سولر مارکیٹ کریش، سسٹم ڈیڑھ لاکھ روپے سستے ہو گئے

 

موسم تبدیل ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں ایک بار پھر سولر مارکیٹ کریش کر گئی۔ سردی میں اضافہ ہوتے ہی عوام کی جانب سے خریداری کا رجحان سست پڑنے کے بعد پاکستان میں سولر پینل سسٹمز کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پانچ سے 15 کلو واٹ تک کے سسٹمز کی قیمتیں تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے تک کم ہو گئی ہیں، قیمتوں میں کمی کے بعد سولر مارکیٹ میں تیزی ددیکھنے میں آ رہی ہے اور عوام دھڑا دھڑ سولر سسٹم نصب کروا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سولر سسٹمز کی قیمتوں میں سامنے آنے والی کمی عارضی ہے، موسم تبدیل ہونے کے ساتھ ہی سولر سسٹمز کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ متوقع ہے۔ اس لئے صارفین کو حالیہ کمی سے فوری فائدہ اٹھانا چاہیے۔
تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سولر پینلز کی قیمتوں میں کتنی کمی آئی ہے؟ اور قیمتوں میں کمی کے بعد سولر سسٹم کی مکمل تنصیب پر کتنا خرچ آ رہا ہے؟ مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھروں یا دفاتر میں لگائے جانے والے پانچ کلو واٹ سسٹم کی قیمت اس وقت پانچ لاکھ 50 ہزار روپے ہے، جو پہلے چھ لاکھ روپے تھی جبکہ سات کلو واٹ کے سسٹم کی قیمت چھ لاکھ ہو گئی ہے۔ اسی طرح 10 کے وی والا سولر سسٹم، جو پہلے 10 لاکھ 50 ہزار سے 11 لاکھ روپے میں دستیاب تھا، اب نو لاکھ 50 ہزار سے 10 لاکھ روپے کے قریب ہے۔ اسی طرح  15 کے وی والا سولر سسٹم پہلے 14 لاکھ سے 14 لاکھ 50 ہزار روپے میں لگتا تھا، جبکہ اس وقت اس کی قیمت 12 لاکھ 50 ہزار سے 13 لاکھ روپے تک ہو گئی ہے۔تاہم سولر انڈسٹری سے وابستہ دکانداروں کے مطابق شہری اس وقت زیادہ تر وہ سستا سیٹ اپ لگوا رہے ہیں جو تقریباً اڑھائی لاکھ روپے میں دستیاب ہے، اور دن کی روشنی میں 12 گھنٹے تک گھر کے پنکھے، فریج اور دیگر بنیادی برقی آلات چلا سکتا ہے۔ تاجروں کے مطابق یہ سیٹ اپ صارفین کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔
ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ موسم میں خنکی بڑھنے کے بعد سولر پلیٹس کی قیمتوں پر کیا فرق پڑا ہے؟ مارکیٹ ذرائع کے بقول موسمی تبدیلی کی وجہ سے سولر سسٹمز کی قیمتیں تو ضرور کم ہوئی ہیں تاہم سولر پلیٹس کی قیمت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی سولر پلیٹس کی قیمتیں برقرار ہیں۔ مارکیٹ میں اس وقت ٹیئر ون کی کینیڈین سولر پلیٹس 32 سے 34 روپے فی واٹ کے حساب سے فروخت ہو رہی ہیں۔ اسی طرح لونگی کے مختلف سولر پینلز 30 سے 33 روپے فی واٹ میں دستیاب ہیں، جبکہ جنکو سولر کی قیمت تقریباً 31 روپے فی واٹ کے آس پاس ہے اور جے اے سولر پینل کی قیمت 29 سے 32 روپے فی واٹ کے درمیان چل رہی ہے۔
سولر پینلز کے کاروبار سے وابستہ تاجروں اور ماہرین کے مطابق سولر سسٹمز کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بنیادی وجہ موسمی صورت حال ہے۔ سردی کی وجہ سے شہری سولر سسٹم لگوانے میں کم دلچسپی لے رہے ہیں، اور اسی وجہ سے سولر ٹریڈرز نے سسٹمز کی تنصیب پر اپنے منافع کا مارجن جزوی طور پر کم کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے گھروں یا دفاتر میں سولر پینلز لگا کر بجلی پیدا کرنے والے صارفین پر عائد 16 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کو بھی عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ماہرین کے بقول موسم سرما میں سولر سسٹمز کی خریداری نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے،جس کی وجہ سے مختلف کمپنیاں اور بڑی دکانیں اپنی سیل کو بڑھانے کیلئے سولر سسٹمز پر اپنا منافع کم کر دیتی ہیں۔ اگر پہلے سولر پینل سسٹم پر تاجروں یا کمپنیوں کو تین لاکھ روپے تک منافع ہوتا تھا، تو اب انہوں نے اسے وقتی طور پر 30 سے 40 فیصد تک کم کر دیا ہے، جس سے سولر سسٹم لگوانے والے صارفین کو واضح بچت ہو رہی ہے، ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سولر سسٹمز کی تنصیب پر عائد کردہ 16فیصد جی ایس ٹی بھی معطل کر دیا گیا ہے جس کہ وجہ سے بھی سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ملک میں سولر توانائی کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں میں تبدیلیاں اور سولر صارفین کی حوصلہ شکنی کرنے والے اقدامات مارکیٹ پر اثر ڈال رہے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کی دلچسپی کم ہو گئی ہے اور قیمتوں میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

Back to top button