آبنائے ہرمز بحران: یو اے ای نے امریکی قیادت میں اقدام کی حمایت کا عندیہ دے دیا

متحدہ عرب امارات نے اشارہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کیلئے امریکا کی قیادت میں ممکنہ عالمی بحری اقدام میں شامل ہونے پر غور کر سکتا ہے۔ یہ عندیہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کی ایک آن لائن تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث آبنائے ہرمز کی سلامتی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔
انور قرقاش کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کی قیادت میں کوئی بین الاقوامی بحری مشن تشکیل دیا جاتا ہے تو یو اے ای اس میں شرکت پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان کسی قسم کے براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود استحکام برقرار رکھنا اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے خلیجی ممالک کی بڑی مقدار میں تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے مبینہ طور پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے اور اس راستے سے گزرنے والے غیر ملکی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسی صورتحال کے پیش نظر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے اپنے بحری جہاز تعینات کریں، تاہم تاحال کسی ملک کی جانب سے واضح رضامندی سامنے نہیں آئی۔
