سہیل وڑائچ کا تحریک انصاف کے بھگوڑے یوٹیوبرز کو رگڑا

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ سے وابستہ بیرون ملک فرار ہو جانے والے بھگوڑے نہ صرف ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں بلکہ مصلحت پسندوں کی جانب سے قومی مفاہمت کی ہر کوشش کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ لوگ چاہتے ہیں کہ عمران خان جیل میں ہی رہیں تاکہ ان کی سوشل میڈیا کے ذریعے فوج مخالف ہرپیگنڈے سے ہونے والی کمائی بڑھتی رہے، ان لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر عمران خان رہا ہو گئے تو ان کی سیاسی اور مالی حیثیت ختم ہو جائے گی۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں سہیل وڑائچ نے موجودہ سیاسی صورتحال کو صوفی شاعر بابا بلّھے شاہ کی شاعری کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا پاکستان ایک ایسے الٹے زمانے سے گزر رہا ہے جہاں اقدار، اصول، سچ اور جھوٹ سب اپنی جگہیں بدل چکے ہیں۔ انہوں نے بلّھے شاہ کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے بلّھے شاہ کے دور میں کمزور طاقتور بن گئے تھے اور طاقتور کمزور، ویسے ہی آج بھی یہی منظرنامہ دکھائی دیتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اس الٹے زمانے کا سب سے واضح مظہر وہ افراد ہیں جو عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک چھوڑ کر بیرون ملک فرار ہو گئے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سارے انصافی بھگوڑے بیرون ملک بیٹھ کر فوج مخالف نت نئی وڈیوز اپ۔لوڈ کر کے خود کو مزاحمتی اور بہادر ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

معروف اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں ملک سے فرار ہونا اور اپنے لیڈر عمران خان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے چھوڑ دینا بہادری نہیں بلکہ بزدلی اور بے وفائی کی بدترین شکل ہے۔ اس کے باوجود یہ بہادر بھگوڑے اپنی بیرون ملک زندگی گزاری جانے والی شاہانہ زندگی کو مشکلات سے بھرپور زندگی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یعنی یہ بھگوڑے خود کو نسیم حجازی کے ناول کے ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں تاکہ یوٹیوب کے ذریعے مال بنا سکیں۔ سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ بلّھے شاہ کے دور میں بھی سچ بولنے والوں کو دھکے ملتے تھے اور جھوٹ بولنے والے شاہی درباروں میں جگہ پاتے تھے، اور آج کے دور میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ ان کے مطابق آج کے یہ بھگوڑے ماضی میں فوج کے فیض دھڑے کے حامی اور سہولت کار تھے۔ اس دور میں یہ لوگ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سفارش پر پرائیویٹ اور سرکاری اداروں میں بھاری تنخواہوں پر نوکریاں لیتے رہے، لیکن آج یہی لوگ فوج مخالف بیانیہ بنانے میں سب سے آگے ہیں۔ ماضی کی سیاسی قیادت کو جھوٹے پروپگنڈے کے ذریعے ملعون و مطعون کرنے والے یہی لوگ اب خود اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ جھوٹے کاغذات اور جعلی کہانیوں کے ذریعے جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرتے رہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ جو لوگ کل تک جمہوریت پر حملے کرتے تھے، آج خود کو جمہوریت کا سب سے بڑا چیمپئن ظاہر کر رہے ہیں۔ میڈیا کے حوالے سے بھی ۔ سہیل وڑائچ نے دوہرے معیار کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہی لوگ ماضی میں آزاد صحافیوں کو لفافی کہہ کر ان کا تمسخر اڑاتے رہے، حامد میر پر قاتلانہ حملے کو پلاسٹک کی گولیاں قرار دے کر مذاق بنایا گیا، میر شکیل الرحمن کے جیل جانے پر یہ مؤقف اپنایا گیا کہ صحافیوں کا اصل مقام جیل ہے، اور احمد نورانی پر تشدد کو ذاتی معاملہ قرار دیا گیا۔ یہی لوگ کہا کرتے تھے کہ میڈیا کی آزادی ریاستی مفادات سے بڑی نہیں ہو سکتی اور آزادی بے لگام نہیں ہوتی۔

سہیل وڑائچ کے مطابق اب یہی لوگ میڈیا پر پابندیوں پر آہ و زاری کرتے اور خود کو آزادی اظہار کا علمبردار بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ہر دور میں درست مانا جائے، چاہے وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہوں یا اس کے خلاف۔ ان کے نزدیک اصول موم کی ناک ہیں جو ضرورت کے مطابق کسی بھی طرف موڑے جا سکتے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کے حوالے سے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب یہی بھگوڑے انہیں ہیرو اور نجات دہندہ قرار دیتے تھے، اور جب حالات بدلے تو وہی شخصیات انہیں غدار اور ولن نظر آنے لگیں۔ سینیئر صحافی کہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار تھے، مگر اب خود کو اسٹیبلشمنٹ مخالف سراج الدولہ اور دوسروں کو میر جعفر قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک معروف یوٹیوبر کے حوالے سے انکشاف کیا کہ کس طرح اس بھگوڑے نے اپنے ہی لیڈر کے راز افشا کیے، پھر ایک سیاستدان اور ایک طاقتور شخصیت سے سازباز کے ذریعے ملک چھوڑا، اور اب بیرون ملک بیٹھ کر سادہ لوح کارکنوں کو اپنی بہادری کی کہانیاں سنا کر مالی فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھگوڑا اب لندن میں بیٹھا سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق یہ تمام لوگ موقع پرست اور گرگٹ صفت ہیں جو رنگ اور اصول بدلنے میں لمحہ نہیں لگاتے۔ انکا کہنا ہے کہ بیرون ملک بیٹھ کر انقلاب، بغاوت، عالمی طاقتوں سے امیدیں اور حتیٰ کہ جنگی فوائد پر بات کرنے والے افراد کی دو عملی اب کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ ان کے مطابق اصل بہادر وہ لوگ ہیں جو ملک میں رہ کر حالات کا سامنا کر رہے ہیں، چاہے وہ بولیں یا خاموش رہیں، کیونکہ وہ اہلِ وطن کے دکھ سکھ کے حقیقی شریک ہیں۔ اس کے برعکس بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان میں رہنے والوں کو طعنے دینے اور انہیں غدار اور ٹاؤٹ قرار دینے والوں کو اخلاقی طور پر ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلّھے شاہ کے دور میں بھی سچائی فرش نشین تھی اور آج بھی فرش نشین ہے، مگر سچ تب بھی مطمئن تھا اور آج بھی مطمئن ہے، دوسری جانب بہروپیے ہر دور میں خود کو ہیرو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہیں گے لیکن کبھی ہیرو بن نہیں پائیں گے۔

Back to top button