سڑکوں پر آنے یا نہ آنے پر اختلاف،PTIمیں پھوٹ پڑ گئی

پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر داخلی اختلافات کا شکار نظر آ رہی ہے، عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ احتجاجی تحریک نے پارٹی کے اندر موجود دراڑوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جہاں مختلف دھڑے اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ سامنے آ گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق احتجاجی تحریک کے معاملے پر پارٹی قیادت میں پیدا ہونے والی پھوٹ کے بعد پی ٹی آئی کے لیے مستقبل قریب میں کسی بڑی تحریک کا آغاز کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
پارٹی کے ایک مضبوط دھڑے کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی حالات فوری اور بھرپور احتجاجی تحریک کے متقاضی ہیں۔ اس سوچ کے حامل رہنما سمجھتے ہیں کہ اگر اس موقع پر دباؤ نہ بڑھایا گیا تو نہ صرف عمران خان کی رہائی کی کوششیں کمزور پڑ جائیں گی بلکہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی حکومت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گروپ کی جانب سے قیادت پر مسلسل دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ سڑکوں پر آنے کا واضح اور جارحانہ لائحہ عمل اختیار کرے۔ دوسری جانب پارٹی کی موجودہ صوبائی قیادت نسبتاً محتاط حکمتِ عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتی ہے۔ سٹریٹ مہم کے آغاز کے باوجود اس میں تسلسل برقرار نہ رہ سکا، جس پر تنقید میں اضافہ ہوا۔ رمضان المبارک کے دوران سیاسی سرگرمیوں میں وقفے نے بھی اس تاثر کو مضبوط کیا کہ پارٹی کے اندر سمت کے تعین پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔پی ٹی آئی میں موجود ان اختلافات نے محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی سیاست پر بھی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں حکومتی معاملات سست روی کا شکار ہیں، کابینہ کی تشکیل تاحال مکمل نہیں ہو سکی، اور وزرا کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بیوروکریسی پر بڑھتا دباؤ اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی عدم استحکام انتظامی نظام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اس وقت ایک اہم سیاسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ احتجاجی تحریک کی تیاری جاری ہے، تو دوسری جانب پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں حکومتی معاملات اور سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشمکش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر دو واضح سوچیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ ایک گروپ، جس کی قیادت علی امین گنڈا پور سے منسوب کی جا رہی ہے، فوری اور بھرپور احتجاجی تحریک کا حامی ہے۔ اس گروپ کا مؤقف ہے کہ اگر عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر دباؤ نہ ڈالا گیا تو نہ صرف پارٹی کمزور پڑ جائے گی بلکہ خیبر پختونخوا میں حکومت کو برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس گروپ کی جانب سے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر دباؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نسبتاً محتاط حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی ہدایت پر سٹریٹ مہم کا آغاز تو کر رکھا ہئے، تاہم رمضان المبارک کے دوران اس میں وقفہ آنے کے بعد اب اطلاعات یہ ہیں کہ عید کے بعد اس مہم کو دوبارہ تیز کیا جائے گا اور اسے مزید منظم شکل دی جائے گی۔ اسی سلسلے میں “عمران خان رہائی فورس” کے قیام کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس نے پارٹی کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر اختلافات صرف احتجاجی حکمتِ عملی تک محدود نہیں رہے بلکہ حکومتی معاملات بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ کابینہ کی نامکمل تشکیل، وزرا کی محدود سرگرمیاں اور بیوروکریسی پر بڑھتا ہوا دباؤ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پارٹی رہنماؤں کی اندرونی کھینچا تانی نے پی ٹی آءی کی صوبائی حکومت کی انتظامی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے۔ بعض وزرا کی عدم دلچسپی اور مختلف گروپس کی مفاداتی سیاست کے باعث ترقیاتی منصوبے بھی سست روی کا شکار ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے سے یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ فیصلے زمینی سطح کے بجائے اسلام آباد سے کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر اہم شخصیات کی اسلام آباد میں موجودگی اور آن لائن اجلاسوں کے ذریعے حکومتی امور چلانے کا عمل سیاسی مبصرین کے نزدیک غیر معمولی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صوبہ سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ادھر پارٹی رہنماؤں کے بیانات نے بھی اس داخلی بحران کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ بعض رہنما کھل کر اندرونی سازشوں اور گروپ بندی کا ذکر کر رہے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اختلافات اب پس پردہ نہیں رہے بلکہ کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف پارٹی کارکنوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی تشویش بڑھا دی ہے۔
ناقدین کے مطابق اگرچہ عید کے بعد پی ٹی آئی قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے جاری تحریک کو تیز کرنے کا عندیہ دے رہی ہے، تاہم موجودہ اندرونی اختلافات اس تحریک کی سمت اور شدت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں جبکہ ملکی اور علاقائی حالات بھی ایسی کسی بڑی تحریک کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر پی ٹی آئی اس وقت ایک دوہری آزمائش سے گزر رہی ہے۔ایک طرف بیرونی سیاسی دباؤ کی وجہ سے پی ٹی آئی کیلئے سیاسی راہیں مسدود ہوچکی ہیں جبکہ دوسری جانب اندرونی تقسیم نے پارٹی کیلئے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا پارٹی اپنی صفوں میں اتحاد قائم کر کے ایک مؤثر سیاسی حکمتِ عملی اختیار کر پاتی ہے یا یہ اختلافات اس کی سیاسی قوت کو مزید کمزور کر دیتے ہیں اور عمران خان کی رہائی کیلئے چلائی جانے والی کوئی بھی نئی احتجاجی تحریک پی ٹی آئی کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتی ہے۔
