبر کا مشورہ

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ عوام کی چنی ہوئی منتخب سویلین حکومتوں اور ڈکٹیٹرشپ میں ہمیشہ سے یہ فرق رہا ہے کہ مارشل لا میں حاکمیت اور جبر ہوتا ہے جب کہ منتخب حکومت کی گورننس میں صبر ہوتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ آج کے پاکستان میں فیصلہ سازوں کو جبر کی پالیسیاں اپنانے کی بجائے صبر کی ضرورت ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ عموماً مارشل لا گرم ہوتے ہیں اور جمہوری حکومتیں نرم ہوتی ہین۔ گرم نظام بظاہر مضبوط دکھائی دیتے ہیں مگر زیادہ دیر نہیں چلتے جبکہ نرم نظام کمزور نظر آتے ہوئے بھی طویل عرصے تک قائم رہتے ہیں۔ ان کے بقول نرم رویے تاعمر اور تادیر سرسبز رہتے ہیں جبکہ گرم رویے جلد مرجھا جاتے ہیں۔ تاریخ میں مارشل لاؤں کے تمام حاکم اپنے عہد کے خاتمے کے ساتھ ہی سیاسی موت کا شکار ہوئے۔

 

اس کے برعکس سیاستدان چاہے اچھے ہوں یا برے، کتنی ہی سیاسی طوفانی لہروں کے باوجود دوبارہ سانس بحال کر لیتے ہیں۔ حکومت چھن جانے کے باوجود سیاستدان زندہ رہنے کا ہنر جان لیتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق سخت حکومتیں اڑیل اور ضدی ہوتی ہیں، دباؤ میں آئیں تو ٹوٹ جاتی ہیں، جبکہ نازک اور نرم حکومتوں میں لچک اور مصلحت ہوتی ہے، وہ دباؤ آنے پر جھک جاتی ہیں، مُڑ جاتی ہیں اور مصالحت کر لیتی ہیں۔ ان کے نزدیک چلتے رہنے کا نام ہی زندگی ہے۔ سخت دھاتیں کاٹنی پڑتی ہیں جبکہ نرم دھاتیں آسانی سے ڈھل جاتی ہیں، یہی اصول ریاستی نظم و نسق پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

 

سینئر صحافی لکھتے ہیں کہ اگر ماضی کے یہ تجربات ہر حاکم اور ہر حکومت کے پیش نظر رہیں تو حالات میں لازماً بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق تصورات کا الجھاؤ عملی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستانی بیوروکریسی کو کبھی افسر شاہی اور کبھی نوکر شاہی کہا جاتا ہے، حالانکہ گورنمنٹ سرونٹ یا سول سرونٹ کا واضح مطلب عوام کا خادم ہے۔ بدقسمتی سے خادموں نے شاہی رنگ اختیار کر لیا ہے اور بیشتر کو اپنے اصل کردار کا ادراک ہی نہیں۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ کاش انہیں کوئی بتائے کہ وہ شاہ نہیں بلکہ خادمِ عوام ہیں، ان کے دروازے بند نہیں بلکہ کھلے ہونے چاہئیں، سرد لہجے اور رعونت انسان کو بڑا نہیں بلکہ چھوٹا کر دیتی ہے۔ ان کے بقول یہ دنیا افسر شاہی کی نہیں، شاہیاں دم توڑ چکی ہیں، اب خادمیت اور آدمیت کا دور ہے، افسر شاہی سے آدمی بننے کی ضرورت ہے۔ وہ ایک اور غلط تصور کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ خیال عام ہے کہ اس قوم کو صرف ڈنڈے سے چلایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ڈنڈے کے ذریعے وقتی طور پر امن تو آ جاتا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ بالآخر عقل، دلیل اور ٹھنڈے مزاج والے جیت جاتے ہیں جبکہ پارہ صفت لیڈر جل کر بجھ جاتے ہیں۔ روشن دماغ دھیمے دھیمے نور پھیلاتے ہیں۔ وہ ابراہم لنکن کی مثال دیتے ہیں جنہوں نے متشدد لیڈروں کو دلیل کی طاقت سے شکست دی۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ تلوار دلیل کو زخمی تو کر سکتی ہے مگر دلیل زخمی ہو کر بھی دوبارہ اٹھنے کی قوت رکھتی ہے، جبکہ ٹوٹی ہوئی تلوار کی کوئی وراثت نہیں ہوتی۔ دلیل کے کئی بچے ہوتے ہیں۔ خشک لکڑی فوراً بھڑکتی ہے اور فوراً جل جاتی ہے، جبکہ جڑ والی لکڑی آہستہ آہستہ اور تادیر جلتی رہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تصورات کو الٹانے اور غلط معانی پہنانے کا رواج حد سے بڑھ چکا ہے، جہاں حاکمیت، ڈنڈا، جبر، افسر شاہی، بادشاہی اور اڑیل پن کو مثبت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ سب منفی رویے ہیں جو قوموں کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے برعکس خادمیت، صبر اور لچک وہ اوصاف ہیں جن سے قومیں عروج پاتی ہیں۔ ریاست کو سخت بنانے سے عوام کی اپنے ملک سے محبت کمزور پڑتی ہے، جبکہ ریاست کا عوام کے لیے نرم رویہ اختیار کرنا ملک کو مضبوط بناتا ہے۔

 

سینئر صحافی کے مطابق سب سے غلط تصور یہ ہے کہ سچ کو دبانے سے قیاس آرائیاں ختم ہو جاتی ہیں، حالانکہ سچ کو دبانے سے جھوٹ، افواہیں اور گمراہ کن باتیں جنم لیتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کی فطرت میں کہانیاں سننا اور خبر حاصل کرنا شامل ہے، اگر سچ بند ہو جائے گا تو جھوٹ سنا جائے گا، اور پھر سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق بھی مٹ جاتا ہے۔ ہر وہ ریاست جو سچ کو روکتی ہے اپنی جڑیں کھوکھلی کرتی ہے۔ اگر سچ اور جھوٹ دونوں آزاد ہوں تو بالآخر حق غالب آتا ہے، مگر اگر حق کے ہاتھ باندھ کر اسے باطل کے سامنے ڈال دیا جائے تو جیت باطل ہی کی ہو گی۔

عمران خان نے اپوزیشن اتحاد کی پیٹھ میں چھرا کیسے گھونپا؟

سہیل وڑائچ کے مطابق تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جبر کے ذریعے ریاست تو چل سکتی ہے مگر پائیدار ترقی اور خوشحالی صرف عوام اور ریاست کے درمیان آئینی معاہدے پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ جنرل مشرف مارشل لا کے باوجود کالا باغ ڈیم نہ بنا سکے اور نہریں نہ نکال سکے، تو مفاہمت کے بغیر نئے صوبے کیسے بن سکتے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بے مثال محنت اور دورے ہوئے مگر ماحول سازگار نہ ہونے کے باعث بڑی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ صنعت اور برآمدات کے فروغ کے لیے درجنوں اجلاس ہوئے مگر اعتبار نہ ہونے کے باعث صنعت کا پہیہ نہ چل سکا۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکم کے زور پر کمزور اور خوف زدہ لوگ چل تو پڑتے ہیں، مگر جب منزل کا تعین ہی نہ ہو تو وہ آخر پہنچیں گے کہاں؟ ان کے نزدیک پاکستان کو اس وقت جبر نہیں بلکہ صبر، مفاہمت اور سچ کی آزادی کی ضرورت ہے۔

Back to top button