سولر صارفین کو اب 11 روپے یونٹ والی بجلی 50 روپے میں ملے گی

نیپرا کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ متعارف کرانے کا فیصلہ محض ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ توانائی پالیسی میں ایک ایسا موڑ ہے جس نے سولر صارفین کے چھکے چھڑا دئیے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کے نظام میں صارف جتنی بجلی گرڈ کو فراہم کرتا تھا، اتنی ہی مقدار اس کے بل سے منہا ہو جاتی تھی، یعنی یونٹ کے بدلے یونٹ کا سادہ، شفاف اور قابلِ فہم فارمولا رائج تھا۔ تاہم نیٹ بلنگ کے نئے نظام میں یہ توازن ختم کر دیا گیا ہے۔ اب سولر صارف اپنی اضافی بجلی تقریباً 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر اسے وہی بجلی 40 سے 50 روپے یا اس سے بھی زائد نرخ پر خریدنا پڑے گی۔ یوں سستی بجلی فروخت کر کے مہنگی بجلی خریدنے کا فرق براہِ راست صارف کی جیب پر اثر انداز ہوگا جس کا خمیازہ اسے بھاری بلوں کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔انرجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی صرف نئے صارفین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین بھی مرحلہ وار نیٹ بلنگ پر منتقل کیے جائیں گے۔ اگرچہ ان کے معاہدے اپنی مقررہ مدت تک برقرار رہیں گے، تاہم انہیں وہ مالی برتری حاصل نہیں رہے گی جو پہلے نیٹ میٹرنگ کے تحت دستیاب تھی۔

ماہرین کے مطابق نیٹ میٹرنگ اورنیٹ بلنگ کے نظام میں بنیادی فرق قیمتوں کے تعین کا ہے۔ نیٹ میٹرنگ کے نظام میں ایکسپورٹ اور امپورٹ یونٹ مائنس ہو جاتے تھے تاہم نیٹ بلنگ کے نظام میں ایسا کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔‘ ’گرڈ سے بجلی لینے پر وہی قیمت ادا کرنی پڑے گی جو نان سولر صارفین کو ادا کرنی پڑتی ہے۔‘اب سولر صارف اپنی اضافی بجلی تقریباً 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرے گا، جبکہ جب وہ گرڈ سے بجلی لے گا تو اسے 40 سے 50 روپے یا اس سے زیادہ فی یونٹ ادا کرنا ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب یونٹ کے بدلے یونٹ کا توازن ختم ہو چکا ہے۔ہر بلنگ سائیکل کے اختتام پر تقسیم کار کمپنی یہ حساب لگائے گی کہ صارف نے کتنی بجلی خود استعمال کی اور کتنی گرڈ کو فراہم کی۔ صارف کو اپنی فراہم کردہ بجلی کی رقم کا کریڈٹ تو ملے گا، مگر اس کی اپنی کھپت کا بل عام مہنگے نرخ پر ہی بنایا جائے گا۔ اگر کسی مہینے میں فراہم کردہ بجلی کی مالیت زیادہ ہو تو اضافی رقم اگلے بل میں ایڈجسٹ یا مخصوص مدت کے بعد ادا کی جائے گی۔

اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی صرف نئے صارفین تک محدود ہے؟ ماہرین کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین بھی مرحلہ وار نیٹ بلنگ پر منتقل کیے جائیں گے۔ اگرچہ ان کے معاہدے اپنی مدت تک برقرار رہیں گے، مگر انہیں پہلے جیسا مالی فائدہ حاصل نہیں رہے گا۔ دوسری جانب ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے گرڈ سے بجلی کی کھپت کو متوازن کرنے اور مزید مالی خسارے سے بچنے کیلئے نیٹ بلنگ کا نظام تو متعارف کروایا گیا ہے تاہم اس پالیسی کے فوائد محدود دکھائی دیتے ہیں۔ نیٹ بلنگ کے بعد سولر صارفین بیٹری سسٹمز کی طرف زیادہ تیزی سے مائل ہو سکتے ہیں۔ اگر صارف اپنی پیدا کردہ بجلی ذخیرہ کر کے خود استعمال کرنے لگے تو گرڈ پر انحصار مزید کم ہو سکتا ہے۔ یوں وہ مقصد، جس کے تحت نیٹ بلنگ متعارف کرائی گئی ہے، یعنی گرڈ سے کھپت میں اضافہ، شاید حاصل نہ ہو سکے۔ ماہرین کے بقول اگر بیٹری ٹیکنالوجی مزید سستی ہو گئی تو ممکن ہے کہ گھریلو صارفین جزوی یا مکمل طور پر گرڈ سے الگ ہونے کا راستہ اختیار کریں، جس سے توانائی کا نظام مزید دباؤ میں سکتا ہے۔

جہاں ایک طرف حکومت نے سولر صارفین پر پالیسی بم گرا دیا ہے وہیں دوسری جانب کم بجلی استعمال کرنے والے بجلی صارفین کا بھی رگڑا لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔نیپرا نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کے بعد پروٹیکٹڈ صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد کرنے اور کراس سبسڈی کو کم کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔جس سے کم یونٹس استعمال کرنے والے صارفین بھی اضافی بوجھ کی زد میں آ سکتے ہیں۔

تجویز کے مطابق ماہانہ 100 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے جبکہ 200 یونٹ استعمال کرنے والوں پر 300 روپے فکسڈ چارجز عائد کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح 100 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 275 روپے اور 200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں پر 300 روپے فکسڈ چارجز کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید برآں حکام کے مطابق 300 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 350 روپے، 301 سے 400 یونٹ تک پر 400 روپے اور 401 سے 500 یونٹ استعمال کرنے والوں پر 500 روپے فکسڈ چارجز عائد کرنے کی سفارش زیر غور ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ زیادہ یونٹس استعمال کرنے والے بعض صارفین کے لیے فکسڈ چارجز میں ردوبدل کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔ ماہانہ 600 یونٹ استعمال پر فکسڈ چارجز 75 روپے اضافے کے بعد 675 روپے کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 700 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے 125 روپے کمی کے بعد یہ چارجز 675 روپے مقرر کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اسی طرح 700 یونٹ سے زائد استعمال کرنے والوں کے فکسڈ چارجز میں 325 روپے کمی کر کے انہیں بھی 675 روپے پر لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ناقدین کے مطابق یہ ڈھانچہ اس تاثر کو جنم دیتا ہے کہ کم بجلی استعمال کرنے والوں پر نسبتاً زیادہ تناسب سے بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ زیادہ استعمال کرنے والوں کو فکسڈ چارجز میں یکسانیت یا بعض صورتوں میں ریلیف دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو بجلی کے بلوں کا ڈھانچہ مزید پیچیدہ اور عوامی ردعمل کا باعث بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی عام صارف کی قوتِ خرید کو متاثر کر رہی ہے۔

Back to top button