عمران خان کے بیٹے نے بھی پاکستان مخالف مہم شروع کر دی

عمران خان کے بیٹے قاسم خان کو اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے سامنے پاکستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات لگانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے لیے یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس درجہ ختم کروانے کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت کے رہنما اور وفاقی وزرا بھی اس تنقید میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔
تاہم دوسری جانب قاسم خان نے اپنے بیان پر تنازع کے بعد وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے حکومتِ پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام تو عائد کیا، لیکن پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔
ایسے میں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قاسم خان نے درحقیقت کہا کیا۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے سامنے اظہارِ خیال کرتے ہوئے قاسم خان کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور ظلم و جبر کے رجحان پر ’شدید تشویش‘ ہے۔ ان کے مطابق ’ہم ایک منظم مہم دیکھ رہے ہیں جس کا مقصد آبادی کے مخصوص طبقات کو انسانی حقوق سے محروم کرنا اور انہیں خاموش کرنا ہے۔‘
قاسم خان نے کونسل کو بتایا کہ ان کے والد عمران خان تقریباً ایک ہزار دن سے جیل میں ہیں اور وہ تین سال سے زیادہ عرصے سے ان سے ملاقات نہیں کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد ’ایک ایسی حکومت کا مرکزی ہدف ہیں جو اختلاف رائے کو سیاسی اختلاف کے بجائے جرم سمجھتی ہے۔‘ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں ایسی کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے جو سزائے موت کے قیدیوں کے لیے مختص ہوتی ہے، اور یہ حالات غیر انسانی ہیں۔ قاسم خان کے مطابق یہ صورتحال صرف ان کے والد تک محدود نہیں بلکہ ملک میں مجموعی طور پر عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر ’اس ظلم کو فوری طور پر ختم کرایا جائے اور میرے والد سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔‘ ان کی ایک منٹ سات سیکنڈ کی تقریر اقوام متحدہ کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی دستیاب ہے۔
دوسری جانب حکومتِ پاکستان کا موقف اس سے مختلف ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق عمران خان کوئی سیاسی قیدی نہیں بلکہ انہیں کرپشن کے دو مقدمات میں مجموعی طور پر 14، 14 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ اسی بنیاد پر جیل میں ہیں۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کے ساتھ اس سے بہتر سلوک کیا جا رہا ہے جیسا وہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بطور وزیراعظم کیا کرتے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان کو جیل میں عام قیدیوں کے مقابلے میں بہت بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ادھر عمران خان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے قاسم خان کی تقریر کے کلپس سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے جی ایس پی پلس درجہ ختم کرنے کی بات کی۔ اس سلسلے میں ایک ویریفائیڈ مگر متنازع اکاؤنٹ، جو عمران خان کی بہن کے نام سے منسوب ہے، نے بھی ایسی ہی پوسٹ شیئر کی، حالانکہ ماضی میں نورین خانم کے نام سے منسوب اس اکاؤنٹ کو تحریک انصاف جعلی قرار دے چکی ہے۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسی تناظر میں بیان دیا ہے کہ اگر قاسم خان واقعی اپنے والد کے لیے فکر مند ہیں تو انہیں یورپی یونین سے پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ ختم کروانے کی مہم چلانے کے بجائے پاکستان آنا چاہیے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن پی ٹی آئی نے ماضی میں بھی جی ایس پی پلس درجہ واپس لینے کی بات کی تھی، جس سے ایکسپورٹرز کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ حکمران جماعت کے رہنما محسن رانجھا نے بھی قاسم خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے خلاف بات کرنا قابل مذمت ہے اور اس سے ملک کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر ایک دوسرا مؤقف بھی سامنے آیا ہے، جہاں متعدد صارفین یہ وضاحت کر رہے ہیں کہ قاسم خان نے اپنی تقریر میں جی ایس پی پلس کا ذکر تک نہیں کیا اور ان پر لگایا جانے والا یہ الزام درست نہیں۔
عمران کے بیٹے نےپاکستان مخالف عناصرسےمدد مانگ لی
دوسری جانب تحریک انصاف سے منسلک پلیٹ فارمز پر جاری ویڈیوز میں جی ایس پی پلس کا ذکر ضرور موجود ہے، تاہم اس میں بھی اس درجہ کو ختم کرنے کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آتا۔ ایک ویڈیو میں قاسم خان کہتے ہیں کہ جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان نے انسانی حقوق کی پاسداری کا وعدہ کیا تھا، اور ان کے بقول موجودہ حالات ان وعدوں کے منافی ہیں۔ اسی ویڈیو میں عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری بھی گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس درجہ برقرار رکھنا چاہیے، اور اگر یہ درجہ واپس لیا گیا تو یہ ملک اور اس کے عوام کے لیے تباہ کن ہوگا۔ البتہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا مؤثر نظام ہونا چاہیے۔
تحریک انصاف کے مطابق قاسم خان اور زلفی بخاری نے اقوام متحدہ کے ایک سائیڈ ایونٹ میں شرکت کے دوران پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس درجہ برقرار رکھنے کی حمایت کی، نہ کہ اسے ختم کرنے کی۔ اس تمام معاملے نے سیاسی اور عوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جس میں حقائق اور الزامات کے درمیان فرق کرنا ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔
