پاکستان کو ’ہارڈ سٹیٹ‘ بنانے کا بیان، آرمی چیف نے کس کو کیا پیغام دیا ؟

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے پاکستان کو ’ہارڈ سٹیٹ‘ بنانے کا بیان ملک کے سیاسی، صحافتی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے آرمی چیف کی جانب اس بیان کو معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ہارڈ سٹیٹ بنانے کا بیان دراصل عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا اعلان ہے۔ پاکستان کو ہارڈ سٹیٹ بنانے کا اعلان کر کے عسکری قیادت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان میں اب شرپسندوں اور ان کے سہولت کاروں کیلئے کوئی جگہ نہیں۔

خیال رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے بیان میں کہا گیا ہے، ”ہمیں بہتر گورننس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ہارڈ سٹیٹ بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم کب تک سافٹ سٹیٹ کی طرح بے شمار جانیں قربان کرتے رہیں گے؟‘‘جنرل منیر نے مزید کہا، ”ملک کی سلامتی سے بڑھ کر کوئی ایجنڈا، تحریک یا شخصیت نہیں۔ پائیدار استحکام کے لیے قومی طاقت کے تمام عناصر کو ہم آہنگی سے کام کرنا ہو گا۔‘‘

آرمی چیف کے بیان کے بعد جہاں حکومت کے حامی اور مخالفین اس بیان کی اپنی اپنی تشریح پیش کر رہے ہیں۔ وہیں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ہارڈ اسٹیٹ ہوتی کیا ہے اور کیا ہارڈ سٹیٹ میں بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہو جاتے ہیں؟ ماہرین سیاسیات کے مطابق ہارڈ اسٹیٹ ایک مضبوط مرکزی اتھارٹی، سخت قوانین اور قومی سلامتی کو شہری آزادیوں پر ترجیح دینے والی ریاست ہوتی ہے، جو فیصلہ کن اقدامات اور طاقت کے ذریعے مسائل حل کرتی ہے۔ یہ ریاست سخت طرزِ حکمرانی کے ذریعے داخلی و خارجی خطرات سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی خصوصیات رکھتی ہے۔ماہر سیاسیات ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے مطابق ‘ہارڈ سٹیٹ سادہ الفاظ میں اپنے مخالفین یا نقصان پہنچانے والوں سے سختی سے پیش آتی ہے اور لچک کی بجائے طاقت سے مسائل حل کرتی ہے۔‘‘ لیکن انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ”موجودہ دور میں مسائل کا سختی سے حل ممکن نہیں۔ اس حوالے سے اعلان کرنا آسان ہے تاہم عملدرآمد بہت مشکل ہے۔ حسن عسکری کے مطابق ابھی اس حوالے سے واضح نہیں کہ کس کے ساتھ کتنی سختی کا ارادہ ہے، لیکن ریاست طاقت کے استعمال میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے۔‘‘

کئی مبصرین آرمی چیف کے بیان کے بعد بلوچستان اور دیگر شورش زدہ علاقوں میں فوجی آپریشن کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔ سینئر صحافی امتیاز عالم کے مطابق”پاکستان پہلے ہی سکیورٹی سٹیٹ بن چکا ہے۔ حقیقی معنوں میں ملک میں آئین معطل ہے۔ عدلیہ دباؤ میں ہے، میڈیا آزاد نہیں اور ہائبرڈ نظام رائج ہے۔ مقتدر طاقتیں ریاست کو اور کتنا سخت بنائیں گی؟‘‘ان کا مزید کہنا تھا، ”بلوچستان میں 20 سال سے آپریشن ہو رہے ہیں، کیا مزاحمت ختم ہوئی، بغاوت کم ہوئی؟ مزید سختی سے بہتر ہے کہ اعلانیہ مارشل لا لگا دیں۔‘‘

بلوچستان اور KPKمیں گرینڈ فوجی آپریشن کا مطالبہ زور کیوں پکڑنے لگا؟

آرمی چیف کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بحث جاری ہے۔ حکومت کے حامی اس بیان کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اسے تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق”ملکی ادارے بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کی نیت پر شک نہیں کیا جانا چاہیے‘‘”افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی اور بلوچستان میں غیر ملکی ایجنسیوں کے کھیل کو دیکھتے ہوئے آرمی چیف نے درست موقف اپنایا۔ یہ بیان خوشی سے نہیں، بلکہ جوانوں کی شہادتوں کے بعد آیا ہے۔لگتا ہے اب شرپسندوں سے مذاکرات یا نرمی برتنے جیسے الفاظ کم ہی سننے کو ملیں گے۔‘‘ تاہم بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق طاقت کے ذریعے مسائل حل ہونے کی بجائے حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان اکیلا ملک نہیں، جہاں شورش ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ شورش کو صرف طاقت کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا۔ان کا مزید کہنا تھا، ”مشرف نے بلوچوں کو جب یہ کہا کہ تمہیں ایسی جگہ سے ہٹ کیا جائے گا کہ آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا ۔ اس جملے نے وہاں، جو ردعمل پیدا کیا، وہ سب کے سامنے ہے۔‘‘ مبصرین کا مزید کہنا تھا، کوئی بھی محب وطن پاکستانی ریاست دشمن شرپسندوں کو نشان عبرت بنانے کی مخالفت نہیں کر سکتا تاہم حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو ناراض بلوچوں کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی بجائے مذاکرات کے ذریعے ان کے جائز تحفظات ضرور سننے چاہیں۔

Back to top button