سہیل وڑائچ کی ‘مدر آف آل بیٹلز’ میں دیوتاؤں کے ٹکرائو کی پیشگوئی

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دو متضاد نظریات کے مابین "مدر آف آل بیٹلز” Mother of All Battles شروع ہو چکی ہے جسکے نتیجے میں اگلے چند ماہ ملک بھر میں جھوٹے پروپیگنڈے کا سیلاب برپا رہے گا۔ انکے مطابق بھارت سے جنگ جیتنے اور امریکا کا اعتماد جیتنے کے بعد سے پاکستان میں دو نظریوں کا تصادم تیز تر ہو گیا ہے اور اب Clash of Titans یعنی دیوتائوں کا ٹکرائو ہونے جا رہا ہے، ایسے میں جو زلزلہ آئے گا اس کے لیے سب پہلے سے تیار ہو جائیں۔
روزنامہ جنگ میں سہیل وڑائچ اپنے سیاسی تجزیے میں لکھتے ہیں کہ ویسے تو پاکستان میں نظریات کی جنگ شروع سے چل رہی ہے لیکن تاریخ خود کو دوبارہ دہرانے جا رہی ہے اور ایک بڑا تصادم ہونے والا ہے۔ پہلے نظریے کے مطابق سویلین ادارے، سیاستدان اور بیورو کریسی پاکستان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ لیکن اسکا متضاد نظریہ کہتا ہے کہ سب مل جل کر ملک چلائیں گے تب ہی پاکستان آگے بڑھے گا۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ نظریاتی لڑائی ہمیشہ سے بڑھتے ہوئے ایک شخصی لڑائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ آج بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان کی اندرونی لڑائی میں، جو آج کے دور کی مدر آف آل بیٹلز کہلائے گی، ایک طرف یہ نظریہ طاقت پکڑ رہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف ریاست کیلئے بوجھ ہیں، اس نظریے کے حامی حلقوں نے آصف زرداری اور شہباز شریف حکومت کی غلطیوں، کوتاہیوں اور ناکامیوں کی ایک باقاعدہ چارج شیٹ بنا رکھی ہے۔ اس نظریے کے حامیوں کی زبان پر کبھی نہ کبھی یہ بات بھی آ ہی جاتی ہے کہ جب تک ریاست سے یہ سیاسی بوجھ اتارا نہیں جاتا، تب تک ریاست خوشحالی اور ترقی کی طرف سفر نہیں کر سکتی۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں باوجود اسکے کہ کئی طاقتور غیر سیاسی لوگ سویلین حکومت کے خلاف ہیں لیکن ان کو فیصلہ کن پوزیشن حاصل نہیں، اس ملک کے اصل فیصلہ ساز موجودہ سویلین صدر اور سویلین کابینہ سے بہت زیادہ خوش نہیں، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ سویلین سیٹ اپ کو چلانا اور انہیں ساتھ لے کر اجتماعی فیصلے کرنا ہی ریاست کیلئے بہترین راستہ ہے، لہذا صدر کو سائیڈ لائن کرنے اور سویلین حکومت میں کیڑے نکالنے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ اب وقتی طور پر تھم گیا ہے، یعنی اس نظریے کی جیت ہوئی ہے جو موجودہ نظام کو اسی طرح چلانے کا حامی ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ تاریخ کے جھروکے سے آج کے پاکستان کو دیکھیں تو مارشل لائوں کے چار ناکام اور تلخ تجربات کے باوجود کچھ دلوں میں اب بھی خواہش ہے کہ سیاسی نظام کی پیچیدگیوں میں الجھنے کی بجائے پاکستان میں ایسا نظام لایا جائے جس میں طاقت اور اقتدار کا راستہ سیدھا اور آسان ہو اور ریاستی اتھارٹی مختلف عہدوں میں تقسیم ہونے کی بجائے ایک ہی مرکز پر مجتمع ہو جائے تاکہ فیصلہ سازی میں آسانی ہو اور ملک تیزی سے ترقی کرے۔ ماضی میں دو نظریوں کی باہمی جنگ میں ہمیشہ سویلین ہارے ہیں۔ میجر جنرل سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کا بڑا قریبی ذاتی تعلق تھا۔ دونوں سالہا سال تک اقتدار کی راہداریوں میں اکٹھے چلتے رہے، لیکن 1958 میں سکندر مرزا نے 1956کے آئین کو منسوخ کیا اور اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کو تلپٹ کر کے مارشل لا نافذ کر دیا۔ ری پبلکن پارٹی کے وزیر اعظم سر فیروز خان نئے پارلیمانی انتخابات کی تیاری میں تھے کہ ایوب خان اور سکندر مرزا کے اتحاد نے اپنے ہی اتحادی سیاستدانوں کو گھر بھیج دیا۔ اسکے بعد اکیلا سویلین عہدیدار سکندر مرزا دو ہفتے بھی فوج کے ساتھ نہ چل سکا اور بالآخر معزول ہو کر ہمیشہ کیلئے جلا وطن ہو گیا۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ اصل میں نظام چلانے والے کو یہ وہم ہو جاتا ہے کہ سب کچھ تو وہ چلا رہا ہے، اس کے ہمراہی سیاست دان تو بوجھ ہیں، لہذا ان سے جان چھڑوا کر نظام اور بھی بہتر ہو جائے گا۔ لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے۔ آپ تاش کی ترتیب کو چھیڑ دیں تو دوبارہ سے پتے لگانے میں بہت دیر لگ جاتی ہے، فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اپنے ہی لائے ہوئے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو بوجھ سمجھ کر اقتدار کی کشتی سے اتار دیا۔ اس کا خیال تھا کہ جونیجو کمزور اور بے نوا ہے لہذا اسے گھر بھیجنے سے چائے کی پیائی تک میں بھی طوفان نہیں آئے گا۔ لیکن حقیقتاً ہوا اسکے برعکس۔ جونیجو تو چپ ہو کر سندھڑی چلا گیا مگر جنرل ضیاء الحق سے نظام سنبھالا نہ جا سکا اور پھر تقدیر نے دیکھا کہ جنرل ضیاء الحق کا سجا سجایا نظام ایک طیارہ حادثے کی نظر ہو گیا۔
موجودہ سیٹ اپ کے اندر موجود ایک نظریاتی گروہ کو بھی شدت سے یہ احساس ہے کہ موجودہ نظام لوہے جیسا مضبوط ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب سسٹم سے ایک پرزے کو نکال دیا جائے تو طاقت ور ترین نظام بھی شیشے کا گھر بن جاتا ہے جو ایک پتھر سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ فی الحال اسی گروہ کی سوچ پر موجودہ نظام چل رہا ہے، لیکن دوسرا گروپ چاہتا ہے کہ سیاسی بوجھ اتار کر ایک نیا اور شفاف سیاسی نظام لانا چاہئے۔ یہ گروپ ماضی میں اس طرح کے ناکام تجربات کی توجیہ پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انہیں چلانے والے کوگ غلط تھے، لیکن اب کوئی تبدیلی آئی تو درست سمت میں چلے گی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ تجربوں سے کوئی نہیں سیکھتا، ہر کوئی خود کڑوا پھل کھانا چاہتا ہے۔ فی الحال موجودہ سیٹ اپ کے بڑے صاحب مکمل طور پر نیوٹرل ہیں، دونوں نقطہ ہائے نظر کے مابین جاری کشمکش ان کے علم میں ہے، توقع ہے کہ وہ موجودہ نظام کے چلنے کی حمایت کریں گے لیکن اگر نظام نے کک اسٹارٹ نہ لیا تو پھر اللہ جانے اصل فیصلہ ساز کیا فیصلہ کریں گے۔
