سہیل وڑائچ کی بہادر بھگوڑوں اور بدنیت پھوڑوں پر تنقید

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اعتراف کر لیا ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے بیرونی ممالک کے دوروں سے پاکستان بین الاقوامی سطح پر ایک اہم ترین ملک بن گیا ہے۔ ان کے مطابق بہادر بھگوڑے اور بدنیت پھوڑے مانیں نہ مانیں، یہ حقیقت ہے کہ وہی پاکستان جسے امریکہ نے مکمل طور پر نظرانداز کر رکھا تھا، جنگ میں فتح کے بعد جنوبی ایشیا اور اسلامی ممالک کا سب سے اہم ملک بن کر ابھرا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے غیر ملکی دوروں پر عمران خان کے حامی حلقوں نے شدید تنقید کی، تاہم یہ اعتراضات نہ صرف حقائق کے منافی تھے بلکہ ان میں بیان کردہ کہانیاں بھی جھوٹی تھیں۔ ان کے مطابق ریاستِ پاکستان میں بیرونی دورے اور خارجہ پالیسی گہرے غور و فکر کے بعد ترتیب پاتی ہے، جس میں فوج، حکومت، وزارتِ خارجہ، انٹیلی جنس ادارے، مشاورتی تھنک ٹینکس اور بعض اوقات بیرونی دوستوں کی آرا بھی شامل ہوتی ہیں۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر ملک میں بیرونی دوروں کی نیت اور اخلاص پر سوال نہیں اٹھنا چاہیے۔

ان کے بقول پاکستان کا ہر وزیر اعظم، وزیرِ خارجہ یا چیف آف سٹاف جب بیرونی دورے پر جاتا ہے تو اس کے پیشِ نظر صرف اور صرف قومی مفاد ہوتا ہے۔ اگر نتائج حسبِ توقع نہ بھی آئیں تو تنقید کی گنجائش موجود رہتی ہے، تاہم یہ طے ہے کہ جرنیل ہوں یا سیاستدان، ان کے دوروں کا مقصد ملک کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سر ظفر اللہ خان سے لے کر اسحاق ڈار تک سب نے بلا تخصیص پاکستان کو مضبوط بنانے کی کوشش کی، حتیٰ کہ اسکندر مرزا اور یحییٰ خان جیسے متنازع سمجھے جانے والے حکمرانوں کے بارے میں بھی ان کی رائے ہے کہ وہ نیتاً پاکستان کی بہتری چاہتے تھے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق اسکندر مرزا نے ایران کے ساتھ مضبوط تعلقات کی بنیاد رکھی جبکہ یحییٰ خان نے چین اور امریکہ کے تعلقات میں پُل کا کردار ادا کر کے پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ میں فتح کے بعد پاکستان سفارتی سطح پر بلند مقام پر پہنچ چکا ہے اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے بیرونی دوروں کے نتیجے میں پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم ملک بن کر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جنگ کے بعد وہی پاکستان، جسے امریکہ نے نظرانداز کیا تھا، اب جنوبی ایشیا اور اسلامی دنیا میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کے حوالے سے سہیل وڑائچ نے لکھا کہ ان کے اقتدار میں آنے پر خدشہ تھا کہ وہ پاکستان کے بارے میں معاندانہ رویہ اختیار نہ کریں، خصوصاً ماضی میں ایک ٹوئٹ کے ذریعے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جا چکے تھے اور بھارتی وزیراعظم نے امریکہ میں مقیم بھارتیوں کے بڑے کنونشن میں صدر ٹرمپ کو بلا کر پاکستان کے خلاف محاذ بنانے کی کوشش کی تھی۔ تاہم ان کے بقول فیلڈ مارشل کی ٹیم نے صورتحال کو پلٹ دیا اور صدر ٹرمپ اپنی متلون مزاجی کے باوجود جس طرح پاکستان کی مسلسل تعریف کر رہے ہیں، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ان کے مطابق پاکستان کی تعریف دراصل بھارت اور مودی کی پالیسیوں کی بالواسطہ مذمت بھی ہے۔

سہیل وڑائچ نے مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے مسلم ممالک ہمارے اتحادی اور اسرائیل ہمارا مخالف رہا ہے، یہ اصول قائداعظم محمد علی جناح نے وضع کیا تھا جس پر آج تک عمل کیا جا رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ان تعلقات سے پاکستان کو معاشی اور دفاعی فوائد حاصل ہوئے۔ عمران خان کے ابتدائی دور میں بھی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ گرمجوشی رہی، تاہم آخری مرحلے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کے ساتھ سردمہری اور لاتعلقی پیدا ہو گئی۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ان ممالک کے متعدد دورے کر کے اس سردمہری کو ختم کیا۔ کویت کے ساتھ مستقل ناراضی کو دوستی میں بدلا گیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ خارجہ پالیسی میں ہم آہنگی پیدا کی گئی اور قطر کے ساتھ معاملات کو درست سمت دی گئی۔

سہیل وڑائچ نے لیبیا کے دورے کے حوالے سے پھیلائی گئی افواہوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر دورے میں، خواہ وہ کتنا ہی متنازع کیوں نہ ہو، پاکستان کا فائدہ مضمر ہوتا ہے۔ ان کے بقول لیبیا کے دورے کے دوران فوجی افسران کی تقرریوں و تعیناتیوں سے متعلق قیاس آرائیوں سے ملک کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا، اس لیے ایسے موضوعات سے گریز بہتر ہے۔ پاک بھارت حالیہ جنگ سے قبل کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے لکھا کہ بھارت اور بالخصوص وزیراعظم مودی کی پالیسی پاکستان کو نظرانداز کرنے اور دہشت گرد و غیر ذمہ دار ملک قرار دینے پر مبنی تھی، جس میں وہ عالمی سطح پر خاصی حد تک کامیاب بھی ہو گئے تھے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق جنگ میں پاکستان کی جانب سے گولی کے جواب میں توپ اور ایک کے مقابلے میں دس کا جواب دینے کا فیصلہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی حکمتِ عملی کا نتیجہ تھا، جس کے باعث پہلی مرتبہ بھارت خوفزدہ ہوا اور مودی کو سیز فائر قبول کرنا پڑا۔ انہوں نے اس فتح کو غیر معمولی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صلاح الدین ایوبی کی فتوحات کے بعد سقوطِ بغداد، سقوطِ غرناطہ اور سقوطِ ڈھاکہ نے مسلم بہادری کے قصے ماند کر دیے تھے، تاہم پاک بھارت جنگ میں بہادری اور فتح نے ایک بار پھر دنیا میں مسلم پرچم بلند کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی انسان غلطیوں سے مبرا نہیں اور نیت پر شک کرنا اصولاً غلط ہے۔

انکے مطابق اگرچہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے بعض سیاسی فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کے بین الاقوامی محاذ پر سرانجام دیے جانے والے کارناموں کو سراہنے سے انکار بدنیتی کے مترادف ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق صحافیوں کا کام حکومتوں اور سیاست پر نظر رکھنا ہے اور اسی لیے وہ تنقید بھی کرتے ہیں، لیکن جہاں خیر ہو وہاں شر پھیلانا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے دوروں کے معاشی اثرات ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئے، تاہم پاکستان کو ان سے لازماً معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔

Back to top button