سہیل وڑائچ نے قومی حکومت تشکیل دینے کی پیش گوئی کر دی

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اس وقت ایک گرینڈ پلان کے تحت قومی حکومت تشکیل دینے کی افواہیں گردش میں ہیں جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتیں بشمول تحریک انصاف، شامل ہوں گی۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اصل فیصلہ ساز اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت سے مطمئن نہیں ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نئی حکومت، نظام یا فرد کے بارے میں یہ جاننا کہ وہ مستقبل میں کیا کرنیوالا ہے ایک قدرتی سوال ہے، لیکن موجودہ حکومت اور نظام نے کبھی اپنے مستقبل کے ارادوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، چنانچہ یہ ایک فرضی خاکہ ہے جو سراسر قیاس پر مبنی ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کی ڈائریوں سے، جو اب شائع ہو چکی ہیں، صاف پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے پہلے سے مستقبل میں کئے جانیوالے اقدامات طے کر رکھے تھے۔ جو بھی حکومت آتی ہے وہ بتائے نہ بتائے اسکے پیش نظر ایک پلان ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، بینظیر بھٹو، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف سب کے ملک کو بہتر کرنے کیلئے اپنے اپنے پلان تھے کوئی ان پر عمل کر سکا یا نہیں مگر ہر ایک کے ملکی نظام اور حکومت کے بارے میں خواب ضرور تھے۔
جنرل باجوہ آئے تو پتہ چلا کہ باجوہ ڈاکٹرائن کی سوچ کیا تھی اور وہ کس حد تک نافذ العمل ہو سکی۔ موجودہ نظام اور حکومت کے گرینڈ پلان کا کسی کو علم نہیں کیونکہ نہ کبھی اس بارے میں کوئی اعلان ہوا اور نہ ہی نظام اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اعلان کرنا ضروری ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ حکومت اور نظام کے گرینڈ پلان کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ اسے ’خاموشی ہے زباں میری‘ پر یقین ہے۔ یہ اقوال پر کم اور اعمال پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ اسی لیے موجودہ نظام کے گرینڈ پلان پر افواہوں کا بازار گرم ہے۔ کہیں نئی شیروانیاں سلوانے کی چہ میگوئیاں ہیں تو کہیں مارچ اپریل کی سرگوشی ہے، میرے خیال میں یہ سب جھوٹ ہے کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف کامیاب وزیراعظم ہیں، فوج اور وزیراعظم کا ورکنگ ریلیشن انتہائی شاندار ہے۔ عمران سے جاری کشمکش کے دوران فوج کے پاس شہباز شریف سے بہت بہتر کوئی چوائس نہیں، اس لئے فعتی تبدیلی کی کوئی بھی منطقی دلیل موجود نہیں۔
تاہم سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ حکومت پر ناقدین کے اس اعتراض میں وزن ہے کہ یہ کوئی سیاسی بیانیہ بنانے اور اسے عوامی مقبولیت دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے حامی بھی اسکی ڈیلیوری سے مطمئن نہیں۔ اسی عدم اطمینان کی وجہ سے ہی گرینڈ پلان کی کہانی جنم لیتی ہے جسکا کوئی مادی ثبوت نہیں، مگر اندازہ کہتا ہے کہ گرینڈ پلان میں ایک ’ونڈر بوائے‘ کی ضرورت کو محسوس کیا جاتا ہے۔ شہباز شریف سونا ہیں مگر اب ہیرے کی ضرورت آن پڑی ہے کیونکہ برسوں کے تساہل کو ہیرے جیسا ونڈر بوائے ہی ختم کرسکتا ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ خواہشیں چاہے پوری ہوں یا نہ ہوں لیکن ان پر کوئی پابندی نہیں، اسلئے یہ خواہش تو کہیں نہ کہیں موجود ہے کہ وفاقی کابینہ کے ارکان بنگلہ دیش کی عبوری کابینہ کی طرح پی ایچ ڈی کی ڈگریاں رکھتے ہوں اور اپنے اپنے شعبوں پر اتھارٹی ہوں۔ میری عقل اور منطق ان قیاس آرائیوں سے مطمئن نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس گرینڈ پلان کے مفروضے میں سب سے بڑی رکاوٹ تو یہ ہے کہ نظام کی کشتی اگر سیاسی بوجھ اتار کر سبک رفتاری سے چلنا چاہتی ہے تو اصل سوال یہ ہے کہ سیاسی سامان کس اسٹیشن پر اتارے۔ ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ سامان کشتی سے اتارتے ہوئے کسی مخالف کشتی میں تو نہیں ڈال دیا جائیگا؟ قیافہ شناس دلیلوں کے جواب میں کہتے ہیں کہ سیاسی سامان ہاتھ پائوں کٹا ہے، اس میں کوئی طاقت ہے نہ رسوخ، اسکی بہتری ایک ہی قبلے اور ایک ہی امام کے پیچھے ہے، وہ چپ چاپ سر جھکائے ساتھ ہی رہے گا۔
قیاس آرا کا خیال ہے کہ گرینڈ پلان کو تقویت قومی حکومت کے آئیڈیا سے ملے گی، ایسی قومی حکومت جس میں سب سیاسی جماعتیں ہوں گی۔ اس میں موجودہ سیاسی اتحادی تو ہونگے ہی لیکن عمران خان کی جماعت کا ایک موثر جتھہ بھی اس حکومت کا حصہ ہوگا۔ افواہ ساز سے پوچھا گی کہ ملک میں ایک پارلیمان موجود ہے، کابینہ ہے، حکومت ہے لہازا ان سب کی موجودگی میں گرینڈ پلان پر عمل کیسے ہوگا؟ افواہ ساز کے پاس کوئی معقول دلیل تو نہیں تھی لیکن اسکا گھڑا گھڑایا جواب یہ تھا کہ یہی پارلیمان چلتی رہے گی، تبدیلیاں کسی بھی الیکشن کے بغیر ہونگی اور پیدل چلتا ہوا یہ نظام گرینڈ پلان کے بعد دوڑنے لگے گا۔
لیکن سہیل وڑائچ کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر تین جماعتوں کی وراثتی سیاست اور اجارہ داری موجود ہے جبکہ نظام کی عمران خان بارے ابھی تک کی سوچ ایک غدار یا غیر محب وطن کی ہے جو افواج پاکستان کو ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کمزور کر کے غیر ملکی ایجنڈے کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے۔ باقی سیاسی جماعتیں بھی ریاست کی نظر میں دودھ کی دھلی نہیں۔ فوج ایک صوبے میں کرپشن پر ذہنی اضطراب کا شکار ہے تو دوسری طرف دوسرے صوبے میں ہونے والی محنت کے ثمرات زمینی سطح پر نہ پہنچے پر شاکی ہے، تیسرا صوبہ انصافی ہے جو کہ ویسے ہی نظام کی آنکھ میں کھٹک رہا ہے۔ اب ریاست اور موجودہ سیاست کا تعلق اگر اتنا ہی غیر ہموار ہے تو لوگ گرینڈ پلان کی افواہیں تو اُڑائیں گے۔ یہ افواہیں جتنی بھی جھوٹی ہوں یہ تو طے ہے کہ ریاست حکومت سے مطمئن نہیں ہے۔
گرینڈ پلان کی کوئی حقیقت ہے یا نہیں مگر کئی لوگ اس میں شمولیت کیلئے ابھی سے تیار ہیں کئی تو ماضی کی روایت کے مطابق مفاد پرست ہیں جو ماضی کی طرح ہر نئے گھوڑے پر سواری کیلئے تیار رہتے ہیں جبکہ کئی درد دل رکھنے اور ملک کو سنوارنے والے بھی اس گرینڈ پلان کی ٹرین پر سواری کے انتظار میں ہیں۔
سینیر صحافی کا کہنا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں بہت سے انتخابی گھوڑے جنکے وراثتی حلقے موجود ہیں وہ بھی توقع کر رہے ہیں کہ کچھ نیاہوگا تو وہ اگلا بڑا سیاسی فیصلہ کرینگے۔ ان میں خاموش بیٹھنے والے، الیکشن ہارنیوالے اور کئی ایک نونیئے اور پپلیے بھی شامل ہیں ان سب کا خیال ہے کہ گرینڈ پلان تادیر چلنے والا ہے اسلئے اس نئے سیاسی ٹرک پر سواری میں بحفاظت لمبا سفر انکی سیاسی عمر اور قدر و منزلت بڑھائیگا۔ مجھے ان افواہوں اور کہانیوں پر شک ہے مگر جب سیاسی مستقبل کے بارے میں ایک پراسرار اور مکمل خاموشی ہوگی تو ایک صدی سے زائد سیاست میں زندہ رہنے والی قوم، سیاسی گپ شپ اور سیاسی اَسپ دوڑائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔
