سندھ میں سٹوڈنٹ یونینز بحال، پنجاب میں پابندی کیوں؟

لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر سینکڑوں طلبا کی جانب سے پنجاب میں سٹوڈنٹس یونینز پر عائد پابندی ختم کرنے کی خاطر دیے گے دھرنے کو تین ہفتے سے زائد گزر چکے لیکن ابھی تک حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ چیئرنگ کراس پر موجود

احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر سندھ حکومت طلبہ یونینز پر عائد پابندی ختم کر سکتی ہے تو پنجاب حکومت ایسا کیوں نہیں کر رہی۔

یاد رہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے حال ہی میں سندھ میں طلباء تنظیموں پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے پابندی کے خاتمے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ڈیڑھ سال پہلے طلبا تنظیموں پر عائد پابندی ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو پایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی کی حکومت طلبہ تنظیموں پر پابندی ختم کر سکتی ہے تو تحریک انصاف کی حکومت اپنے وعدے پر عملدرآمد کیوں نہیں کر رہی۔

طلبہ تنظیموں پر پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والوں کا کہنا ہے تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹ یونینز نہ صرف نواجونوں کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ چھوٹے پیمانے پر طلبا کو تنظیمی معاملات کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کرتی ہیں، اور انہی طلبا تنظیموں سے بڑے بڑے نام پاکستانی سیاست میں قدم جما چکے ہیں، تاہم اب یہ تنظیمیں ایک لمبے عرصے سے پابندی کا شکار ہیں، اور طلبا کی بڑی تعداد ان کی دوبارہ بحالی کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ پنجاب میں طلبا یونینز کی بحالی کیلئے پروگریسو طلبا تنظیم کے زیراہتمام دھرنا چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، اپنے مطالبات کی شنوائی نہ ہونے کے بعد طلبا تنظیموں نے عدالت سے بھی رجوع کا فیصلہ کیا ہے۔

لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس پر دھرنا دیئے طلبا کا کہنا ہے کہ وہ سندھ کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب، جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، وہاں طلبا کا استحصال کیوں کیا جا رہا ہے؟ اور دیگر صوبوں میں حکومت طلبہ یونینز کی بحالی میں کیوں دلچسپی نہیں لیتی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ تین ہفتوں کے احتجاج کے باوجود بھی کسی حکومتی عہدیدار نے اب تک ان کی بات نہیں سنی۔ احتجاجی طلباء کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور انہیں بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے، لہذا انکا احتجاج ختم ہونے والا نہیں، اور وہ اپنا مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

پروگریسیو سٹوڈنٹس کلیکٹو کے صدر قیصر جاوید کا۔کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی، سماجی اور معاشی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، یہ حکومت جو نوجوانوں اور طالب علموں کے نام پر اقتدار میں آئی، انہیں یکسر بھول چکی ہے، قیصر جاوید نے کہا کہ تین ہفتوں سے جاری اس دھرنے نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاست کا طالب علموں کے ساتھ تعلیم اور شہریت کا رشتہ نہیں بلکہ حاکمیت اور لوٹ مار کا ہے۔ پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے رہنما نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ طلبہ سے لی جانے والی ہیلتھ فیس کے بدلے انہیں علاج کی مفت سہولت مہیا کی جائے، انہیں ٹرانسپورٹ کرایوں میں 50 فیصد رعایت دی جائے، ہراسانی کمیٹیوں میں طلبہ کو نمائندگی دی جائے، طلبا کی جبری گمشدگیوں کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز پر پابندی کو 35 سال گزر چکے ہیں، 1983 میں طلبہ یونین کے آخری انتخابات ہوئے تھے، جس کے بعد 1984 میں ان پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں پابندی سے پہلے جامعات اور کالجوں میں طلبہ یونیز کی سرگرمیاں باقاعدہ سالانہ انتخابات کے ذریعے ہوتی تھیں۔

Student unions revived in Sindh why ban in Punjab? video

Back to top button