سہیل وڑائچ کی مریم حکومت کے جعلی پولیس مقابلوں پر کڑی تنقید

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے مریم نواز کی پنجاب حکومت کے زیرِ سایہ بڑھتے ہوئے جعلی پولیس مقابلوں اور حراست کے دوران نیفوں میں پستول چلنے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انصاف کے نام پر ناانصافی ہی کرنی ہے تو بہتر ہوگا کہ عدالتیں بند کر دی جائیں، کیونکہ اندھا انصاف تو ان کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جب کوئی ظلم انسانی برداشت سے باہر ہو جائے تو براہِ راست خدا کی عدالت میں فریاد کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر صاحبِ ایمان کا یہ یقین ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی عدالت بارگاہِ خداوندی ہے اور سب سے بڑا منصف اعلیٰ اللہ تعالیٰ خود ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’اے میرے پیارے رب! آج میں کسی مجرم، چور، ڈاکو یا زنا بالجبر کے ملزم کی وکالت کے لیے نہیں آیا۔ بلّھے شاہ اور منو بھائی کی روایت میں ایک انسان کی حیثیت سے میں خوف زدہ ہوں، خاموش ہوں اور میرا دماغ سوالوں سے بھرا ہوا ہے۔‘‘
وہ کہتے ہیں کہ ہماری زمین پر واقعی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں چور، ڈاکو، بدمعاش، بے رحم قاتل، ظالم لٹیرے اور ازلی قانون شکن کہا جاتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ الزامات سو فیصد درست ہوں، لیکن سوال یہ ہے کہ جب ان افراد کو بغیر سنے، بغیر گواہیوں کے، بغیر کسی ٹرائل اور بغیر عدالتی فیصلے کے جرم کو جڑ سے مٹانے کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہو تو ایک حساس انسان کیسے خاموش رہ سکتا ہے اور کیوں نہ وہ بھی بلّھے شاہ اور منو بھائی کی طرح اپنے رب کو پکارے؟ سہیل وڑائچ مرحوم منو بھائی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کے اصولوں اور انسانی تاریخ کی کتابوں سے یہی سیکھا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی عدالت بارگاہِ خداوندی کی ہے، جہاں گواہیاں ہوں گی، ٹرائل ہوگا اور اس کے بعد سزا یا جزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم آج کے حکمران خدائی دعویدار بن کر انسانوں کی زندگی اور موت کے فیصلے کر رہے ہیں اور وہ بھی بغیر کسی ٹرائل اور گواہی کے۔
سینئر صحافی کے مطابق اگر اس صورتحال کو اندھیر نگری نہ کہا جائے تو پھر اور کیا کہا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے کو جرم سے پاک کرنا بلاشبہ ایک اچھا مقصد ہے، لیکن اگر یہ کام غیر قانونی اور غیر انسانی طریقے سے کیا جائے تو وہ خود اس سے بھی بڑا جرم بن جاتا ہے۔ ان کے بقول مجرموں کو اس طرح ٹھکانے لگانے والا، منو بھائی کی نظر میں، تاریخ کا بڑا مجرم ٹھہرتا ہے۔ سہیل وڑائچ حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب 1215 میں میگنا کارٹا پر دستخط ہوئے تھے تو تب ہی یہ اصول طے پا گیا تھا کہ کسی بھی شخص کو بغیر ٹرائل قتل نہیں کیا جا سکتا اور ہر ریاست قانون کے مطابق چلنے کی پابند ہوگی۔ اس کے باوجود پنجاب میں اب تک ڈاکوؤں، قاتلوں، لٹیروں اور قانون شکنوں کے نام پر 480 افراد جعلی پولیس مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں، جبکہ دیگر اندازوں کے مطابق یہ تعداد ایک ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان کا تفتیشی اور عدالتی نظام کمزور ہے اور جرائم کے خاتمے کے لیے ’فل فرائی‘ اور ’ہاف فرائی‘ جیسے تصورات عوام میں خاصے مقبول ہیں، مگر ان کے مطابق اصل مسئلے کا حل یہ نہیں۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ تفتیشی اور عدالتی نظام کو مضبوط اور مؤثر بنایا جائے، پنجاب میں ’ٹانگے کے پیچھے گھوڑا‘ لگانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں قانون کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اس طرزِ عمل سے پولیس اور حکومت کی قانونی حیثیت برقرار رہ سکے گی؟ اگر عدالتوں اور تفتیش پر بھروسہ نہیں تو سمری ٹرائل کی روایت موجود ہے، جیلوں کے اندر بھی ٹرائل ہوتے رہے ہیں۔ اگر ریاست کو مجرموں سے اس قدر خوف تھا تو کولمبیا کی طرح ججوں کو نقاب بھی پہنائے جا سکتے تھے، مگر سہیل وڑائچ کے مطابق آسان اور پاپولر راستہ اختیار کرتے ہوئے قانون، انسانیت اور انصاف کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔
سینئیر صحافی خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان ہزاروں جہنمیوں میں سے ایک بھی جنتی ہوا تو اس کے قتل کا فیصلہ کرنے والے خدائی فوجداروں کو اپنی خیر منانی پڑے گی۔ سہیل وڑائچ واضح کرتے ہیں کہ وہ ڈاکوؤں کے لیے رحم کی اپیل نہیں کر رہے بلکہ انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آج کوئی بے گناہ بغیر ٹرائل کے مارا گیا تو کل کسی خدائی فوجدار کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اگر عدالت، قانون اور انصاف مجرم کی بات نہیں سن سکتے تو پھر وہ کل بے گناہ کی کیسے سنیں گے؟ وہ لکھتے ہیں کہ عدالتیں بند کر دیں، قانون کی کتابوں پر سیاہی پھیر دیں اور تفتیشی اداروں پر تالے لگا دیں، کیونکہ اندھا انصاف تو ان سب کے بغیر بھی ممکن ہے۔
سہیل وڑائچ پنجاب پولیس کے دو اہم اداروں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ریاست کے دشمنوں، دہشت گردوں اور فرقہ پرست قاتلوں کی نشاندہی کرتا ہے، جن کے لیے خصوصی قوانین موجود ہیں، اس لیے اس پر آج بحث کی ضرورت نہیں۔ تاہم پنجاب میں کرائمز کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سویلین جرائم کی بیخ کنی کے لیے قائم کیا گیا ہے جو کہ سویلین قانون، تعزیراتِ پاکستان، کے تحت کام کرنے کا پابند ہے۔ اس کے پاس ماورائے قانون کوئی اختیار نہیں، شاید اسی لیے نیفے میں پستول چل جانے یا مجرموں کو چھڑانے کی کوشش میں پولیس مقابلے جیسی جعلی کہانیاں گھڑی جاتی ہیں، حالانکہ اصل مقصد ملزمان کو فل فرائی اور ہاف فرائی ہی ہوتا ہے۔
مریم نواز کے بیٹے کی شادی کی تقریبات کڑی تنقید کی زد میں کیوں؟
سہیل وڑائچ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر زمین پر فیصلہ کرنے کا حق قانون کو ہے، بندوق کو نہیں، تو پھر یہ ظالمانہ طریقہ کیوں اپنایا جا رہا ہے؟ انکے مطابق وہ نہیں جانتے کہ تاریک راہوں میں مارے جانے والے افراد بے گناہ تھے یا گناہ گار، لیکن وہ یہ ضرور جانتے ہیں کہ ان کے پاس صفائی کا کوئی موقع نہیں تھا اور ان کے مقدر میں سوال کرنا بھی نہیں تھا۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا خدا کے سوا کوئی انسان دوسرے انسانوں سے یہ حق چھین سکتا ہے؟ کیا ہمارے پیارے ملک میں انصاف اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ اسے گولی کے سہارے کی ضرورت پڑ گئی ہے؟ کیا عدالتیں اس قدر بے بس ہو گئی ہیں کہ موت کو شارٹ کٹ بنا لیا گیا ہے؟ کیا انسانیت، قانون اور انصاف نے صدیوں سے تسلیم شدہ فیئر ٹرائل اور پاکستانی آئین کے آرٹیکل 10 اے کو یکسر بھلا دیا ہے؟ سہیل وڑائچ خدا کے حضور التجا کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ کیا خدائی فوجداروں کو وہی اختیار حاصل ہے جو صرف خدا کا ہے؟ جان لینے کا اختیار تو صرف اور صرف خدا کا ہے، اور اگر جان لینے کا حق صرف خدا کا ہے تو پھر اس گناہ پر خاموش رہنے والے بھی شریکِ جرم ہیں۔ ان کے مطابق انصاف کے نام پر نا انصافی کو تسلیم کرنا سب سے بڑا جرم ہے۔ آخر میں وہ درد بھرے لہجے میں خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اے اللہ میاں، تھلّے آؤ اور دیکھ، تیری زمین پر یہ کیا ہو رہا ہے…‘‘
