عمران خان اور نواز شریف کو کس معاملے پر اتفاق کرنا ہوگا

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ آج کی پاکستانی سیاست میں اصل مسئلہ ذاتی اختلافات کا ہے۔ عمران خان اپنے سیاسی مخالفوں کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کو تیار نہیں حالانکہ انکی جماعت روزانہ پارلیمان میں حکومت کے ساتھ بیٹھتی ہے۔ یہی حال نون لیگ کے قائد نواز شریف کا ہے۔

اپنی تازہ تحریر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مجھے عمران خان اور تحریک انصاف سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے۔ عمران خان کرشماتی شخصیت ہیں، کرکٹ ہیرو کے طور پر انہوں نے پوری قوم کو خوشیاں دیں۔ تحریک انصاف پاکستان کی مڈل کلاس کی خواہشوں اور آدرشوں کی ترجمان ہے۔ اوورسیز پاکستانی عمران خان کی وجہ سے پاکستانی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی یوتھ عمران خان کے سیاست میں آنے سے پہلے پاکستانی سیاست سے بالکل لاتعلق ہوتی تھی لیکن اب وہ مکمل سیاسی ہو چکی ہے۔ میں نے اپنے ان خیالات کا اظہار متعدد بار اپنی تحریروں اور ٹی وی پر ہونے والی گفتگوئوں میں کیا ہے۔ اس موقف کے باوجود میرے عمران خان اور تحریک انصاف سے اصولی اختلافات ہیں اور شاید آئندہ بھی رہیں گے۔

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ یہی حال نواز شریف کا ہے، ذاتی طور پر مجھے ان سے کوئی اختلاف نہیں لیکن آج کل ان کی تحریک انصاف کو دبانے کی پالیسی پر شدید اصولی اختلاف ہے، پچھلے ڈیڑھ سال سے میں اس اختلاف کا برملا اظہار بھی کرتا رہا ہوں، میری عاجزانہ رائے میں ذاتیات پر تنقید اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے لیکن جمہوری معاشرے میں اصولی اختلاف ضروری ہے اور اس سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے۔ میں فوج کو ریاست کا اہم ترین جزو سمجھتا ہوں اور جمہوری مفکر فرید زکریا کے بقول جس ریاست میں امن وامان نہ ہو وہاں جمہوریت قائم ہی نہیں ہو سکتی اور فوج کے بغیر ریاست میں امن قائم نہیں ہو سکتا گویا وہاں جمہوریت آ ہی نہیں سکتی۔ لیبا اور شام میں امن نہیں اسلئے وہاں جمہوریت کے قائم ہونے کی گنجائش نہیں۔ مقتدرہ نے جس طرح کراچی میں ایکشن کر کے فاشزم، دہشت گردی اور دھونس دھاندلی کے ذمہ داروں کو ٹھکانے لگایا اور پھر دہشت گردی کے خلاف لڑائی بھی فوج ہی نے لڑی، اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ امن قائم ہوئے بغیر نہ سیاست چل سکتی ہے اور نہ جمہوریت، فوج کیلئے یہ ذاتی خیال رکھنے کے باوجود مجھے فقج کے سیاست میں مداخلتی کردار پر شدید اختلاف ہے اور میں اپنے آغاز صحافت 1986ء سے ہی مسلسل اپنے اس اختلاف کا اظہار کرتا آیا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ آئینی اور جمہوری حکومتوں میں مقتدرہ کی عدم مداخلت سے ہی ہم فلاحی عوامی ریاست کا خواب پورا کر سکتے ہیں۔

شاعر احمد فرہاد کیس: ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی درخواست نمٹانے کی استدعا مسترد

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم کسی سے اصولی اختلاف کریں تو وہ اسے ذاتی اختلاف پر محمول کرتا ہے۔ اگر نواز شریف نے اپنی وزارت عظمیٰ کے زمانے میں خلیفہ بننے کا بل تیار کروا لیا تو جمہوری صحافی اسکی اصولی مخالفت نہ کرتے تو کیا کرتے؟ اگر زرداری گیلانی حکومت ڈیلیور نہ کر سکی تو صحافی اس معاملے کو ہائی لائٹ نہ کرتے تو اور کیا کرتے؟ اسی طرح عمران خان اپنے دور میں پیکا قانون لائے تو صحافی اس کے خلاف اصولی موقف اختیار نہ کرتے تو کیا کرتے؟ حسن اتفاق دیکھئے کہ اس پیکا قانون کو اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے غیر قانونی قرار دیا تھا اور اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کو یہ سخت برا لگا تھا، آج کل وہی جسٹس اطہر من اللہ انصافیوں کے ہیرو ہیں گویا انصافی یا توپہلے غلط تھے یا اب غلط ہیں؟ اسی طرح جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جنرل فیض کے ایماء پر عمران حکومت نے ریفرنس بھیجا تو پھر صحافیوں نے اصولی اختلاف کیا، بعد میں عمران خان نے خود مانا کہ یہ ریفرنس غلط تھا۔ آج کل انصافی پھر قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف پوسٹس لگا رہے ہیں اب انصافی خود فیصلہ کریں کہ وہ کہاں غلط تھے اور کہاں درست؟ اسی طرح جب سب سے بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمن کو جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر کے میڈیا کا منہ بند کرنے کی کوشش کی گئی تو صحافی اس معاملے پر سخت اصولی موقف نہ اپناتے تو اور کیا کرتے؟ انصافی آج میڈیا پر پابندیوں کے خلاف بات کرتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ میڈیا کا جس طرح مالیاتی گلا گھونٹا گیا، سینکڑوں صحافی بیروزگار ہوئے کم از کم اپنے ان اقدامات پر معذرت ہی کر لیں، اسی طرح اصولی مخالفت کرنے والے صحافیوں بالخصوص صحافی خواتین کی ٹرولنگ کرنے اور گالیاں دینے پر معافی مانگیں۔

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ اسی طرح نون بھی اصولی اختلاف کرنے والوں کو ذاتی دشمن قرار نہ دے، فوج کو بھی اصولی اختلاف کو برداشت کرنا چاہئے، شاعروں اور صحافیوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ دانشمندی نہیں بے وقوفی کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر بات کرنے کی آزادی ہی نہیں ہو گی تو پھر آئین میں دی گی اظہار رائے کی آزادی کا کیا ہوگا؟

سیاسی ڈیڈلاک کا حل سیاسی مذاکرات اور پھر سیاسی مفاہمت میں ہے، شروع میں نون اور انصافی دونوں اس آئیڈیا پر ناک بھوں چڑھاتے تھے دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہ تھے آج بھی وہی صورتحال ہے مگر حل اب بھی وہی ہے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ ہے تو بتایا جائے؟ فقج کو بھی یہ بات پسند نہیں مگر کیا صرف دبانے سے مسئلے کا حل نکل آئے گا؟ ہرگز نہیں۔ مفاہمت میں ہر فریق کو لچک دکھانا پڑتی ہے ذاتی اختلاف کو ایک طرف رکھ کر اصولی معاملات پر اتفاق کرنا پڑتا ہے اور اسی میں عمران خان اور نواز شریف کا مفاد ہے۔ اس صورت حال میں خواہش یہی ہے کہ ہم اصولی اختلافات کوطے کریں اور ذاتی اختلاف رکھنے والی حس کو خدا حافظ کہہ دیں، اسی میں ملک کا بھلا ہے ….!

Back to top button